Ad3

فرقہ خلق قرآن

فرقہ خلقِ قرآن کا خاتمہ کیسے ہوا؟
حاکمِ وقت کے کان میں کسی نے پھونک دیا کہ قرآن مخلوق ھے۔ یہ فتنہ عباسی خلیفہ مامون کے دور میں اٹھا اور مسلسل تین حکمرانوں (،مامون، معتصم اور واثق ) کے ادوار میں شدت سے جاری رھا پھر  متوکل کے زمانے میں اپنے انجام کو پہنچا۔
یہ فتنہ برپا کرنے والا شخص قاضی احمد بن ابودائود تھا۔ یہ بڑا عالم فاضل تھا۔ معتزلی عقیدہ کا مالک تھا۔ خلیفہ مامون کے بہت قریب تھا۔ اس نے خلیفہ مامون کو پٹی پڑھائی کہ قرآن مخلوق ہے۔ اس عقیدے کی اشاعت کی جانی چاہئے اور دراصل یہ یہودیوں کا عقیدہ تھا۔ اسلام سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اس شخص نے قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ بشر مدلیسی سے لیا تھا۔ بشر مدلیسی نے جہم بن صفوان سے ٗجہم بن صفوان نے جعد بن درہم سے ٗ جعدبن درہم نے ربان بن سمعان سے اور ربان بن سمعان نے لبید بن اعصم یہودی کے بھانجے طالوت سے سیکھا تھا۔
عیسائی حکمرانوں کی طرح انہوں  نے جبر سے اس عقیدے کو عوام الناس پہ ٹھونسنے کی کوشش کی مگر لوگ جب بھی علماء کی طرف رجوع کرتے تو وھاں سے یہی فتوی جاری کیا جاتا کہ قرآن اللہ کا کلام ھے  اس کی مخلوق نہیں جتنا بڑا عالم ھوتا اس کے فتوے کا اثر زیادہ لوگوں پہ ھوتا ،
امام احمد بن حنبل علیہ رحمہ (164ھ-241ھ ) کو ایک دنیا پہچانتی تھی لہذا کوشش کی گئ کہ ان سے اس عقیدہ منوا لیا جائے تا کہ عوام کو قابو کرنا آسان ھو جائے  امام احمد کے انکار پر آپ پر سختی کی گئی ،مامون نے تو کسی حد تک آپ کا لحاظ کیا اور سختی کو پابندیوں تک محدود رکھا ، مگر معتصم باللہ نے قید اور کوڑوں کی راہ اختیار کی آپ کو قید کر دیا گیا مگر جب دیکھا گیا کہ امام اپنی رائے سے رجوع پر آمادہ نہیں تو آپ کو بھرے دربار میں بلوایا گیا رمضان کا مہینہ تھا اور منظر کچھ یوں تھا کہ امام احمد علیہ رحمہ بیڑیوں اور طوق میں لپٹے ھوئے تھے اور زنجیروں کا فالتو حصہ جو کہ کافی وزنی تھا امام احمد علیہ رحمہ کو ھی اٹھوایا گیا تھا ،، نقاھت آپ کے چہرے پہ صاف عیاں تھی معتصم نے آپ سے آخری بار پوچھا کہ آپ اپنی رائے سے رجوع کریں گے یا نہیں آپ نے جواب دیا کہ امیر المومنین ھم آپ کے نانا ھی کی امانت کا بار اٹھائے ھوئے ھیں جس کی حفاظت ھماری ذمہ داری ھے ، بخدا آپ اللہ یا اپنے نانا کا کوئی قول اس ضمن میں پیش کر دیں میں ایک لمحے میں اپے موقف سے باز آ جاؤں گا ورنہ جو امیر کی مرضی ھے وہ کر گزرے ۔ اس دن آپ کو 100 کوڑے مارے گئے ، ھر دس کوڑوں کے بعد کوڑے مارنے والا تبدیل ھو جاتا اور تازہ دم کوڑے مارنے والا شروع ھو جاتا ،، یہ سلسلہ کئی دن چلتا رھا ،
کہا جاتا ھے کہ جتنے کوڑے امام احمد کو مروائے گئے کسی ھاتھی کو بھی مروائے جاتے تو وہ بلبلا اٹھتا مگر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اف تک نہ کی۔
----------------------------
امام احمد بن حنبل علیہ رحمہ کی ثابت قدمی کے پیچھے امام شافعی کا ایک خط تھا۔ حالانکہ بہت سے علماء نے صرف خوف کی بنا پر خلق قرآن کو نہ چاہتے ہوئے قبول کرلیا تھا۔ لیکن امام احمد علیہ رحمہ ثابت قدم رہے
امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک خط ربیع کے ہاتھ امام احمد کی طرف بھیجا۔ ربیع کہتے ہیں جس وقت میں ان کے پاس پہنچا ٗ وہ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہو رہے تھے۔ میں نے خط انہیں پیش کیا۔ آپ نے پوچھا ’’تم نے اس خط کو پڑھا ہے۔
میں نے بتایا کہ نہیں ٗ میں نے خط نہیں پڑھا۔ اب آپ نے خط کھول کر پڑھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے لکھا تھا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ٗ وہ فرماتے ہیں کہ احمد کو میرا سلام کہو… اور انہیں اطلاع دو کہ عن قریب خلقِ قرآن کے مسئلے میں ان کی آزمائش ہو گی… خبر دار خلقِ قرآن کا اقرار نہ کریں… اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ان کے علم کو قیامت تک برقرار رکھیں گے۔ خط پڑھ کر امام احمد رونے لگے ۔ پھر اپنا کرتا اُتار کر مجھے دیا۔ میں اسے لے کر مصر واپس آ گیا اور امام شافعی رحمہ اللہ سے سفر کے حالات بیان کیے۔ اس کے کرتے کا بھی ذکر کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے سن کر فرمایا ۔میں وہ کُرتا تو تم سے نہیں مانگتا… ہاں اتنا کرو کہ اسے پانی میں تر کر کے ٗ وہ پانی مجھے دے دو تاکہ میں اس سے برکت حاصل کروں۔ اس واقعہ کو امام بیہقی نے اپنی احادیث کی کتاب میں نقل کیا ہے۔
----------------------------
المختصر واثق کا دور آیا تو اس نے امام صاحب پر تدریس کی پابندی لگا دی اور بعد میں آپ کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کا حکم دیا اور لوگوں کے آپ سے ملنے پر پابندی لگا دی۔ متوکل باللہ نے آ کر آپ پر سے یہ پابندیاں اٹھوائیں اور آپ کے مطالبے پر اس فتنے کے سرخیل علماء سے مناظرے کا بندوبست دربار میں کیا۔
یہ وہ تاریخی مناظرہ تھا جس میں اس فرقہ نے دم توڑ دیا۔ ایک طرف امام احمد تھے اور دوسری طرف علماء سو کا بہت بڑا طبقہ۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے خلیفہ کو مخاطب کر کے پوچھا کہ امیر المومنین ان سے پوچھئے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کو اس مسئلے یعنی قرآن کے مخلوق ھونے کا علم تھا یا نہیں ؟ علمائے سوء کی جان پر بن آئی۔ ایک نے کہا کہ آپﷺ کو علم نہیں تھا۔ امام احمد نے سوال کیا کہ جس مسئلے کا علم صاحب وحی ﷺ کو نہیں تھا۔ اس کا علم داؤد کو کیسے ھوا ؟ کیا وحی دوبارہ شروع ھو گئی ھے؟؟ داؤد سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ خلیفہ کے چہرے پہ غصے کے آثار نظر آنا شروع ھوئے دوسرے گروہ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کو بھی مسئلے کا پتہ تھا۔
اب امام احمد نے سوال اٹھایا کہ اگر آنحضرت ﷺ کو مسئلے کا علم تھا تو کیا آپ ﷺ نے  قرآن کو مخلوق جاننے پر ایمان کی دعوت لوگوں کو دی اور اس پر ایمان نہ لانے والوں کو سزائیں دیں؟ گروہ نے جواب دیا کہ نہیں۔ امام احمد نے کہا کہ امیرالمومنین جس مسئلے پر ایمان کی دعوت اللہ کے رسول ﷺ نے نہیں دی آپ کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا اور ایمان نہ لانے والوں کو سزائیں دینا کس نے واجب یا فرض کیا ؟ خلیفہ کے چہرے پر خفت کے آثار صاف دیکھے جا سکتے تھے۔
