آج سال کا 19واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 346 دن باقی ہیں
1966ء وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی مسز اندرا گاندھی بھارت کی پہلی خاتون اور ملک کی تیسری وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔
1986ء ہسپانیہ نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔
1993ء آئی بی ایم نے اپنے نقصان کا اعلان کیا آئی بی ایم کو 1992ء میں 4 اعشاریہ 97 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو امریکی تاریخ میں بد ترین نقصان سمجھا جاتا ہے۔
2005ء سونامی 2004 : ہلاکتوں کی تعداد ۲ لاکھ ۲۶ہزار سے تجاوز کر گئی انڈونیشیا کے حکام کے مطابق صرف انڈونیشیا میں ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد تھی۔
2005ء اسرائیل نے فلسطین کے نئے رہنما محمود عباس سے روابط قائم کرنے کا اعلان کیا۔
2005ء بھارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج نے فائر بندی کا معاہدہ توڑ کر کشمیری سرحد پر مارٹر گولے فائر کئے جبکہ پاکستان نے بھارتی الزام مسترد کیا۔
19جنوری 2011ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد دس کروڑ ہونے کے موقع پرایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا لوگو اور ایک موبائل فون کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں A Success Story 100 Million Cellular Subscribers .... Leading way to promoting telecom Pakistan Telecommunication Authorityکے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کاڈیزائن پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فراہم کیا تھا۔
19 جنوری 2014 : بنوں میں آرمی کے قافلے میں بم دھماکہ 26 فوجی شہید اور 38 زخمی ہوئے.
۔
19 جنوری 1986 : پہلا کمپیوٹر وائرس لاہور(پاکستان) کے فاروق علوی برادرز نے تخلیق کیا
(The first ever computer virus was developed in19 Jan 1986 by two Pakistani brothers in Lahore Pakistan. The first computer virus named "Brain" was designed by Amjad Farooq Alvi and Basit Farooq Alvi with the intention of determining the piracy of a software written by them)
۔
19 جنوری 1986 : اسپين نے اسرائيل کو تسليم کيا
۔
19 جنوری 1981 : ایران امریکہ یرغمالی تنازعہ ایک معاہدے کے بعد ختم ہوا اور 52 امریکی یرغمالیوں کو 14 ماہ قید کے بعد رہا کر دیا گیا۔
۔
19 جنوری 1946 : افغانستان،آئس لينڈ اور سوئيڈن نے اقوام متحدہ ميں شموليت اختيار کي
۔
19 جنوری 1933 : اسپين ميں خواتين کو رائے دہی کے استعمال کا حق ديا گيا
۔
19 جنوری 1824 : روسي شہرسينٹ پيٹرسبرگ ميں سيلاب کے باعث دس ہزار افراد ہلاک ہوئے
۔
19 جنوری 1493 : کرسٹوفر کولمبس نے پورٹو ريکو دريافت کيا ۔ ۔ ۔
19 جنوری 2016 کو جمرود روڈ پر خود کش حملہ میں 10 افراد شہید۔
ولادت
19 جنوری 1964۔یہ تاریخ پیدائش ھے میاں محمد نواز شریف کے داماد اور مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن محمد صفدر ولد محمد اسحاق کی جو مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم مانسہرہ میں حاصل کی۔بعد میں آپ نے پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد سے انٹر کیا تھا۔آپ کی شادی مریم نواز شریف سے 25 دسمبر 1992 کو لاہور میں ھوئ۔
