Ad3

آملہ

یہ درخت مختلف جگہو ں میں چھو ٹا بڑا ہو تا ہے۔ یعنی جنگلی کا در خت بڑا لیکن قلمی جس کو بنارسی کیا جاتاہے وہ درخت چھو ٹا ہو تا ہے ۔
تناْ۔ٹیڑھا سخت لکڑی کا اور اس کے اوپر کا چھلکا لگ بھگ چو تھا ئی انچ مو ٹا اور راکھ کی طر ح سفیدی مائل ہو تا ہے ۔ اور ہر سا ل اتر تا رہتا ہے ۔ پھل کا غذی کی طر ح چھوٹے بڑے لیکن گول جو قدرتی طور پر چھ پھانکو ں میں تقسیم ہو تے ہیں ۔ پھل کا چھلکا بہت پتلا ہو تا ہے جن کے اندرایک دو جنوری تک زردیاسرخی مائل زرد ہو جا تا ہے ۔ آملہ کا پھل اگست اور ستمبر میں سبز اور پھر نومبر سے جنو ری تک زرد یا سر خی مائل زرد ہو جاتاہے ۔ اس کا وزن عموماً پچیس گرام لیکن قلمی آملہ کا وزن پچا س گرام ہو تا ہے ۔ بڑا آملہ عمو ماً مربہ کے لئے جب کہ چھو ٹا آملہ ادویا ت کیلئے خشک کیے جا تے ہیں ۔ مو سم خزاں کے بعد ما رچ اپریل میں شاخوں پر سبزی مائل زرد بہت چھو ٹے چھو ٹے گچھو ں میں اوران سے خو شبو لیمو ں کے پھلوں کے طرح آتی ہے۔
مقام پیدائش ۔ عمو ماً کنکریلی اور پتھر ی زمین میں پیدا ہو تا ہے اور سمندری کنا روں کے نز دیک بھی پید ا ہو تا ہے ۔
رنگ ۔ تازہ بھورا سبزی مائل زردجبکہ خشک سیا ہی مائل نیلگوں اور اس پر جھر یا ں پڑی ہو تی ہیں ۔
ذائقہ ۔ پہلے کھٹا اور کیسلا لیکن بعد میں شیر یں میٹھا لگتا ہے ۔
مزاج ۔ سرد پہلے درجہ میں ، خشک دوسر ے درجے میں ۔
افعال و خواص ۔ مقوی اعضاء ریئسہ، مقوی معدہ ، مسکن حدت صفراء و خون ،مقوی چشم ، مقو ی و مسود شعر ، قابض خفیف ، مدر خفیف ۔
استعمال ۔ حا فظہ اور دما غ کو تیز کر تاہے ۔قوت بصر کو طاقت دینے کے علاوہ غفقان ، ضعف قلب اور ضعف معدہ کو دور کر نے کیلئے آملہ کا استعما ل باکثرت کیا جا تا ہے ۔ صفراء اور خون کے جو ش کو تسکین دینے کے علاوہ پیاس زائل کر نے اور دستو ں کو روکنے کیلئے مفید ہے ۔ آملہ کا پانی یا عصا رہ تیار کر کے تقویت چشم کے لئے آنکھو ں میں لگاتے ہیں ۔ آملہ کے خیساندہ یا جو شاندہ کے سا تھ بال دھونے سے بال صاف ہو جا تے ہیں ۔ وٹامن سی کی وجہ دل و دما غ اور پٹھو ں کو طا قت دیتا ہے ۔رحم اور آنکھو ں کیلئے مقوی ہے ۔اعضا ء کی زائد رطوبت کو خشک کرتا ہے اور ہائی بلڈ پر یشر کیلئے مفید ہے ۔ جب کہ بلڈ پر یشر زیا دہ ہا ئی نہ ہو ۔ اس میں ترش تیزاب ہو نے کی وجہ سے بھوک لگتی ہے ۔ لیکن آنتو ں پر اس کا خاص اثر نہیں ہو تا ہے ۔ دما غ کی طرف اجتما ع خون کو کم کر تا ہے ۔ اس لئے صداع ، تبخیر معدہ ،ما لیخولیا اورفالج میں مفید ہے ۔ رعا ف، خونی بواسیرکو ضما داًواکلاًمفید ہے ۔ وٹامن سی کی وجہ سے بہتے پھوڑے پھنیسو ں میں مفید ہے اگر برگ نیم کے ساتھ ملا کر کھایا جائے تو مصفیً خون ہے ۔ایک کلو تا زہ آملو ں میں چھ ہزار یو نٹ وٹامن سی اور پا نچ سوحرارے ہوتے ہیں ۔وٹامن سی کے علاوہ آملہ میں فولاد کی بھی کچھ مقدار پائی جا تی ہے نیز درج زیل اجزاء بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کا تناسب دس فیصدی ہے ۔
ٹے ٹین ، گیلک ایسڈ ، گلو کو ز، کیلسم اور ٹینک ایسڈاس تجزیہ سے معلوم ہو تا ہے کہ پاءئیو ریا کے علاوہ لیکو ریا اور مزکورہ امراض کی مفید ترین دواء ہے ۔
فوائد خاص ۔ مقوی اعضائے ریئسہ ،لشہ دامیہ ، حابس ، اسہال اور مقوی معدہ ۔
مضر۔ قبض گو قولنج پیدا کر تا ہے ۔
مصلح ۔ شہد ،روغن بادام ۔
بدل ۔ ہلیلہ کاہلی صرف تقویت معدہ میں ۔
مقدار خوراک ۔ تین سے پانچ ما شہ یعنی گرام ۔

