سال کا 20واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 345 دن باقی ہیں ۔
1981ء - ایران نے 52 امریکی قیدی 444 دن بعد رہا کر دیے۔
2005ء۔ کیوبا نے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی۔ واضح رہے کہ سگار کیوبا کی بنیادی برآمدی اشیاء میں شمار کیاجاتا ہے
2001ء۔جارج بش نے امریکا کے 43 ویں صدر کا حلف اٹھایا
1996ء۔یاسر عرفات فلسطینی اتھارٹی کے صدر منتخب ہوئے
1969ء۔رچرڈ نکسن نے امریکا کے صدر کا حلف اٹھایا
1944ءعالمی جنگ دوئم:رائل ایئر فورس نے برلن پر 23سو ٹن وزنی بم گرائے
1981ء۔ رونالڈ ریگن نے امریکا کے 40 ویں صدر کا حلف اٹھایا
1961ءجان ایف کینیڈی نے امریکا کے 35 ویں صدر کا حلف اٹھایا
1841ء مملکت متحدہ برطانیہ نے ہانگ کانگ پر قبضہ کرلیا
1783ء۔ مملکت متحدہ برطانیہ ،فرانس اور ہسپانیہ کے درمیان امن معاہدہ طے پایا ۔
20 جنوری 1975 : فوجي جنرل فرانسيسکو فرينکو چھتيس سال اسپين پر حکومت کرنے کے بعد انتقال کرگئے
20 جنوری 1969 : مشرقی پاکستان میں طالب علم امان اللہ اسد الزمان پولیس کے ہاتھوں قتل جس کے بعد فسادات بڑھتے چلے گئے
۔
20 جنوری 1929 : دنیا کی پہلی مکمل فلم امریکہ میں ریلیز ہوئی
۔
20 جنوری 1921 : ترکی میں خلافت کے خاتمے کے بعد پہلا قانون نافذ ہوا
۔
20 جنوری 1780 : برطانيہ نے ہالينڈ کے خلاف جنگ کا اعلان کيا۔
2009ء۔باراک حسین اوباما نے دس لاکھ لوگوں کے مجمع میں صدارت کا حلف اٹھایا یوں وہ پہلے آفریقی/امریکی صدر منتخب ہوئے۔
2016ء ۔امریکی خلائی تحقیقی ادارے نے نظام شمسی میں موجود ممکنہ نویں سیارے کی موجودگی کی پیشن گوئی کی۔
20 جنوری 1968 کو سبز مسجد صرافہ بازار کراچی میں 4 طالب علموں محمد حنیف طیب، فاروق مصطفائی، محمد یعقوب قادری اور جمیل احمد نعیمی نے پاکستان کی واحد سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد طلبا تنظیم کی بنیاد انجمن طلبا اسلام (اے ٹی آئی) کے نام سے رکھی۔ انجمن کا منشور تھا: ’’طلبا میں صحیح اسلامی روح بیدار کرنا جو ان کے دلوں میں عشق رسولﷺ کی شمع فروزاں کیے بغیر ناممکن ہے۔‘‘ پاکستان میں صوفیا کے طریق سے منسلک لوگوں کی اکثریت کے باعث انجمن کو اس پیغام کے فروغ میں زیادہ دیر نہ لگی اور انجمن کے اولین رہنماؤں نے خانقاہوں، مساجد، دینی اجتماعات اور مختلف مذہبی تہواروں اور تقریبات کو اپنے پیغام کے فروغ کےلیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ انجمن نے بیک وقت دین بیزار لوگوں اور دین کی من مانی تشریح کرنے والے مصلحین کے پیروکاروں کے سامنے اسلام کا سب سے زیادہ قابل قبول تصور ’’صوفی اسلام‘‘ پیش کیا اور بہت جلد صف اول کی طلبا تنظیم کا درجہ حاصل کرلیا۔ 1971 میں بنگلہ دیش نامنظور تحریک، 1974 میں تحریک ختم نبوتﷺ، 1977 میں تحریک نظام مصطفےﷺ، 1986 میں بحالی حقوق طلبا تحریک، 1988 میں تعلیمی امن تحریک، 1989 میں قومی یکجہتی تحریک اور عشرہ سماجی انقلاب نمایاں سرگرمیاں ہیں۔ 1989 کی طلبا تاریخ کے آخری انتخابات میں پنجاب کی فاتح بھی یہ تنظیم رہی۔ انجمن کے صدر ڈاکٹر ظفر اقبال نوری کو بلاشبہ تمام طلبا تنظیموں کے رہنماؤں کےلیے رول ماڈل کہا جاسکتا ہے جو سیاست میں سیاستدانوں کی عدم مداخلت کے فلسفے کے علمبردار بن کر ابھرے جبکہ دیگر نمایاں رہنماؤں میں سابق وفاقی وزیر حاجی محمد حنیف طیب، ظہور الحسن بھوپالی، عثمان خان نوری، جسٹس (ر) نذیر احمد غازی، علامہ رضاالدین صدیقی، شوکت بسرا، طاہرمحمود ہندلی، سید محمد محفوظ مشہدی، قاضی عتیق الرحمن، عبدالرزاق ساجد، غلام مرتضی سعیدی، ڈاکٹر حمزہ مصطفائی اور امانت زیب شامل ہیں۔۔
