علم جہاں انبیاء (علیھم السلام) کی میراث ہے وہیں لا علمی بھی بڑی نعمت ہے۔
ایک طرف اللہ احکم الحاکمین نے نبی کریم ﷺ پر وحی کے ذریعے ہمیں اپنی پہچان اور دنیا و آخرت کی بھلا ئی کا علم دیا ہے تو دوسری طرف بعض معاملات میں ہمیں بے خبر رکھ کر لاعلمی کی نعمتوں سے بھی نوازا ہے۔ کہیں علم ہمارے لئے نعمت ہے تو کہیں لاعلمی اور اس کا طے کرنے والا بھی ہمارا خالق ہی ہے جو احکم الحاکمین ہے جس کا ہر فیصلہ مبنی بحکمت ہے ۔
ہمارے رب نے ہمیں بعض علم سیکھنے سے منع کیا ہے‘ بعض باتوں کا کھوج لگانے سے بھی دور رہنے کا حکم دیا ہے اور بعض علم کو ہم پر مکمل مخفی رکھا ہے۔ اسی طرح ہر انسان پر دوسرے انسان کی دل کی حقیقت مخفی رکھی گئی ہے۔
جادو کا علم سیکھنے کی ممانت ہے تو کسی مسلمان بھائی کی تجسس یا کھوج میں رہنا بھی حرام ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا ۔۔۔ (الحجرات: 12)
” اے اہل ایمان ! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو “۔
مستقبل کا علم بھی ہمیں نہیں دیا گیا اور کسی کاہن سے اسے جاننے کی کوشش کرنے کو بھی منع کردیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کر دے تو نبی کریمﷺ پر اترنے والے دین (قرآن وسنت) کا منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 3904)
جس علم میں ہمارے لئے بھلائی نہیں ہے یا جو علم ہماری برداشت سے باہر ہے ‘ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نےاس علم سے ہمیں دور رکھا یا دور رہنے کو کہا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :
”جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ جان لیتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ“۔(سنن ترمذی، حدیث نمبر2313)
احکم الحاکمین کے ہر حکم میں بے شمار حکمتیں ہیں اور بعض علوم سے لاعلم رکھنے میں ہی انسان اور انسانییت کی بھلائی ہے۔
جو علم انسان کو فائدہ نہ دے اور نقصان کا باعث ہو‘ اس علم سے لاعلمی ہی بہتر ہے اور اس سے دور رہنے میں ہی خیر ہے۔ اسی لئے رحمت اللعالمین ﷺ نے ہمیں علم نافع کی دعا کرنا سکھایا ہے:
ہمارے رب نے ہمیں بعض علم سیکھنے سے منع کیا ہے‘ بعض باتوں کا کھوج لگانے سے بھی دور رہنے کا حکم دیا ہے اور بعض علم کو ہم پر مکمل مخفی رکھا ہے۔ اسی طرح ہر انسان پر دوسرے انسان کی دل کی حقیقت مخفی رکھی گئی ہے۔
جادو کا علم سیکھنے کی ممانت ہے تو کسی مسلمان بھائی کی تجسس یا کھوج میں رہنا بھی حرام ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا ۔۔۔ (الحجرات: 12)
” اے اہل ایمان ! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو “۔
مستقبل کا علم بھی ہمیں نہیں دیا گیا اور کسی کاہن سے اسے جاننے کی کوشش کرنے کو بھی منع کردیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کر دے تو نبی کریمﷺ پر اترنے والے دین (قرآن وسنت) کا منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 3904)
جس علم میں ہمارے لئے بھلائی نہیں ہے یا جو علم ہماری برداشت سے باہر ہے ‘ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نےاس علم سے ہمیں دور رکھا یا دور رہنے کو کہا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :
”جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ جان لیتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ“۔(سنن ترمذی، حدیث نمبر2313)
احکم الحاکمین کے ہر حکم میں بے شمار حکمتیں ہیں اور بعض علوم سے لاعلم رکھنے میں ہی انسان اور انسانییت کی بھلائی ہے۔
جو علم انسان کو فائدہ نہ دے اور نقصان کا باعث ہو‘ اس علم سے لاعلمی ہی بہتر ہے اور اس سے دور رہنے میں ہی خیر ہے۔ اسی لئے رحمت اللعالمین ﷺ نے ہمیں علم نافع کی دعا کرنا سکھایا ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ: اے اللہ! میں آپ سے نفع پہنچانے والا علم‘ ُپاکیزہ و حلال رزق اور مقبول عمل کی توفیق مانگتا ہوں۔
اور غیر نافع علم سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَ مِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا
ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع دینے والا نہ ہوں اور ایسے دل سے جو ڈرنے والا نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر ہونے والا نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول ہونے والی نہ ہو۔
ان دعاؤں کو اپنی معمولات میں شامل کرتے ہوئے ہر مسلمان کو علم نافع طلب کرنا اور غیر نافع علم سے اللہ کی پناہ مانگنتے رہنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین
تحریر: محمد اجمل خان

No comments:
Post a Comment