Ad3

جنوری 17 تاریخ کے حوالے سے

آج سال کا 17 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 348 دن باقی ہیں ۔

1340 کو انگلینڈ کے شاہ ایڈروڈ سوم کو فرانس کا بادشاہ بنایا گیا تھا۔
1531 پرتگال کے دارالحکومت لبنان میں زلزلہ سے تیس ہزار لوگوں کی موت۔

1841 کو ہانگ کانگ پر برطانیہ نے باضابطہ قبضہ کیا تھا۔

1885 کو مہدی کے حامی فوجیوں نے خرطوم پر قبضہ کیا تھا۔

1905 میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ’کیولین‘ جنوبی افریقہ کے پریٹوریا میں ملاجس کا وزن 3106 کریٹ تھا۔

1920کو فورڈ موٹر کمپنی کے سابق ایکزی کیوٹیو ہنری لی لینڈ نے لن کولن موٹر کمپنی کو اس کے سابق مالکان کے فروخت کرنے کے بعد لانچ کیا تھا۔

1929 انڈین نیشنل کانگریس نے ملک کی آزادی کو اپنا مقصد بنایا۔

1950 فیڈرل کورٹ آف انڈیا کو سپریم کورٹ بنایا گیا۔

1950 میں اترپردیش کے سارناتھ میں واقع اشوک استمبھ کے شیروں کو قومی نشان کے طورقبول کیا گیا۔

1965انڈیا میں  ہندی کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔

1972انڈیا نے دہلی کے انڈیا گیٹ پر قومی یادگار ’امر جوان‘ کا قائم

 1981انڈیا’وایو دوت‘ ہوائی سروس کا آغاز

1999 بہار کے جہان آباد میں رنویر سینا نے 21 دلتوں کو قتل کیا۔2001 گجرات میں آئے زلزلہ سے تقریباََ18ہزار افراد لقمہ اجل۔

1961 کو امریکی جان ایف کینڈی نے جینٹ جی ٹریول کی فزیشین کے طور پر تقرری کی تھی۔ پہلی بار کسی خاتون کو اس عہدہ پر تقرر کیا گیا تھا۔

1980 اسرائیل اور مصر نے سفارتی تعلقات قائم کئے۔

1991 میں صومالیہ کی محمد سید بارے حکومت کو معزول کردیا گیا۔

1992 کوروسی صدر بورس یلتسن نے روسی ایٹمی ہتھیار کو ہٹالینے کا اعلان کیا جو ان ہتھیاروں کے نشانے پر امریکہ کے کئی شہر تھے۔

1993 کو ویکلیو ہیویل چیک جمہوریہ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

1996 میں امریکی سینٹ نے روس کے ساتھ نیوکلیائی ہتھیار اورمیزائل کی دوڑ کم کرنے سے متعلق سمجھوتے ’اسٹارٹ۔2‘ کوا منظوری دی۔

2001 کو ایک پچاس سال پرانا ڈگلس ڈی سی 3 وینزولا میں حادثہ کا شکار ہوگیا تھا اس میں سوار 24 لوگ مارے گئے تھے۔

2004 کوافغانستان کے صدر حامد کرزئی نے افغانستان کے نئے آئین پر دستخط کیا تھا۔

 2005 کو کیلی فورنیا میں لاس انجلس کے نزدیک دو ٹرینوں کی ٹکر میں 11 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

2005 کوعراق میں امریکی ہیلی کاپٹر حادثہ میں 13 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ کہا جاتا ہیاس کو وہاں کے جنگجووَں نے نشانہ بنایا تھا

 1559ء فرانس کے راجہ ہنری چہارم نے اسپین کے ساتھ لڑائی کا اعلان کیا۔

 1601ء مغل بادشاہ اکبر آٹھ مہینے کے محاصرہ کے بعد برہان پور کے پاس اسیر گڑھ قلعے میں داخل ہوئے۔