1975ء میں پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تحفظ جنگلی حیات کے عنوان سے ڈاک ٹکٹوں کی ایک نئی سیریز کا آغاز کیا تھا۔ اس سیریز کے گیارہ مختلف سیٹ 1975ء اور1983ء کے دوران جاری ہوئے۔ 1986ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس سلسلے کا پہلا ڈاک ٹکٹ 20جنوری 1986ء کوجاری ہوا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر شاہین کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں اس کا نام SHAHEEN FALCON falco peregrinus peregrinator تحریر تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت ڈیڑھ روپے تھی۔
2016ء باچہ خان یونیورسٹی چارسدہ میں خود کش حملہ فائرنگ۔ 20 افراد شہید ۔60 زخمی۔8 دہشت گرد ہلاک ۔
ولادت۔
1029ء ۔۔سلجوق حکمران سلطان الپ ارسلان کا یوم پیدائش
1975ء۔۔زیک گولڈ اسمتھ۔جمائما خان کے بھائی اور برطانوی سیاست دان ۔2016 کے لندن میئر کے الیکشن میں کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار ۔
صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان20 جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1940ء میں انہوں نے صوبہ سرحد کی سول سروس سے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کے ہوم سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ خوراک، صوبائی ترقیات کے سیکریٹری اور کمشنر ترقیات رہے۔ ایسے ہی کئی اور عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد یکم فروری 1961ء کو انہیں واپڈا کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر 11 اپریل 1966ء تک فائز رہے۔ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مالیات، گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکریٹری دفاع کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیکریٹری جنرل انچیف مقرر کیا۔ یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں وہ وزیر خزانہ بھی رہے۔ مارچ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 17 اگست 1988ء کو فضائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد انہوںنے پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 12 دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے، وہ اپنے اس عہدے پر 19 جولائی 1993ء تک فائز رہے۔ انہوں نے اگست 1990ء اور اپریل 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کو رخصت کیا اور یوں اپنے کیریئر کے آخری زمانے میں وہ ایک متنازع شخصیت کی شکل میں سامنے آئے۔ صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عمر کا بقیہ حصہ پشاور میں بسر کیا۔27 اکتوبر 2006ء کو پشاور ان کا انتقال ہوگیا اور وہ پشاور ہی میں یونیورسٹی ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان اور ستارۂ پاکستان کے اعزازات سے نوازا تھا۔
20 جنوری 1926ء اردو کی افسانہ نگار اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کی تاریخ پیدائش ہے۔ اردو کے افسانہ نگاروں اور ناول میں قرۃ العین حیدر کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ مشہور انشا پرداز سید سجاد حیدر بلدرم کی صاحبزادی ہیں۔ قرۃالعین حیدر علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھیں۔بچپن کا زمانہ جزائر انڈمان میں گزارا جہاں ان کے والد ریونیو کمشنر تھے۔ اس کے بعد ڈیرہ دون کانونٹ میں تعلیم حاصل کی اور 1947ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تقریباً اسی زمانے میں افسانہ نویسی کا آغاز کیا ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ستاروں سے آگے‘‘ تھا، جسے جدید افسانہ کا نقطہ ٔ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔ 1947ء میں وہ پاکستان چلی آئیں جہاں وہ حکومت پاکستان کے شعبہ اطلاعات و فلم سے وابستہ ہوگئیں۔ یہاں ان کے کئی ناول شائع ہوئے جن میں میرے بھی صنم خانے، سفینہ ٔ غم دل اور آگ کا دریا قابل ذکر ہیں۔ آخرالذکر ناول کی اشاعت پر پاکستانی پریس نے ان کے خلاف تناسخ کے عقیدے کے پرچار پر بڑی سخت مہم چلائی جس پر وہ واپس ہندوستان چلی گئیں۔ ہندوستان جانے کے بعد ان کے کئی افسانوی مجموعے، ناولٹ اور ناول شائع ہوئے جن میں ’’ہائوسنگ سوسائٹی، پت جھڑ کی آواز، روشنی کی رفتار، گلگشت، ستیا ہرن ،چائے کے باغ، اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجو، جہانِ دیگر، دلربا ، گردشِ رنگ چمن اورچاندنی بیگم قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا سوانحی ناول ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ 1989ء میں انہیں حکومت ہندوستان نے گیان پیٹھ ایوارڈ عطا کیا جو ہندوستان کا ایک بہت بڑا ادبی ایوارڈ ہے۔ 2005ء میں حکومت ہند نے انہیں پدما بھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا۔ قرۃ العین حیدر نے 21 اگست 2007ء کو دہلی کے نزدیک نوئیڈا کے مقام پر وفات پائی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔۔
1925ء۔۔جمیل الدین عالی۔نوابزادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات ، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارےیونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
آپ کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
وفات۔۔
1993ء - آڈری ہیپبرن، امریکی اداکارہ
20 جنوری 1988ء کو پاکستان کے نامور سیاستدان خان عبدالغفار خان پشاور میں وفات پاگئے۔ باچا خان 06 فروری 1890ء میں ہشت نگر کے گائوں اتمان زئی میں پیدا ہوئے تھے۔ پشاور اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاجی تحریک سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور تحریک ہجرت اور ہجرت خلافت میں فعال حصہ لیا۔ 1926ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے بعدازاں انہوں نے اپنی اصلاحی تحریک انجمن اصلاح الافاعنہ کے تحت خدائی خدمت گار تحریک شروع کی۔ اسی تحریک میں انہیں بادشاہ خان (باچاخان )کا خطاب دیا گیا۔ انہوں نے کانگریس کی عدم تعاون کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1937ء کے عام انتخابات میں انہیں سرحد اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ ابتدا میں ان کی اکثریت کے باوجود صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا مگر تحریک عدم اعتماد کے بعد ان کے بعد ڈاکٹر خان صاحب صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ 1946ء کے عام انتخابات میں بھی خان عبدالغفار خان کی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہوئی۔ 1947ء میں انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی مگر صوبہ سرحد میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد یہ صوبہ پاکستان میں شامل کرلیا گیا۔ خان عبدالغفار خان نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کئی مرتبہ دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم حکومت وقت سے ان کا ٹکرائو جاری رہا اور انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ قید و بند اور جلاوطنی میں بسر کیا۔ ان کے انتقال کے بعد انہیں جلال آباد میں ان کے اس مکان کے سبزہ زار میں دفن کیا گیا جو انہیں افغانستان میں قیام کے دوران افغان حکومت نے بطور تحفہ پیش کیا تھا۔