19 جنوری 1964۔یوم پیدائش الشیخ امام سعود بن ابراهيم بن محمد الشريم ۔ مسجد حرام میں امام و خطیب اور مکہ مکرمہ کے عدالت میں بحیثیت قاضی ہیں۔آپ کا تعلق نجد کے شہر شقراء کے قحطان قبیلے سے ہے۔ آپ کا مکمل نام سعود بن ابراھیم بن محمد آل شریم ہےشیخ سعود کا مایۂ ناز قراء میں شمار ہوتا ہے، آپ کی آواز میں درد وسوز ہے ، آپ قرآن کریم کو بروایت حفص پڑھتے ہیں۔ شیخ اپنے متعلق کہتے ہيں کہ انھوں نے ایام شباب میں وقت کو ضآئع نہيں کیا آپ کے بقول آپ نے قرآن مجید کی سورہ نساء کو صرف ٹریفک سگنل کے وقت انتظار کے وقت میں زبانی یاد کیا۔ابتدائي تعلیم مدرسہ عرین میں حاصل کی اور متوسطہ کے لیے مدرسہ نموذجیھ میں داخل لیا۔ اور سال 1404 ھ میں ثانویہ کی تعلیم سے فارغ ہوئے۔
شیخ نے اعلی تعلیم کے لیے ریاض شہر میں واقع امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ عقیدہ و معاصر مذاہب میں داخلہ لیا اور سال 1409ھ میں یہاں سے فراغت حاصل کی۔ سال 1410ھ میں ہائير انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1413ھ میں امتیازی درجات سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ 1416ھ میں میں ام القری یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی امتیازی ڈگری حاصل کی۔پی ایچ ڈی میں آپ کے مقالے کا عنوان (المسالک فی المناسک ) تھا۔ آپ کے اس مقالے کے نگران اعلی شیخ عبدالعزيز آل شیخ مفتی عام مملکت سعودی عرب تھے۔آپ کے اس مقالے کو کتابی شکل میں بڑی تعداد میں چھپایا گیا
مشائخ جن سے آپ نے براہ راست استفادہ کیا:
شیخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ
شیخ عبداللہ بن جبرین رحمہ اللہ
شیخ عبدالعزيز بن عقیل
شیخ عبدالرحمن البراک
شیخ عبدالعزيز الراجحی
شیخ فھد الحمین
شیخ عبداللہ الغدیان
شیخ صالح بن فوزان الفوزان
سال 1410ھ میں آپ ہائيرانسٹی ٹیوٹ آف چسٹس میں مدرس کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔سال 1412ھ میں خادم حرمین شریفین کی جانب سے حرم مکی میں آپ کے امام وخطیب مقرر کیئے جانے کا فرمان جاری ہوا۔جبکہ آپ اس سے پہلے دارالحکومت ریاض میں ایک مشہور امام تھے۔سال 1413ھ میں مسجد حرام میں درس وتدریس کی خدمات کے لیئے آپ کے نام شاہی فرمان جاری ہوا۔حال میں شیخ سعود بن ابراھیم حرم مکی میں امامت وخطابت کے فرائض کے ساتھہ ساتھہ ام القری یونیورسٹی کے شریعہ فیکلٹی میں ڈین اور استاد فقہ کی خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔آپ بہترین انشاء پردازماہر خطیب اور ہمہ گیر منصف بھی ہیں، آپ کے قلم سے دینی موضوعات پر متعدد کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ یہ سب کتابیں عربی زبان میں ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔
کیفیۃ ثبوت النسب
کراما الانبیاء
المھدی المنتظر عند اھل السنۃ والجماعھ
المنھاج للمعتمر والحاج
ومیض من الحرم
خالص الجمان تھذیب مناسک الحج من اضواء البیان
اصول الفقھ سوال وجواب
التحفۃ المکیھ شرح حائیھ ابن ابی داؤد العقدیھ
حاشیھ علی لامیھ ابن القیم
فقھ الخطیب والخطبھ
وبل السحابھ علی نظم الصبابھ فی مدح المدینھ طابھ
المرجعات حول انکار مصطفی محمود احادیث الشفاعات
حرم مکی میں دیئے گئے دروس :
سلسلۃ شرح کتاب کشف الشبھات
اسراج الخیول فی نظم القواعد الاربع والثلاثھ الاصول
النظم الحبیر فی فن واصول التفسیر