  1852ء برطانیہ نے جنوبی افریقہ میں ٹرانسوال کی آزادی تسلیم کی۔

 1899ء امریکہ نے بحرالکاہل میں ویک جزیرہ پر قبضہ کیا۔

 1919ء کلسیکی پیانو نواز اگنیسی جان پڈیر وسکی پولینڈ کے وزیر اعظم بن گئے۔

 1928ء صرف تین روز کی حکومت کے بعد افغانستان کے شاہ عنایت اللہ کا تختہ پلٹا۔

1928ء پہلی آٹومیٹک فوٹو گرافک فلم ڈیولپنگ مشین کا پیٹنٹ کرایا گیا۔

 1941ء سبھاش چندر بوس بھارتی آزادی پسند، کلکتہ میں روپوش ہو گئے، ماسکو کے راستے جرمنی کیلئے نکل بھاگے۔

 1945ء سوویت فورسز نے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا پر قبضہ کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

 1946ء اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔

 1948ء نیدرلینڈز اور انڈونیشیا جنگ بندی پر رضامند ہوئے۔

 1951ء جنرل ایوب خان نے برطانوی جنرل گریسی کی جگہ افواج پاکستان کے کمانڈر ان چیف کا عہدہ سنبھالا۔ پاکستان کی بری فوج کے تیسرے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 14 مئی 1907ءکو ضلع ہزارہ کے گاﺅں ریحانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ءمیں میٹرک کرنے کے بعد علی گڑھ چلے گئے۔ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ (انگلستان) سے فوجی تعلیم حاصل کی اور 1928ءمیں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایوب خان نے برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ 1947ءمیں کرنل کے عہدے پر ترقی ملی‘ قیام پاکستان کے بعد انہیں بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ دسمبر 1948ءمیں وہ میجر جنرل بنا دیے گئے اور ان کی تعیناتی مشرقی پاکستان کردی گئی۔ 1950ءمیں وہ ایڈجیوننٹ جنرل (Adjutant General) بنا ئے گئے اور 17 جنوری 1951ءکو پاکستان کی بری افواج کے پہلے پاکستانی اور مسلمان کمانڈر انچیف کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انیس سو چون میں جب محمد علی بوگرانے گورنر جنرل کی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں اسکندر مرزا اور ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ یوں جنرل ایوب خان پاکستان کے وزیر دفاع بن گئے۔ 1958ءمیں جب ملک میں طوائف الملوکی اپنے عروج پر پہنچ گئی تو اسکندر مرزا نے 8 اکتوبر 1958ءکو ملک میں مارشل لا نافذ کردیا اور آئین کو معطل کردیا۔ جنرل ایوب خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پرفائز ہوئے۔24 اکتوبر 1958ءکو جنرل ایوب خان وزیر اعظم بنا دیے گئے لیکن فقط تین دن بعد 27 اکتوبر 1958ءکو انہوں نے صدر اسکندر مرزا کو معزول کرکے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات سنبھال لیے۔صدر ایوب خان نے نہایت تیزی سے ملکی صورتحال کو سنبھالا انہوں نے فوجی اسپرٹ سے رات دن کام کرکے ملک میں کئی مفید اصلاحات نافذ کیں ۔ 27 اکتوبر 1959ءکو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کردیا گیا۔ 17 فروری 1960ءکو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ 8 جون 1962ءکو انہوں نے مارشل لا کے خاتمے اور صدارتی طرز حکومت کے نئے آئین کے نفاذ کا اعلان کیا۔جنوری 1965ءمیں ملک میں ایک مرتبہ پھر بنیادی جمہوریت کے نظام پر مبنی صدارتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں ایوب خان نے کامیابی حاصل کی۔ ستمبر 1965ءمیں جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پوری قوم ایوب خان کی قیادت میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ حملہ آور پڑوسی ملک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوگئی۔ جنوری 1966ءمیں تاشقند کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔پاکستان کے عوام میں اس معاہدے سے بڑی بددلی پھیلی۔ 1968ءمیں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہدِ حکومت کو دس سال مکمل ہوئےاور ملک میں عشرہ اصلاحات منایا گیا تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے خلاف تحریکِ جمہوریت کا آغاز کردیا۔ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کا آغاز ہوا۔ 25 مارچ 1969ءکو ایوب خان نے ملک کی باگ ڈور جنرل یحییٰ خان کے سپرد کردی اور خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان20 اپریل 1974ءکو اسلام آباد میں وفات پاگئے اور اپنے آبائی گاﺅں ریحانہ میں دفن ہوئے۔ ایوب خان مرحوم نے اپنی سوانح عمری فرینڈز ناٹ ماسٹرزکے نام سے تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی ڈائریوں کے مندرجات بھی ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔ ۔