1971ء۔۔سید عابد علی عابد ٭ اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ محقق‘ مترجم اور ماہر تعلیم سید عابد علی عابد 17 ستمبر 1906ءکو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے حکیم احمد شجاع کے رسالے ’’ہزار داستاں‘‘ سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا پھر مجلس وضع قانون (پنجاب) میں بطور مترجم کام کیا۔ کچھ عرصہ وکالت بھی کی۔ پھر دیال سنگھ کالج سے وابستہ ہوئے، یہ وابستگی تقریباً 25 برس جاری رہی۔ اس دوران 1947ء سے 1954ء تک وہ اس کالج کے پرنسپل رہے۔ کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مجلس ترقی ادب سے وابستہ ہوئے۔ ان کی مساعی سے 1957ء میں مجلس کا سہ ماہی علمی جریدہ ’’صحیفہ‘‘ جاری ہوا جس کے وہ اکتوبر 1966ء تک مدیر رہے۔ سید عابد علی عابد کی تصانیف کی فہرست بہت طویل ہے جس میں ڈراموں اور افسانوں کے مجموعے‘ ناول‘ تنقیدی مضامین‘ شاعری اور تراجم سبھی کچھ شامل ہیں۔ 20 جنوری 1971ء کو سید عابد علی عابد لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
20 جنوری 1992ء کو پاکستانی فلموں کے اوّلین مزاحیہ اداکار نذر لاہور میں وفات پاگئے اور ماڈل ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ نذر کا پورا نام سید محمد نذر حسین شاہ تھا اور وہ 1920ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے فلمی کیریئر کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم نیک دل سے ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں انہیں پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد میں مزاحیہ کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے جن فلموں میں کام کیاان میں غلط فہمی، پھیرے، لارے، انوکھی داستان، ہماری بستی، جہاد، امانت، اکیلی، بھیگی پلکیں، شہری بابو، برکھا، سسی، دو آنسو، پاٹے خان، کنواری بیوہ اور پون کے نام سرفہرست تھے۔ نذر نے اپنی فلمی زندگی میں مجموعی طور پر 171 فلموں میں کام کیا جن میں 117 فلمیں اردومیں ، 51 فلمیں پنجابی میں، 2 فلمیں پشتو میں اور ایک فلم سندھی زبان میں بنائی گئی تھی۔ ان کی آخری فلم بندھن تھی جو 1980ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔
تعطیلات و تہوار
1937 سے ہر 4 سال بعد امریکہ کے نئے صدر سے حلف لینے کا دن
1981ء - ایران نے 52 امریکی قیدی 444 دن بعد رہا کر دیے۔
2005ء۔ کیوبا نے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی۔ واضح رہے کہ سگار کیوبا کی بنیادی برآمدی اشیاء میں شمار کیاجاتا ہے
2001ء۔جارج بش نے امریکا کے 43 ویں صدر کا حلف اٹھایا
1996ء۔یاسر عرفات فلسطینی اتھارٹی کے صدر منتخب ہوئے
1969ء۔رچرڈ نکسن نے امریکا کے صدر کا حلف اٹھایا
1944ءعالمی جنگ دوئم:رائل ایئر فورس نے برلن پر 23سو ٹن وزنی بم گرائے
1981ء۔ رونالڈ ریگن نے امریکا کے 40 ویں صدر کا حلف اٹھایا
1961ءجان ایف کینیڈی نے امریکا کے 35 ویں صدر کا حلف اٹھایا
1841ء مملکت متحدہ برطانیہ نے ہانگ کانگ پر قبضہ کرلیا
1783ء۔ مملکت متحدہ برطانیہ ،فرانس اور ہسپانیہ کے درمیان امن معاہدہ طے پایا ۔
20 جنوری 1975 : فوجي جنرل فرانسيسکو فرينکو چھتيس سال اسپين پر حکومت کرنے کے بعد انتقال کرگئے
20 جنوری 1969 : مشرقی پاکستان میں طالب علم امان اللہ اسد الزمان پولیس کے ہاتھوں قتل جس کے بعد فسادات بڑھتے چلے گئے
۔
20 جنوری 1929 : دنیا کی پہلی مکمل فلم امریکہ میں ریلیز ہوئی
۔
20 جنوری 1921 : ترکی میں خلافت کے خاتمے کے بعد پہلا قانون نافذ ہوا
۔
20 جنوری 1780 : برطانيہ نے ہالينڈ کے خلاف جنگ کا اعلان کيا۔
2009ء۔باراک حسین اوباما نے دس لاکھ لوگوں کے مجمع میں صدارت کا حلف اٹھایا یوں وہ پہلے آفریقی/امریکی صدر منتخب ہوئے۔
2016ء ۔امریکی خلائی تحقیقی ادارے نے نظام شمسی میں موجود ممکنہ نویں سیارے کی موجودگی کی پیشن گوئی کی۔