سلسلت شرح قصیدۃ حائیھ ابن ابی ابوداود
شاعر ادیب اور نقاد چکبست لکھنوی 19 جنوری 1882ء میں فیض آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے بزرگوں کا وطن لکھنو ہے۔اوائل عمری میں لکھنو آگئے۔ اور رکیتک کالج لکھنو سے 1908ء میں قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کرنے لگے۔ 9 برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا۔ کسی استاد کو کلام نہیں دکھایا۔ کثرت مطالعہ اور مشق سے خود ہی اصلاح کرتے رہے۔ کوئی تخلص بھی نہیں رکھا۔ کہیں کہیں لفظ چکبست پر ، جو اُن کی گوت تھی، اکتفا کیا ہے۔ غالب ؔ، انیسؔ اور آتش ؔسے متاثر تھے۔ شاعری کی ابتداء غزل سے کی۔ آگے چل کر قومی نظمیں لکھنے لگے۔ انھوں نے سیاسی قومی تحریکات ، مسائل اورسانحوں پر پائے کی نظمیں لکھیں۔ کئی مرتبہ چکبست نے اپنے دوستوں ،احباب پ درد مند مرثیے بھی لکھے۔ وہ فقرہ پروری نہیں کرتے تھے اور نہایت دلیری سے اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ لہٰذا ان کی شاعری میں بڑا جمال و کمال ہے۔ نثر میں مولانا شرر سے اُن کا معرکہ مشہور ہے۔ نثر سادہ اور رواں لکھتے تھے۔ایک رسالہ ’ستارۂ صبح‘ بھی جاری کیا تھا۔ ان کا خشک نوعیت کے موضوعات پر بھی وہ دلچسپ پیرائے قلم اٹھاتے تھے، جو قاری کے ذہن و دل پر اثر چھوڑتا تھا۔ کبھی کبھی ان کی نثری تحرروں میں خطیبانہ رنگ بھی چڑھ جاتا تھا۔ وہ طنزیہ مزاح بھی لکھتے تھے۔ چکبست کا مجموعہ کلام‘‘ صبح وطن ‘‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کا انتقال 12 فروری1926ء میں جب وہ ایک مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں بریلی گئے ہوئے تھے اور پھر لکھنو آنے کے لیے بریلی کے ریلوے سٹیشن پر ریل میں سوار ہوئے تو ان پر فالج کا حملہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد سٹیشن پران کا انتقال ہوگیا۔
*وفات*
19 جنوری 1996ء کوپاکستان کے نامور فلمی اداکار لالہ سدھیر لاہور میں وفات پاگئے۔ لالہ سدھیر کا اصل نام شاہ زمان خان تھا اور وہ 25 جنوری 1921ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ لالہ سدھیر کی فلمی زندگی کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم فرض سے ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ہدایت کار شیخ محمد حسین کی فلم ہچکولے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا ، تاہم ان کی اصل شہرت کا آغاز ہدایت کار سبطین فضلی کی فلم دوپٹہ سے ہوا۔اس فلم میں ہیروئن کا کردار ملکہ ترنم نورجہاں نے ادا کیا تھا۔ سدھیر کی دیگر فلموں میں باغی، مرزا غالب، انار کلی، آخری چٹان، سسی، یکے والی، ماہی منڈا، چھوٹی بیگم، چڑھدا سورج، مرزا صاحباں، باغی ، چٹی،سوسائٹی، آنکھ کا نشہ، جان بہار، کرتا ر سنگھ،گڈی گڈا،دلا بھٹی،یار بیلی، جھومر، کالا پانی، عجب خان، ماں پتر، لاٹری ، اَن داتا اور سن آف اَن داتاکے نام سرفہرست ہیں۔ لالہ سدھیر نے 400 سے زیادہ فلموں میں کام کیا اور فلم ماں پتر اور لاٹری میں بہترین اداکاری کے نگار ایوارڈز حاصل کئے۔ 1981ء میں انہیں 30 سالہ فلمی خدمات پر حسن کارکردگی کے خصوصی نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہوں نے فلمی اداکارہ شمی اور زیبا سے شادیاں کی تھیں۔وہ لاہور میں ڈیفنس کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں.