 1951ء چین نے کوریا میں جنگ بندی سے انکار کیا۔

 1969ء خلائی گاڑی سوئز 5 زمین واپس آئی۔

1979ء سابق سوویت یونین (یو ایس ایس آر) نے زیر زمین نیوکلیائی تجربہ کیا۔

 1981ء بھارتی سرکار نے میزورم کو مکمل ریاست کا درجہ دیا۔

1984ء کرنل جے کے بجاج قطب جنوبی پر پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بنے۔

1987ء بھارت میں ٹاٹا فٹبال اکادمی کا قیام عمل میں آیا۔

 1983ء نائجیریا نے دو لاکھ غیر ملکی افراد کو ملک بدر کیا۔

1991ء خلیجی جنگ میں امریکہ نے عراق کے خلاف آپریشن ڈیزرٹ اسٹورم شروع کر کے فضائی اور میزائل حملے شروع کئے۔

 1994ء امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں 6.6 کی شدت کے آئے زلزلہ سے ساٹھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ شہر کو تیس بلین کا مالی نقصان ہوا۔

 1995ءجاپان کے شہر کوبے میں 7.3 شدت کے آئے ہولناک زلزلہ سے 6434 افراد لقمہ اجل بنے۔ اور بڑی تعداد میں مالی نقصان ہوا۔

 1998ء پاولا جانسن نے امریکی صدر بل کلنٹن پر جنسی استحصال کا الزام لگایا۔

 2008ء پشاور کے علاقے کوہاٹی میں واقع امام بارگاہ میں خودکش حملہ، 10 افراد شہید ہو گئے۔

2013 ء۔۔اسلام آباد میں زرداری حکومت اور طاہر القادری کے درمیان انتخاباتی اصلاحات کا معاہدہ طے پایا ۔اور طاہر القادری کا پہلا 3 روزہ دھرنا ختم ہوا۔

2016ء عالمی ادارہ برائے نیوکلیائی توانائی اور یورپی اتحاد نے ایران کے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے لئے تمام ضروری اقدامات پورے کرنے پر عائد بین الاقومی پابندیاں اٹھا لیں

17جنوری2002ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے عظیم شاعروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا ایک ڈاک ٹکٹ سمندر خان سمندر کی یاد میں جاری کیا ۔ اس ڈاک ٹکٹ پر سمندر خان سمندرکا ایک خوب صورت پورٹریٹ شائع کیا گیا تھا۔ دو روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ جناب مسعود الرحمٰن نے ڈیزائن کیا تھا اور اس پر انگریزی میں POETS OF PAKISTANاور SAMANDAR KHAN SAMANDR (1901-1990)کے الفاظ تحریر تھے۔
۔

ولادت

 1630ء حضرت سلطان العارفین سخی سلطان باہو ؒ ، سلطان العارفین سلطان الفقر کے نام سے شہرت رکھنے والے عظیم صوفی بزرگ شاعر (وفات: 1691ء)

 1706ء بن یمین فرینکلن ، امریکی ادیب، سیاست دان، سائنس دان، تاجر، ناشر، پوسٹ ماسٹر اور سفارتکار (وفات: 1790ء)

 1829ء کیتھرین بوتھ ، برطانوی الہیات دان ، سپاہ نجات کی شریک بانی اور ولیم بوتھ کی بیوی تھی۔ سپاہ نجات کے قیام میں اس کی خدمات کے صلہ میں اسے ”مادرِ سپاۂ نجات“ کہا جاتا ہے۔ (وفات: 1890ء)