20 جنوری 1968 کو سبز مسجد صرافہ بازار کراچی میں 4 طالب علموں محمد حنیف طیب، فاروق مصطفائی، محمد یعقوب قادری اور جمیل احمد نعیمی نے پاکستان کی واحد سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد طلبا تنظیم کی بنیاد انجمن طلبا اسلام (اے ٹی آئی) کے نام سے رکھی۔ انجمن کا منشور تھا: ’’طلبا میں صحیح اسلامی روح بیدار کرنا جو ان کے دلوں میں عشق رسولﷺ کی شمع فروزاں کیے بغیر ناممکن ہے۔‘‘ پاکستان میں صوفیا کے طریق سے منسلک لوگوں کی اکثریت کے باعث انجمن کو اس پیغام کے فروغ میں زیادہ دیر نہ لگی اور انجمن کے اولین رہنماؤں نے خانقاہوں، مساجد، دینی اجتماعات اور مختلف مذہبی تہواروں اور تقریبات کو اپنے پیغام کے فروغ کےلیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ انجمن نے بیک وقت دین بیزار لوگوں اور دین کی من مانی تشریح کرنے والے مصلحین کے پیروکاروں کے سامنے اسلام کا سب سے زیادہ قابل قبول تصور ’’صوفی اسلام‘‘ پیش کیا اور بہت جلد صف اول کی طلبا تنظیم کا درجہ حاصل کرلیا۔ 1971 میں بنگلہ دیش نامنظور تحریک، 1974 میں تحریک ختم نبوتﷺ، 1977 میں تحریک نظام مصطفےﷺ، 1986 میں بحالی حقوق طلبا تحریک، 1988 میں تعلیمی امن تحریک، 1989 میں قومی یکجہتی تحریک اور عشرہ سماجی انقلاب نمایاں سرگرمیاں ہیں۔ 1989 کی طلبا تاریخ کے آخری انتخابات میں پنجاب کی فاتح بھی یہ تنظیم رہی۔ انجمن کے صدر ڈاکٹر ظفر اقبال نوری کو بلاشبہ تمام طلبا تنظیموں کے رہنماؤں کےلیے رول ماڈل کہا جاسکتا ہے جو سیاست میں سیاستدانوں کی عدم مداخلت کے فلسفے کے علمبردار بن کر ابھرے جبکہ دیگر نمایاں رہنماؤں میں سابق وفاقی وزیر حاجی محمد حنیف طیب، ظہور الحسن بھوپالی، عثمان خان نوری، جسٹس (ر) نذیر احمد غازی، علامہ رضاالدین صدیقی، شوکت بسرا، طاہرمحمود ہندلی، سید محمد محفوظ مشہدی، قاضی عتیق الرحمن، عبدالرزاق ساجد، غلام مرتضی سعیدی، ڈاکٹر حمزہ مصطفائی اور امانت زیب شامل ہیں۔۔
1975ء میں پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تحفظ جنگلی حیات کے عنوان سے ڈاک ٹکٹوں کی ایک نئی سیریز کا آغاز کیا تھا۔ اس سیریز کے گیارہ مختلف سیٹ 1975ء اور1983ء کے دوران جاری ہوئے۔ 1986ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس سلسلے کا پہلا ڈاک ٹکٹ 20جنوری 1986ء کوجاری ہوا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر شاہین کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں اس کا نام SHAHEEN FALCON falco peregrinus peregrinator تحریر تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت ڈیڑھ روپے تھی۔
2016ء باچہ خان یونیورسٹی چارسدہ میں خود کش حملہ فائرنگ۔ 20 افراد شہید ۔60 زخمی۔8 دہشت گرد ہلاک ۔
ولادت۔
1029ء ۔۔سلجوق حکمران سلطان الپ ارسلان کا یوم پیدائش
1975ء۔۔زیک گولڈ اسمتھ۔جمائما خان کے بھائی اور برطانوی سیاست دان ۔2016 کے لندن میئر کے الیکشن میں کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار ۔
صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان20 جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1940ء میں انہوں نے صوبہ سرحد کی سول سروس سے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کے ہوم سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ خوراک، صوبائی ترقیات کے سیکریٹری اور کمشنر ترقیات رہے۔ ایسے ہی کئی اور عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد یکم فروری 1961ء کو انہیں واپڈا کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر 11 اپریل 1966ء تک فائز رہے۔ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مالیات، گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکریٹری دفاع کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیکریٹری جنرل انچیف مقرر کیا۔ یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں وہ وزیر خزانہ بھی رہے۔ مارچ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 17 اگست 1988ء کو فضائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد انہوںنے پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 12 دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے، وہ اپنے اس عہدے پر 19 جولائی 1993ء تک فائز رہے۔ انہوں نے اگست 1990ء اور اپریل 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کو رخصت کیا اور یوں اپنے کیریئر کے آخری زمانے میں وہ ایک متنازع شخصیت کی شکل میں سامنے آئے۔ صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عمر کا بقیہ حصہ پشاور میں بسر کیا۔27 اکتوبر 2006ء کو پشاور ان کا انتقال ہوگیا اور وہ پشاور ہی میں یونیورسٹی ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان اور ستارۂ پاکستان کے اعزازات سے نوازا تھا۔
20 جنوری 1926ء اردو کی افسانہ نگار اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کی تاریخ پیدائش ہے۔ اردو کے افسانہ نگاروں اور ناول میں قرۃ العین حیدر کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ مشہور انشا پرداز سید سجاد حیدر بلدرم کی صاحبزادی ہیں۔ قرۃالعین حیدر علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھیں۔بچپن کا زمانہ جزائر انڈمان میں گزارا جہاں ان کے والد ریونیو کمشنر تھے۔ اس کے بعد ڈیرہ دون کانونٹ میں تعلیم حاصل کی اور 1947ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تقریباً اسی زمانے میں افسانہ نویسی کا آغاز کیا ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ستاروں سے آگے‘‘ تھا، جسے جدید افسانہ کا نقطہ ٔ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔ 1947ء میں وہ پاکستان چلی آئیں جہاں وہ حکومت پاکستان کے شعبہ اطلاعات و فلم سے وابستہ ہوگئیں۔ یہاں ان کے کئی ناول شائع ہوئے جن میں میرے بھی صنم خانے، سفینہ ٔ غم دل اور آگ کا دریا قابل ذکر ہیں۔ آخرالذکر ناول کی اشاعت پر پاکستانی پریس نے ان کے خلاف تناسخ کے عقیدے کے پرچار پر بڑی سخت مہم چلائی جس پر وہ واپس ہندوستان چلی گئیں۔ ہندوستان جانے کے بعد ان کے کئی افسانوی مجموعے، ناولٹ اور ناول شائع ہوئے جن میں ’’ہائوسنگ سوسائٹی، پت جھڑ کی آواز، روشنی کی رفتار، گلگشت، ستیا ہرن ،چائے کے باغ، اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجو، جہانِ دیگر، دلربا ، گردشِ رنگ چمن اورچاندنی بیگم قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا سوانحی ناول ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ 1989ء میں انہیں حکومت ہندوستان نے گیان پیٹھ ایوارڈ عطا کیا جو ہندوستان کا ایک بہت بڑا ادبی ایوارڈ ہے۔ 2005ء میں حکومت ہند نے انہیں پدما بھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا۔ قرۃ العین حیدر نے 21 اگست 2007ء کو دہلی کے نزدیک نوئیڈا کے مقام پر وفات پائی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔۔
1925ء۔۔جمیل الدین عالی۔نوابزادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات ، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارےیونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
آپ کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
وفات۔۔
1993ء - آڈری ہیپبرن، امریکی اداکارہ