1996ء اوپندر ناتھ اشک اردو افسانہ نگار، ناول نگار، ڈراما نویس بمقام الہ آباد، برطانوی ہندوستان
2013ء مہناز، پاکستانی گلوکارہ
19 جنوری 1984ء کو ہاکی کے مشہور کھلاڑی حبیب الرحمن کراچی میں وفات پاگئے۔ حبیب الرحمن 10 اگست 1925ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انتہائی کم عمری میں ان کا کھیل دیکھ کر عظیم کھلاڑی دھیان سنگھ نے ان کی تعریف کی تھی اور ان کے روشن مستقبل کی پیش گوئی کی تھی۔ حبیب الرحمن نے قیام پاکستان کے بعد 1952 کے ہیلسنکی اور 1956ء میلبرن اولمپکس اور 1958ء کے ٹوکیو کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، وہ انٹرنیشنل امپائر اور پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ بھی رہے تھے.
19 جنوری 2001ء کو پاکستان کے مشہور ایتھلیٹ مبارک شاہ راولپنڈی میں وفات پاگئے اور راولپنڈی ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ مبارک شاہ 1931ء میں میانوالی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق پاکستان کے بری فوج سے تھا اور وہ آنریری کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ 1958ء میں ٹوکیو میں منعقد ہونے والے تیسرے ایشیائی کھیلوں میں انہوں نے تین ہزار میٹر رکاوٹوں والی دوڑ میں طلائی تمغہ جیتا تھا جبکہ 1962ء میں جکارتہ میں ہونے والے چوتھے ایشیائی کھیلوں میں انہوں نے پانچ ہزار میٹر کی دوڑ میں نہ صرف طلائی تمغہ جیتا تھا بلکہ نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا.
2018ء۔۔منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی، پاکستانی ادیب لاہور میں انتقال کر گئے۔منوبھائی کا اصل نام منیر قریشی تھا۔ آپ 6 فروری 1933ء کو وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی امام مسجد تھے، کتابوں کی جلد سازی اور کتابت ان کا ذریعہ معاش تھا۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے دادا سے ہی ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، یوسف زلیخا کے قصے اور الف لیلیٰ کی کہانیاں سنیں، جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔وزیرآباد سے 1947 میں میٹرک کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک) آ گئے جہاں شفقت تنویر مرزا، منظور عارف اور عنایت الہی سے ان کی دوستی ہوئی۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی کا نام بھی احمد ندیم قاسمی نے دیا۔7 جولائی 1970 کو اردو اخبار میں ان کا پہلا کالم شائع ہوا ۔ جس کے بعد انہوں نے مختلف اخبارات میں ہزاروں کالم لکھے۔ غربت، عدم مساوات، سرمایہ دارانہ نظام، خواتین کا استحصال اور عام آدمی کے مسائل منو بھائی کے کالموں کے موضوعات تھے۔آپ پاکستان کے مشہور کالم نویس، مصنف، اور ڈراما نگار تھے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے سونا چاندی، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسےلازوال ڈرامے تحریر کیے۔ ان کا سب سے مشہور ڈراما سونا چاندی ہے۔ 2007ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ آپ 19 جنوری 2018 کو پھیپھڑوں کے مرض کی وجہ سے انتقال کر گئے
تہوار اور تعطیلات
کينيڈا، آسٹريليا، بھارت، جميکا، برطانيہ، سنگاپور، جنوبي افريقہ، مالٹا اور ٹرينيڈاڈ اينڈ ٹوباگو ميں مردوں کا عالمی دن منايا جاتا ہے