 1860ء انتون پاؤلاو چ چیخوف ، روس کا افسانہ نویس اور ڈراما نگار، طبیب،  ناول نگار،  صحافی، ڈرامائی مشیر، مصنف (وفات: 1904ء)

 1888ء گلاب رائے، ہندی نقاد اور مؤرخ

 1906ء سید جلال الدین بمعروف حیدر دہلوی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر ، وہ شاعروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو داغ و مجروح کی تربیت یافتہ نسل تھی۔ خمریات کے موضوعات کی مضمون بندی میں انہیں کمال حاصل تھا اسی لیے ارباب ہنر نے انہیں خیام الہند کے خطاب سے نوازا تھا۔ (وفات: 1958ء)

 1911ء جیورج سٹگلر ، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1982ء) یافتہ امریکی ماہرِ معاشیات (وفات: 1991ء)

 1917ء ڈاکٹر ایم جی رام چندرن، وزیراعلٰی تمل ناڈو اور AIADMK کے بانی، سری لنکا کے کینڈی میں پیدا ہوئے۔

1921ء اصغر خان ، پاکستانی عسکری مؤرخ، جنگ مخالف کارکن، فلائیٹ پائلٹ، سیاست دان ، پاک فضائیہ کے (1957ء تا 1965ء) پہلے کمانڈر انچیف ، ائیر مارشل (وفات: 2018ء)

 1930ء ہاجرہ مسرور ،  تمغائے حسن کارکردگی (1995ء ) اور عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن و حقوق نسواں کی علمبردار مصنفہ (وفات: 2012ء)

 1931ء جیمز ارل جونز، امریکی اداکار و صداکار

 1933ء پِرنس صدرالدین ، شعبۂ انسانی حقوق کا اقوام متحدہ انعام (1978ء) یافتہ سوئیٹزر لینڈ و فرانسیسی سیاست دان و سفارت کار ، (1965ء تا 1977ء) اقوامِ متحدہ کے سابق ہائی کمشنر برائے پناہ گزین اور اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا آغا خان سوئم کے فرزند اور موجودہ پرنس کریم آغا خان کے چچا۔ تقریباًً چالیس برس تک اقوامِ متحدہ سے وابستہ رہے اور اس کے دفاع اور ماحولیات جیسے مسائل پر تمام عمر کام کرتے رہے۔  (1988ء تا 1990ء) افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور انسانی امداد کے کوآرڈینیٹر رہے۔ مرحوم اسلامی آرٹ کے بڑے شوقین تھے اور ان کے پاس قرآن کریم کے نادر نسخوں کے علاوہ ترکی، ایران اور بھارت میں بنائے گئے کئی اور آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔ امریکا کے شہر بوسٹن میں ان کا انتقال ہوا۔ (وفات: 2003ء)

 1939ء انٹاؤ ڈی سوزا ، (1959ء تا 1962ء) پاکستانی کرکٹر

 1945ء جاوید اختر ، بھارتی کہانی کار، منظر نامہ نگار، گیت کار، مصنف اور سیاستدان ہیں۔ ان کی اہلیہ شبانہ اعظمی، خسر کیفی اعظمی اور خوش دامن شوکت اعظمی ہیں۔

 1949ء اینڈی کوفمین، امریکی مزاح کار

 1951ء بندو ، بھارتی فلمی اداکارہ

 1962ء منصور آفاق ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر، ادیب، ڈراما نگار، ادبی تنقید نگار و صحافی

 1962ء جِم کیری، کینیڈین اداکار

 1963ء تان خینگ ہوا ، سنگاپوری اداکارہ

 1964ء مشعل لا ویگن رابنسن بمعروف مشعل اوبامہ ، امریکی وکیل، مصنفہ، استاد جامعہ و سیاست دان  ، (20 جنوری 2009ء تا 20 جنوری 2017ء) امریکی خاتون اول