20 جنوری 1988ء کو پاکستان کے نامور سیاستدان خان عبدالغفار خان پشاور میں وفات پاگئے۔ باچا خان 06 فروری 1890ء میں ہشت نگر کے گائوں اتمان زئی میں پیدا ہوئے تھے۔ پشاور اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاجی تحریک سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور تحریک ہجرت اور ہجرت خلافت میں فعال حصہ لیا۔ 1926ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے بعدازاں انہوں نے اپنی اصلاحی تحریک انجمن اصلاح الافاعنہ کے تحت خدائی خدمت گار تحریک شروع کی۔ اسی تحریک میں انہیں بادشاہ خان (باچاخان )کا خطاب دیا گیا۔ انہوں نے کانگریس کی عدم تعاون کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1937ء کے عام انتخابات میں انہیں سرحد اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ ابتدا میں ان کی اکثریت کے باوجود صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا مگر تحریک عدم اعتماد کے بعد ان کے بعد ڈاکٹر خان صاحب صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ 1946ء کے عام انتخابات میں بھی خان عبدالغفار خان کی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہوئی۔ 1947ء میں انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی مگر صوبہ سرحد میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد یہ صوبہ پاکستان میں شامل کرلیا گیا۔ خان عبدالغفار خان نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کئی مرتبہ دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم حکومت وقت سے ان کا ٹکرائو جاری رہا اور انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ قید و بند اور جلاوطنی میں بسر کیا۔ ان کے انتقال کے بعد انہیں جلال آباد میں ان کے اس مکان کے سبزہ زار میں دفن کیا گیا جو انہیں افغانستان میں قیام کے دوران افغان حکومت نے بطور تحفہ پیش کیا تھا۔
1971ء۔۔سید عابد علی عابد ٭ اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ محقق‘ مترجم اور ماہر تعلیم سید عابد علی عابد 17 ستمبر 1906ءکو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے حکیم احمد شجاع کے رسالے ’’ہزار داستاں‘‘ سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا پھر مجلس وضع قانون (پنجاب) میں بطور مترجم کام کیا۔ کچھ عرصہ وکالت بھی کی۔ پھر دیال سنگھ کالج سے وابستہ ہوئے، یہ وابستگی تقریباً 25 برس جاری رہی۔ اس دوران 1947ء سے 1954ء تک وہ اس کالج کے پرنسپل رہے۔ کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مجلس ترقی ادب سے وابستہ ہوئے۔ ان کی مساعی سے 1957ء میں مجلس کا سہ ماہی علمی جریدہ ’’صحیفہ‘‘ جاری ہوا جس کے وہ اکتوبر 1966ء تک مدیر رہے۔ سید عابد علی عابد کی تصانیف کی فہرست بہت طویل ہے جس میں ڈراموں اور افسانوں کے مجموعے‘ ناول‘ تنقیدی مضامین‘ شاعری اور تراجم سبھی کچھ شامل ہیں۔ 20 جنوری 1971ء کو سید عابد علی عابد لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
20 جنوری 1992ء کو پاکستانی فلموں کے اوّلین مزاحیہ اداکار نذر لاہور میں وفات پاگئے اور ماڈل ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ نذر کا پورا نام سید محمد نذر حسین شاہ تھا اور وہ 1920ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے فلمی کیریئر کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم نیک دل سے ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں انہیں پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد میں مزاحیہ کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے جن فلموں میں کام کیاان میں غلط فہمی، پھیرے، لارے، انوکھی داستان، ہماری بستی، جہاد، امانت، اکیلی، بھیگی پلکیں، شہری بابو، برکھا، سسی، دو آنسو، پاٹے خان، کنواری بیوہ اور پون کے نام سرفہرست تھے۔ نذر نے اپنی فلمی زندگی میں مجموعی طور پر 171 فلموں میں کام کیا جن میں 117 فلمیں اردومیں ، 51 فلمیں پنجابی میں، 2 فلمیں پشتو میں اور ایک فلم سندھی زبان میں بنائی گئی تھی۔ ان کی آخری فلم بندھن تھی جو 1980ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔
تعطیلات و تہوار
1937 سے ہر 4 سال بعد امریکہ کے نئے صدر سے حلف لینے کا دن

No comments:
Post a Comment