تمام پھلوں سے زیادہ وٹامن آملہ میں
مثل مشہور ہے کہ آملے کا کھایا اور بزرگوں کا کہا بعد میں پتا چلتا ہے یعنی ان دونوں میں جو فوائد پوشیدہ ہیں وہ آگے چل کر سامنے آتے ہیں۔آملے میں قوت و توانائی کا خزانہ بند ہے۔ جو لوگ آملے کا خوردنی استعمال کریں وہ صحت کے ساتھ لمبی عمر پاتے ہیں۔ آملے کا پھل گول شکل کا ہوتا ہے گودا سخت اور موٹا ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اس میں موجود وٹامن سی کی مقدار دنیا کے سبھی پھلوں سے زیادہ ہے۔ یہ وٹامن بہت جلد انسانی بدن میں جذب ہوکر صحت اور قوت مدافعت بڑھانے اور درازی عمر میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
غذائی صلاحیت: آملے کی زبردست قدروقیمت اس کے بڑے جزو‘ حیاتین ج کی وجہ سے ہے۔ مزید برآں اس میں کیلشیم‘ فاسفورس‘ فولاد اور وٹامن بھی ملتے ہیں ۔ آملہ استعمال کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے نمک کے ساتھ کچا کھایا جائے۔ یوں اس میں موجود حیاتین ج (سی) اور فولاد کم سے کم ضائع ہوتا ہے۔ آملے کے دانے بطور سبزی بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہ عموماً دوا کے کام زیادہ آتا ہے۔
طبی استعمال: پھیپھڑوں کے امراض آملے کے استعمال سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ امراض قلب‘ زور زور سے دل دھڑکنے کی حالت اور کمزور دل حضرات کیلئے آملے کا مربہ مفید ہے۔  زیادہ پیاس لگنے یا قے آنے کی صورت میں آملہ چوستے رہیے۔  آملے کا سفوف منجن کے طور پر انگلی سے دانتوں پر ملیے‘ مسوڑھوں سے خون آنا بند‘ دانتوں کا میل صاف اور ہلتے اور دکھتے دانتوں کو آرام ملے گا۔ ٭ آملے کا باریک سفوف اگر چوٹ کے مقام پر چھڑک کر باندھ دیا جائے تو خون بہنا بند ہوجائے گا اور زخم بھی جلد ٹھیک ہوگا۔  تازہ آملے کا رس ایک چمچ اور ایک چمچ شہد ملا کر جو آمیزہ بنے وہ انتہائی عمدہ اور قیمتی دوا ہے۔ یہ متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخشتی ہے۔ ایک ہفتے تک روزانہ صبح سویرے اس آمیزے کا استعمال جسم کو قوت و توانائی سے بھردیتا ہے۔ شدید کمزوری کی صورت میں اسے دو ہفتے استعمال کیجئے۔ اگر تازہ پھل دستیاب نہ ہو تو خشک سفوف کو بھی شہد میں ملا کر معجون بنالیجئے۔
یہ آمیزہ سانس کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔ خاص طور پر پھیپھڑوں کی تپ دق‘ دمے اور کھانسی میں مؤثر ہے۔
آملہ، تخم جامن اور کریلوں کا ہم وزن سفوف ذیابیطس کی عمدہ دوا ہے۔ اس سفوف کی ایک چھوٹی چمچی دن میں ایک یا دو بار لینا مرض بڑھنے سے روکتا ہے۔  دس گرام آملہ پانی میں کوٹ کر چھان لیں۔ بعدازاں اس میں مصری یا شکر ملا کر پینے سے نکسیر کا خون بند ہوجاتا ہے۔ اسی طریقے سے بواسیر کے خون کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔  جوڑوں کے درد اور سوزش میں بھی آملہ مفید ہے۔ خشک آملے کا سفوف ایک چمچ شکر دو چمچ ملا کرایک ماہ تک دن میں دو مرتبہ لینا اس مرض کا مؤثر علاج ہے۔
بڑھاپا:آملے میں نئی قوت اور توانائی مہیا کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ اس میں ایک ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو نہ صرف بڑھاپے کے آثار ختم کرتا ہے بلکہ طاقت بھی برقرار رکھتا ہے۔ یہ انسان کی جسمانی قوت مدافعت بڑھاتا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دل کو قوت دیتا‘ بالوں کو مضبوط بناتا اور جسم کے مختلف غدودوں کو فعال کرتا ہے۔ ایک سنیاسی کی مثال ہے کہ اس نے ستر برس کی عمر میں آملے کے استعمال سے خود کو پھر سے جوان بنالیا تھا۔
بال: گھنے بالوں اور آملے کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بالوں کو چمکدار بنانے کیلئے دیسی نسخوں اور ٹوٹکوں میں آملے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تازہ آملہ ٹکڑوں میں کاٹ کر سائے میں خشک کرلیں۔ پھر انہیں ناریل کے تیل میں اتنا پکائیے کہ تیل کی شکل جلے ہوئے برادے جیسی ہوجائے۔ یہ سیاہی مائل تیل بالوں کو سفید ہونے سے بچانے کیلئے عمدہ دوا ہے۔ تازہ یا خشک آملے کے ٹکڑے رات کو پانی میں بھگودیں۔ اگلے دن اس پانی سے سر کے بال دھوئیں ۔ یہ ان کی نشوونما کیلئے اچھی غذا ہے ۔  یاد رہے کہ صرف اسی پانی سے بال دھوئیے کسی قسم کا شیمپو استعمال نہ کریں۔
آملے کا سفوف پانی میں ملا کر گاڑھا سا لیپ بنالیجئے۔ پھر اسے بالوں کی جڑوں میں لگا کر کچھ دیر بعد سر دھو لیں۔ سفوف اور پانی کا مرکب اتنا گاڑھا ہونا چاہیے کہ تمام بالوں کی جڑوں میں لیپ ہوسکے

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...