 1980ء زوئی ڈیسچینل، امریکی اداکارہ و گلوکارہ

 1984ء ایڈم رچرڈز وائلز بمعروف  کیلوین ہیرس ، ایک اسکاٹش گیت ساز، ڈی جے، گلوکار اور گیت نگار

 1987ء اولیکساندر اوسیک ، یوکرینی پیشہ ور مکے باز

 1988ء مسرور نواز جھنگوی ، پنجاب اسمبلی کے حلقے PP-79 جھنگ سے آزاد امیداوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے بعدازں جمعیت علماء اسلام ف گروپ کا حصہ بنے۔

 1925ء عبدالحفیظ کاردار،  پاکستان کے نامور ٹیسٹ کرکٹرعبدالحفیظ کاردار 17 جنوری 1925ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے تین ٹیسٹ میچوں میں بھارت کی نمائندگی کی اور پھر 1952ء سے1958ء کے دوران انہوں نے 23 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی جن میں چھ میچ جیتے، چھ ہارے اور گیارہ ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے۔ عبدالحفیظ کاردار نے کچھ وقت سیاست کے میدان میں بھی گزارا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن بھی رہے اسی دوران انہیں پنجاب کے وزیر تعلیم کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع بھی ملا۔21 اپریل 1996ء کو عبدالحفیظ کاردار لاہور میں وفات پاگئے۔میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔۔



1942ء محمد علی، سابق امریکی مکے باز۔٭17 جنوری 1942ء دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کی تاریخ پیدائش ہے۔ محمد علی کا اصل نام کیسیس کلے تھا۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر وہ سونی لسٹن کو شکست دے کر عالمی ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن بننے میں کامیاب ہوگئے تو وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور 1964ء میں جب عالمی ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن بنے تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان کا اسلامی نام محمد علی رکھا گیا۔ محمد علی نے باکسنگ کی عالمی چیمپئن شپ تین مرتبہ جیتی ۔ 2000ء میں انہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑا کھلاڑی قرار دیا گیا۔آپ کا انتقال 03 جون 2016 کو ہوا۔

1094ء۔۔جی ایم سید۔ سندھ کے ممتاز قوم پرست رہنما جی ایم سید کا اصل نام غلام مرتضیٰ سید تھا اور وہ 17 جنوری 1904ء کو سن کے مقام پر پیدا ہوئے۔ جی ایم سید کا تعلق سندھ کے سادات کے مشہور گھرانے مٹیاری سادات سے تھا۔ ابھی وہ شیرخوار ہی تھے کہ خاندانی تنازع کی بنا پر ان کے والد کو قتل کردیا گیا۔جی ایم سید نے ابتدائی تعلیم سن ہی میں حاصل کی۔ 1920ء میں جب ان کی عمر سولہ برس تھی انہوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز تحریک خلافت سے کیا۔ 1937ء میں وہ پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن بنے۔ 1938ء میں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکی۔ 1942ء میں سر حاجی عبداللہ ہارون کی وفات کے بعد وہ سندھ مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔ اسی حیثیت میں انہوں نے سندھ اسمبلی میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی قرارداد بھی پیش کی۔
مگرکچھ ہی دنوں بعد انہیں اختلافات کی بنا پر مسلم لیگ سے خارج کردیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد جی ایم سید نے حزب اختلاف کی سیاست اختیار کی۔ 1948ء میں انہوں نے خان عبدالغفار خان کے ساتھ پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی آف پاکستان قائم کی، 1948ء میں انہوں نے کراچی کی سندھ سے علیحدگی  اور 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے خلاف تحریک چلائی جس کی بنا پر انہیں قید و بند کی صعوبت برداشت کرنی پڑی۔ 1956ء میں انہوں نے نیپ کے قیام میں فعال حصہ لیا۔ 1970ء میں انہوں نے آخری مرتبہ عام انتخابات میں حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اسی زمانے میں انہوں نے جئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد بھی ڈالی۔جی ایم سید ایک کثیر المطالعہ اور کثیر التصانیف سیاستدان تھے۔ انہوں نے سندھی، اردو اور انگریزی میں متعدد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ جی ایم سید کی سیاست سے اختلاف اور اتفاق رکھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ ہمیشہ موجود رہا۔
جی ایم سید نے زندگی کا بیشتر حصہ قید و بند میں گزارا۔ ان کی آخری نظربندی کا سلسلہ ان کی وفات سے فقط چند روز پہلے ختم ہوا تھا۔25 اپریل 1995ء کو جی ایم سید انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 91 برس تھی۔