امیر المومنین اللہ کے رسولﷺ کو اگر اس مسئلے کا پتہ تھا تو آپ نے ابوبکر صدیقؓ کو اس کے بارے میں بتایا تھا یا نہیں ؟ گروہ نے جواب دیا کہ نہیں ؟ امام نے کہا کہ امیر المومنین جس مسئلے کے بابت اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے یارِ غار کو خبر نہیں دی اس کی خبر داؤد کو عالمِ ارواح میں کیسے ھو گئی؟ اگر یہ کہتے ھیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس مسئلے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے بتا دیا تھا تو سوال اٹھتا ھے کہ کیا ابوبکر صدیقؓ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس مسئلے پر ایمان لانے کی دعوت دی یا نہیں۔ دربارپر سکتہ طاری تھا، اے امیر المومنین جس کے بابت اللہ کے رسول ﷺ نے نہ علم دیا اور نہ ایمان کا مطالبہ کیا اور نہ ھی خلفائے راشدینؓ نےان پر ایمان کی دعوت دی اس مسئلے پر دعوت دینے پر آمادہ کر کے یہ لوگ آپ کو ایسی گھاٹی میں لے آئے ھیں کہ جس کے دونوں طرف آگ ھے اگر آپ اس مسئلے سے جان چھڑائیں گے تو اپنے پہلوں کی آگ بھی بجھا دیں گے اور اپنے آگے کی آگ بھی بجھا دیں گے۔ 
خلیفہ نے علمائے سوء کے گروہ کو مخاطب کیا ،، تم لوگ اس شخص کے مقابلے میں اس تنکے جتنا علم بھی نہیں رکھتے جو میرے ھاتھ میں ھے اور اس گروہ کو دربار سے نکال دیا۔امام احمد پر سے پابندیوں کو ہٹا دیا گیا مگر سرکاری طور پر اس مسئلے کے اختتام کا اعلان نہ کیا ، شاید اسی لئے  اس مسئلے کا اختتام خلیفہ کے لئے نہایت ذلت آمیز رہا،
اس کا بھی واقعہ بھی پڑھ لیں۔
ایک مسخرہ (میراثی سمجھ لیں) خلیفہ کے دربار میں آیا اور اس نے کہا کہ " اے امیر المومنین میں آپ کو پرسہ دینے آیا ھوں ، تعزیت کرنے آیا ھوں کیونکہ  اور کوئی شخص اور گھرانہ تعزیت کے لئے مجھے مناسب نہیں لگا۔ اس لئے کہ مرحوم نے آپ کے گھرانے میں ھی جنم لیا اور اسی میں پلا بڑھا اور آج مر گیا۔ خلیفہ ہکا بکا اس مسخرے کا منہ دیکھتا رھا۔ کچھ بکو گے بھی یا نہیں کہ کس کا انتقال ھو گیا؟ امیر المومین میں قرآن کے فوت ھونے پر آپ کو پرسہ دیتا ھوں انا للہ و انا الیہ راجعون۔ بیشک کل نفسٍ ذائقۃ الموت۔ اے امیر المومنین صبر کیجئے کہ سب مخلوق کے مقدر میں اللہ نے مرنا ھی لکھا ھے۔ خلیفہ کی حالت بڑی غیر تھی۔ کیونکہ اس نے ابھی تک قرآن کے مخلوق ہونے سے سرکاری طور پر براعت کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اگر قرآن مخلوق ھے تو پھر اس کا مرنا بھی لازم ھے اس سے انکار اس کے مخلوق نہ ھونے کی واضح دلیل تھی۔
خلیفہ نے اسی دن سرکاری طور پر اعلان کروا دیا کہ آئندہ اگر کسی نے کلام اللہ کو مخلوق کہا تو اس کو سزا دی جائے گی یوں یہ فتنہ اپنے انجام کو پہنچا۔
-------------------------------------
امام احمد پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔


No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...