1966ء وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی مسز اندرا گاندھی بھارت کی پہلی خاتون اور ملک کی تیسری وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔
1986ء ہسپانیہ نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔
1993ء آئی بی ایم نے اپنے نقصان کا اعلان کیا آئی بی ایم کو 1992ء میں 4 اعشاریہ 97 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو امریکی تاریخ میں بد ترین نقصان سمجھا جاتا ہے۔
2005ء سونامی 2004 : ہلاکتوں کی تعداد ۲ لاکھ ۲۶ہزار سے تجاوز کر گئی انڈونیشیا کے حکام کے مطابق صرف انڈونیشیا میں ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد تھی۔
2005ء اسرائیل نے فلسطین کے نئے رہنما محمود عباس سے روابط قائم کرنے کا اعلان کیا۔
2005ء بھارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج نے فائر بندی کا معاہدہ توڑ کر کشمیری سرحد پر مارٹر گولے فائر کئے جبکہ پاکستان نے بھارتی الزام مسترد کیا۔
19جنوری 2011ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد دس کروڑ ہونے کے موقع پرایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا لوگو اور ایک موبائل فون کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں A Success Story 100 Million Cellular Subscribers .... Leading way to promoting telecom Pakistan Telecommunication Authorityکے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کاڈیزائن پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فراہم کیا تھا۔
19 جنوری 2014 : بنوں میں آرمی کے قافلے میں بم دھماکہ 26 فوجی شہید اور 38 زخمی ہوئے.
۔
19 جنوری 1986 : پہلا کمپیوٹر وائرس لاہور(پاکستان) کے فاروق علوی برادرز نے تخلیق کیا
(The first ever computer virus was developed in19 Jan 1986 by two Pakistani brothers in Lahore Pakistan. The first computer virus named "Brain" was designed by Amjad Farooq Alvi and Basit Farooq Alvi with the intention of determining the piracy of a software written by them)
۔
19 جنوری 1986 : اسپين نے اسرائيل کو تسليم کيا
۔
19 جنوری 1981 : ایران امریکہ یرغمالی تنازعہ ایک معاہدے کے بعد ختم ہوا اور 52 امریکی یرغمالیوں کو 14 ماہ قید کے بعد رہا کر دیا گیا۔
۔
19 جنوری 1946 : افغانستان،آئس لينڈ اور سوئيڈن نے اقوام متحدہ ميں شموليت اختيار کي
۔
19 جنوری 1933 : اسپين ميں خواتين کو رائے دہی کے استعمال کا حق ديا گيا
۔
19 جنوری 1824 : روسي شہرسينٹ پيٹرسبرگ ميں سيلاب کے باعث دس ہزار افراد ہلاک ہوئے
۔
19 جنوری 1493 : کرسٹوفر کولمبس نے پورٹو ريکو دريافت کيا ۔ ۔ ۔
19 جنوری 2016 کو جمرود روڈ پر خود کش حملہ میں 10 افراد شہید۔
ولادت
19 جنوری 1964۔یہ تاریخ پیدائش ھے میاں محمد نواز شریف کے داماد اور مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن محمد صفدر ولد محمد اسحاق کی جو مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم مانسہرہ میں حاصل کی۔بعد میں آپ نے پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد سے انٹر کیا تھا۔آپ کی شادی مریم نواز شریف سے 25 دسمبر 1992 کو لاہور میں ھوئ۔