1949ء اینڈی کوفمین، امریکی اداکار۔

1497 کوجاپان کے بادشاہ گونارہ کی پیدائش ہوئی تھی۔



1992 ہندی سنیما کے مقبول اداکار بھرت بھوشن کی پیدائش۔

1915 ناگالینڈ کی رانی اور عظیم  گڈالو کی پیدائش۔

وفات۔

 951ء محمد بن ترخان ابو نصر بمعروف ابو نصر فارابی ، بخارا میں رہائش پذیر ایرانی فلسفی، طبیعیات دان، موسیقی کا نظریہ ساز (پیدائش: 872ء)

1041ء مسعود غزنوی ، سلنت غزنویہ کاعسکری قائد اور (1030ء تا 1041ء) تیسرا فرمانروا (پیدائش: 998ء)

 1369ء پطرس اول شاہ قبرص ، شاہ قبرص کا حکمران تھا۔ وہ محض خطابی طور شاہ یروشلم بھی تھا۔ فوجی کامیابیوں کے لحاظ یہ قبرص کے عظیم تر حکمرانوں میں سے ایک تھے اور ان کے دور حکومت میں کافی فتوحات دیکھی گئی تھی۔ مگر کئی منصوبوں کی تکمیل کا ارادہ رکھنے کے باوجود بھی وہ انہیں روبعمل نہیں لا سکے۔ اس کی وجہ داخلی تنازعات تھے۔ داخلی بے امنی اس حد بڑھی ہوئی تھی کہ پطرس کو خود ان ہی کے تین وفاداروں نے ہلاک کر دیا۔ (پیدائش: 1328ء)

 1893ء ردرفورڈ بی ہیز ، امریکی وکیل، سیاست دان، فوجی افسر، ریاست کار ، (4 مارچ 1877ء تا 4 مارچ 1881ء) 19واں امریکی صدر (پیدائش: 1822ء)

 1930ء  انجلینا ییوارڈ بمعروف گوہر جان ، ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ ۔ وہ گراموفون کمپنی آف انڈیا کے 78 آر پی ایم ریکارڈ پر کے لیے گانا ریکارڈ کروانے والی پہلی ہندوستانی گلوکارہ ہیں۔ انہوں نے 'کلکتہ کی پہلی رقاصہ' کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ (پیدائش: 1873ء)

1988ء لیلا مشرا ، بھارتی فلم اداکارہ (پیدائش: 1908ء)

 1990ء سمندر خان سمندر ،  صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (1984ء) اور تمغائے امتیاز یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان کے ممتاز ادیب، محقق، شاعر اور مترجم (پیدائش: 1901ء)

 2007ء آرٹ بکوالڈ ، امریکی کالم نگار، مضمون نگار، مصنف، منظر نویس، صحافی (پیدائش: 1925ء)

 2009ء کامل واتسلاو زوے لیبیل ، چیک جمہوریہ سے وابستہ ماہرِ لسانیات، فلسفی، استاد جامعہ، ماہر ہندویات بالخصوص تمل، سنسکرت، دراوڑی لسانیات، ادب اور لفظیات (پیدائش: 1927ء)

1993ء سداشیون کرشن کمار عرف کٹو، بھارتی ایل ٹی ٹی ای کمانڈر، جو مدراس کے ساحل پر جہاز میں آگ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔

 2002ء کمیلو جوز سیلا
 اسپین کے نوبل انعام یافتہ اسپینی باشندہ (پیدائش: 1917ء)