19 جنوری 1964۔یوم پیدائش الشیخ امام سعود بن ابراهيم بن محمد الشريم ۔ مسجد حرام میں امام و خطیب اور مکہ مکرمہ کے عدالت میں بحیثیت قاضی ہیں۔آپ کا تعلق نجد کے شہر شقراء کے قحطان قبیلے سے ہے۔ آپ کا مکمل نام سعود بن ابراھیم بن محمد آل شریم ہےشیخ سعود کا مایۂ ناز قراء میں شمار ہوتا ہے، آپ کی آواز میں درد وسوز ہے ، آپ قرآن کریم کو بروایت حفص پڑھتے ہیں۔ شیخ اپنے متعلق کہتے ہيں کہ انھوں نے ایام شباب میں وقت کو ضآئع نہيں کیا آپ کے بقول آپ نے قرآن مجید کی سورہ نساء کو صرف ٹریفک سگنل کے وقت انتظار کے وقت میں زبانی یاد کیا۔ابتدائي تعلیم مدرسہ عرین میں حاصل کی اور متوسطہ کے لیے مدرسہ نموذجیھ میں داخل لیا۔ اور سال 1404 ھ میں ثانویہ کی تعلیم سے فارغ ہوئے۔
شیخ نے اعلی تعلیم کے لیے ریاض شہر میں واقع امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ عقیدہ و معاصر مذاہب میں داخلہ لیا اور سال 1409ھ میں یہاں سے فراغت حاصل کی۔ سال 1410ھ میں ہائير انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1413ھ میں امتیازی درجات سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ 1416ھ میں میں ام القری یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی امتیازی ڈگری حاصل کی۔پی ایچ ڈی میں آپ کے مقالے کا عنوان (المسالک فی المناسک ) تھا۔ آپ کے اس مقالے کے نگران اعلی شیخ عبدالعزيز آل شیخ مفتی عام مملکت سعودی عرب تھے۔آپ کے اس مقالے کو کتابی شکل میں بڑی تعداد میں چھپایا گیا
مشائخ جن سے آپ نے براہ راست استفادہ کیا:
شیخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ
شیخ عبداللہ بن جبرین رحمہ اللہ
شیخ عبدالعزيز بن عقیل
شیخ عبدالرحمن البراک
شیخ عبدالعزيز الراجحی
شیخ فھد الحمین
شیخ عبداللہ الغدیان
شیخ صالح بن فوزان الفوزان
سال 1410ھ میں آپ ہائيرانسٹی ٹیوٹ آف چسٹس میں مدرس کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔سال 1412ھ میں خادم حرمین شریفین کی جانب سے حرم مکی میں آپ کے امام وخطیب مقرر کیئے جانے کا فرمان جاری ہوا۔جبکہ آپ اس سے پہلے دارالحکومت ریاض میں ایک مشہور امام تھے۔سال 1413ھ میں مسجد حرام میں درس وتدریس کی خدمات کے لیئے آپ کے نام شاہی فرمان جاری ہوا۔حال میں شیخ سعود بن ابراھیم حرم مکی میں امامت وخطابت کے فرائض کے ساتھہ ساتھہ ام القری یونیورسٹی کے شریعہ فیکلٹی میں ڈین اور استاد فقہ کی خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔آپ بہترین انشاء پردازماہر خطیب اور ہمہ گیر منصف بھی ہیں، آپ کے قلم سے دینی موضوعات پر متعدد کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ یہ سب کتابیں عربی زبان میں ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔
کیفیۃ ثبوت النسب
کراما الانبیاء
المھدی المنتظر عند اھل السنۃ والجماعھ
المنھاج للمعتمر والحاج
ومیض من الحرم
خالص الجمان تھذیب مناسک الحج من اضواء البیان
اصول الفقھ سوال وجواب
التحفۃ المکیھ شرح حائیھ ابن ابی داؤد العقدیھ
حاشیھ علی لامیھ ابن القیم
فقھ الخطیب والخطبھ
وبل السحابھ علی نظم الصبابھ فی مدح المدینھ طابھ
المرجعات حول انکار مصطفی محمود احادیث الشفاعات
حرم مکی میں دیئے گئے دروس :
سلسلۃ شرح کتاب کشف الشبھات
اسراج الخیول فی نظم القواعد الاربع والثلاثھ الاصول
النظم الحبیر فی فن واصول التفسیر
سلسلت شرح قصیدۃ حائیھ ابن ابی ابوداود
شاعر ادیب اور نقاد چکبست لکھنوی 19 جنوری 1882ء میں فیض آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے بزرگوں کا وطن لکھنو ہے۔اوائل عمری میں لکھنو آگئے۔ اور رکیتک کالج لکھنو سے 1908ء میں قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کرنے لگے۔ 9 برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا۔ کسی استاد کو کلام نہیں دکھایا۔ کثرت مطالعہ اور مشق سے خود ہی اصلاح کرتے رہے۔ کوئی تخلص بھی نہیں رکھا۔ کہیں کہیں لفظ چکبست پر ، جو اُن کی گوت تھی، اکتفا کیا ہے۔ غالب ؔ، انیسؔ اور آتش ؔسے متاثر تھے۔ شاعری کی ابتداء غزل سے کی۔ آگے چل کر قومی نظمیں لکھنے لگے۔ انھوں نے سیاسی قومی تحریکات ، مسائل اورسانحوں پر پائے کی نظمیں لکھیں۔ کئی مرتبہ چکبست نے اپنے دوستوں ،احباب پ درد مند مرثیے بھی لکھے۔ وہ فقرہ پروری نہیں کرتے تھے اور نہایت دلیری سے اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ لہٰذا ان کی شاعری میں بڑا جمال و کمال ہے۔ نثر میں مولانا شرر سے اُن کا معرکہ مشہور ہے۔ نثر سادہ اور رواں لکھتے تھے۔ایک رسالہ ’ستارۂ صبح‘ بھی جاری کیا تھا۔ ان کا خشک نوعیت کے موضوعات پر بھی وہ دلچسپ پیرائے قلم اٹھاتے تھے، جو قاری کے ذہن و دل پر اثر چھوڑتا تھا۔ کبھی کبھی ان کی نثری تحرروں میں خطیبانہ رنگ بھی چڑھ جاتا تھا۔ وہ طنزیہ مزاح بھی لکھتے تھے۔ چکبست کا مجموعہ کلام‘‘ صبح وطن ‘‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کا انتقال 12 فروری1926ء میں جب وہ ایک مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں بریلی گئے ہوئے تھے اور پھر لکھنو آنے کے لیے بریلی کے ریلوے سٹیشن پر ریل میں سوار ہوئے تو ان پر فالج کا حملہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد سٹیشن پران کا انتقال ہوگیا۔
*وفات*
19 جنوری 1996ء کوپاکستان کے نامور فلمی اداکار لالہ سدھیر لاہور میں وفات پاگئے۔ لالہ سدھیر کا اصل نام شاہ زمان خان تھا اور وہ 25 جنوری 1921ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ لالہ سدھیر کی فلمی زندگی کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم فرض سے ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ہدایت کار شیخ محمد حسین کی فلم ہچکولے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا ، تاہم ان کی اصل شہرت کا آغاز ہدایت کار سبطین فضلی کی فلم دوپٹہ سے ہوا۔اس فلم میں ہیروئن کا کردار ملکہ ترنم نورجہاں نے ادا کیا تھا۔ سدھیر کی دیگر فلموں میں باغی، مرزا غالب، انار کلی، آخری چٹان، سسی، یکے والی، ماہی منڈا، چھوٹی بیگم، چڑھدا سورج، مرزا صاحباں، باغی ، چٹی،سوسائٹی، آنکھ کا نشہ، جان بہار، کرتا ر سنگھ،گڈی گڈا،دلا بھٹی،یار بیلی، جھومر، کالا پانی، عجب خان، ماں پتر، لاٹری ، اَن داتا اور سن آف اَن داتاکے نام سرفہرست ہیں۔ لالہ سدھیر نے 400 سے زیادہ فلموں میں کام کیا اور فلم ماں پتر اور لاٹری میں بہترین اداکاری کے نگار ایوارڈز حاصل کئے۔ 1981ء میں انہیں 30 سالہ فلمی خدمات پر حسن کارکردگی کے خصوصی نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہوں نے فلمی اداکارہ شمی اور زیبا سے شادیاں کی تھیں۔وہ لاہور میں ڈیفنس کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں.