2008ء بابی فیشر، سوویت یونین کے بہترین شاطروں کو شکست دینے والے امریکہ کے واحد عالمی شطرنج چمپین۔

1556مغل بادشاہ ہمایوں کی سیڑھیوں سے گرکر موت ہوئی

1942کوجرمنی کے حساب داں فلکس ہاوَس ڈورف کا انتقال ہوا تھا۔

1961 کو انگلش کرکٹر اسٹن نکولس کا انتقال ہوا تھا۔

1973 کوامریکی ایکٹر ایڈورڈ جی رابنس کا انتقال ہوا تھا۔

2013 ذاکر اہلیبیت چوہدری غضنفر عباس گوندل

2007ء۔۔محسن بھوپالی ٭ اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی کی تاریخ پیدائش 29 ستمبر 1932ء ہے۔ محسن بھوپالی کا اصل نام عبدالرحمن تھا اور وہ بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔ اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی 1993ء تک جاری رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔ محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔ محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔ تلقین صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے 17 جنوری 2007ء کو محسن بھوپالی دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

17 جنوری 1975ء کو پاکستان کے عظیم مصور‘ جناب عبدالرحمن چغتائی لاہور میں وفات پا گئے۔ جناب عبدالرحمن چغتائی 21 ستمبر 1897ء کو لاہور ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق عہد شاہ جہانی کے مشہور معمار احمد معمار کے خاندان سے تھے جنہوں نے تاج محل آگرہ‘ جامع مسجد دہلی اور لال قلعہ دہلی کے نقشے تیار کیے تھے۔ 1914ء میں انہوں نے میو اسکول آف آرٹس لاہور سے ڈرائنگ کا امتحان امتیازی انداز میں پاس کیا اس دوران انہوں نے استاد میراں بخش سے خاصا استفادہ کیا پھر میو اسکول ہی میں تدریس کے پیشے سے منسلک ہوگئے۔ 1919ء میں لاہور میں ہندوستانی مصوری کی ایک نمائش نے ان کی طبیعت پر مہمیز کا کام کیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنے اسکول کے پرنسپل کے مشورے پر اپنی تصاویر کلکتہ کے رسالے ماڈرن ریویو میں اشاعت کے لیے بھیجیں۔ یہ تصاویر شائع ہوئیں تو ہر طرف چغتائی کے فن کی دھوم مچ گئی۔ اسی زمانے میں انہوں نے مصوری میں اپنے جداگانہ اسلوب کی بنیاد ڈالی جو بعد ازاں چغتائی آرٹ کے نام سے مشہور ہوئی۔ 1928ء میں انہوں نے مرقع چغتائی شائع کیا جس میں غالب کے کلام کی مصورانہ تشریح کی گئی تھی۔ یہ اردو میں اپنے طرز کی پہلی کتاب تھی جس کی شاندار پذیرائی ہوئی۔ 1935ء میں غالب کے کلام پر مبنی ان کی دوسری کتاب نقش چغتائی شائع ہوئی۔ یہ کتاب بھی بے حد مقبول ہوئی۔اس کے بعد ہندوستان اور ہندوستان سے باہر چغتائی کے فن پاروں کی متعدد نمائشیں منعقد ہوئیں جن کی فن کے قدر دانوں نے دل کھول کر پزیرائی کی ان کے فن پاروں کے کئی مزید مجموعے بھی شائع ہوئے جن میں چغتائی پینٹنگز اور عملِ چغتائی کے نام بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد عبدالرحمن چغتائی نے نہ صرف پاکستان کے ابتدائی چار ڈاک ٹکٹوں میں سے ایک ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا بلکہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے مونوگرام بھی تیار کیے جو آج بھی ان کے فن کی زندہ یادگار ہیں۔ عبدالرحمن چغتائی ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے لگان اور کاجل شائع ہوچکے ہیں۔       

2014ء۔بوہری جماعت کے رہنما محمد برہان الدین کا انتقال ہوا۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...