1996ء اوپندر ناتھ اشک اردو افسانہ نگار، ناول نگار، ڈراما نویس بمقام الہ آباد، برطانوی ہندوستان
2013ء مہناز، پاکستانی گلوکارہ
19 جنوری 1984ء کو ہاکی کے مشہور کھلاڑی حبیب الرحمن کراچی میں وفات پاگئے۔ حبیب الرحمن 10 اگست 1925ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انتہائی کم عمری میں ان کا کھیل دیکھ کر عظیم کھلاڑی دھیان سنگھ نے ان کی تعریف کی تھی اور ان کے روشن مستقبل کی پیش گوئی کی تھی۔ حبیب الرحمن نے قیام پاکستان کے بعد 1952 کے ہیلسنکی اور 1956ء میلبرن اولمپکس اور 1958ء کے ٹوکیو کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، وہ انٹرنیشنل امپائر اور پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ بھی رہے تھے.
19 جنوری 2001ء کو پاکستان کے مشہور ایتھلیٹ مبارک شاہ راولپنڈی میں وفات پاگئے اور راولپنڈی ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ مبارک شاہ 1931ء میں میانوالی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق پاکستان کے بری فوج سے تھا اور وہ آنریری کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ 1958ء میں ٹوکیو میں منعقد ہونے والے تیسرے ایشیائی کھیلوں میں انہوں نے تین ہزار میٹر رکاوٹوں والی دوڑ میں طلائی تمغہ جیتا تھا جبکہ 1962ء میں جکارتہ میں ہونے والے چوتھے ایشیائی کھیلوں میں انہوں نے پانچ ہزار میٹر کی دوڑ میں نہ صرف طلائی تمغہ جیتا تھا بلکہ نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا.
2018ء۔۔منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی، پاکستانی ادیب لاہور میں انتقال کر گئے۔منوبھائی کا اصل نام منیر قریشی تھا۔ آپ 6 فروری 1933ء کو وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی امام مسجد تھے، کتابوں کی جلد سازی اور کتابت ان کا ذریعہ معاش تھا۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے دادا سے ہی ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، یوسف زلیخا کے قصے اور الف لیلیٰ کی کہانیاں سنیں، جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔وزیرآباد سے 1947 میں میٹرک کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک) آ گئے جہاں شفقت تنویر مرزا، منظور عارف اور عنایت الہی سے ان کی دوستی ہوئی۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی کا نام بھی احمد ندیم قاسمی نے دیا۔7 جولائی 1970 کو اردو اخبار میں ان کا پہلا کالم شائع ہوا ۔ جس کے بعد انہوں نے مختلف اخبارات میں ہزاروں کالم لکھے۔ غربت، عدم مساوات، سرمایہ دارانہ نظام، خواتین کا استحصال اور عام آدمی کے مسائل منو بھائی کے کالموں کے موضوعات تھے۔آپ پاکستان کے مشہور کالم نویس، مصنف، اور ڈراما نگار تھے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے سونا چاندی، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسےلازوال ڈرامے تحریر کیے۔ ان کا سب سے مشہور ڈراما سونا چاندی ہے۔ 2007ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ آپ 19 جنوری 2018 کو پھیپھڑوں کے مرض کی وجہ سے انتقال کر گئے
تہوار اور تعطیلات
کينيڈا، آسٹريليا، بھارت، جميکا، برطانيہ، سنگاپور، جنوبي افريقہ، مالٹا اور ٹرينيڈاڈ اينڈ ٹوباگو ميں مردوں کا عالمی دن منايا جاتا ہے

No comments:
Post a Comment