Ad3

پی آئی اے کی کہانی

10 جنوری 1955
قیام پاکستان کے وقت پاکستان کو ایک چھوٹی سی فضائی کمپنی ورثے میں ملی تھی جس کا نام اورینٹ ائیر ویز تھا۔یہ ایئر لائن کلکتہ میں برطانوی راج کے دوران 23 اکتوبر 1946ء کو رجسٹر کی گئی۔ اسے مسلم کاروباری خاندانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے کہنے پر قائم کیا۔ ابتدائی سرمایہ کاری اصفہانی، آدمجی، اور اراگ گروپ کی طرف سے کی گئی۔ مرزا احمد اصفہانی اس کے پہلے چیئرمین بنے۔ اس نے چار ڈگلس ڈی سی-3s طیاروں کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔.اس فضائی کمپنی کے صدر دفاتر کلکتہ میں تھے جو قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل کردیئے گئے تھے۔ پاکستان کے قیام کے ابتدائی چھ سات برس تک یہی ائیر لائن ملک میں فضائی آمدورفت کا نظام سنبھالے رہی۔ مگر کم وسائل ہونے کے باعث یہ ایرلائن اپنا دائرہ زیادہ وسیع نہ کرسکی۔ 1954ء میں پاکستان میں ایک قومی ائیر لائن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور 10 جنوری 1955ء کو پاکستان کے وزیر مملکت برائے دفاع سردار امیراعظم خان نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کی ایک نیم سرکاری بین الاقوامی فضائی کارپوریشن کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارپوریشن 5 کروڑ روپے کے منظور شدہ سرمایہ سے قائم ہوگی اور اورینٹ ائیر ویز کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔ اسی دن گورنر جنرل غلام محمد نے اورینٹ ائیر ویز کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں ضم کرنے کے لئے ایک آرڈی ننس بھی جاری کیا۔ یوں 10 جنوری 1955ء کو پاکستان کی قومی ایئر لائن کا قیام عمل میں آگیا۔

11 مارچ 1955ء کو حکومت پاکستان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی تشکیل پر اورینٹ ایئر ویز ،پاک ایئر ، کریسنٹ ایئرویز کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ساتھ ضم کر دیا۔
پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے پہلے سربراہ کا نام ایم ایم اصفہانی تھا۔پاکستان ائیر فورس کے  تین سابق چیفس آف اسٹاف کو اس فضائی ادارے کا سربراہ بنایا جا چکا ہے
1. ائیر مارشل محمد اصغر خاں، 2.ائیر مارشل محمد نور خاں، اور 
3.ائیر مارشل ظفر چوہدری ۔

  جیٹ سروس میں پی آئی اے کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہےکہ اس نے ایشیا میں اس سروس کا آغاز کیا۔1958ء میں پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا ۔ ایئر کموڈور نور خان پی آئی اے میں شامل ہو گئے۔پوری دنیا میں ایک مقابلے کا آغاز ہو گیا کہ کونسی ایئر لائن پہلا جیٹ بوئنگ 707اُڑائے گی۔ بھارت نے سب سے پہلے اس جہاز کا آرڈر دیا کیونکہ وہ ایک امیر ملک تھا۔ایئر کموڈور نورخان نے بہترین کام یہ کیا کہ پین ایم سے ایک 707لیز کروا لیا جو کہ پہلی پرواز بھرنے والا 707 بن گیا۔ یوں پی آئی اے جیٹ پرواز کرانے والی پہلی ایئرلائن بنی اور اس طرح پی آئی اے نے برٹش ایئرویز اور ایئر انڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

عوامی جمہوریہ چین میں فضائی سروس شروع کرنے والی پہلی غیر سوشلسٹ فضائی کمپنی بھی پی آئی اے تھی۔

'Great People to Fly With'
یہ پی آئی اے کا سلوگن تھا ۔

پی آئی اے پہلی ایئرلائن ہے جس نے مسافروں کی انٹرٹینمنٹ کے لئے دوران پرواز فلمیں دکھانے کا آغاز کیا۔

1965ء میں پی آئی اے ٹرانسپورٹ کمانڈ تھی۔ایئرفورس کے پاس ٹرانسپورٹ نہیں تھی۔ پی آئی اے ایئر فورس کے لیے بوئنگ 707اُڑاتی تھی ۔

1971ء کی جنگ میں بھی ایئرفورس کے پاس ٹرانسپورٹ نہیں تھی ، پی آئی اے نے ہی ایئرفورس کو ٹرانسپورٹ فراہم کی تھی۔

پی آئی اے نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1961ء میں پروازیں شروع کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ براہ راست پروازیں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے شکاگو اور نیویارک کو ملاتی تھیں۔ ان روٹس پر پی آئی اے نے کئی سو ارب روپے کمائے۔لیکن 29 اکتوبر 2017 کو پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کا شمالی امریکہ کے لئے پروازوں کا سلسلہ 56 سال بعد بند ہوگیا ہے۔ 27 اکتوبر 2017 کو لاہور سے پی آئی اے کی آخری فلائٹ پی کے 711 نیویارک پہنچی اور وہی طیارہ 29 اکتوبر 2017 کو  پرواز پی کے 712 کے ذریعے نیویارک سے لاہور روانہ ہوا ۔

ماضی کی بہترین ائیرلائنز میں شمار کی جانے والی پی آئی اے کو اس وقت شدید انتظامی اور مالی بحران کا سامنا ہے۔ طیاروں کی کمی کے باعث پی آئی اے کی اندرون ملک پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوتا ہے جس کے باعث مسافروں کی تعداد میں ہر سال متواتر کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

پاکستان ائیرلائنز اس وقت 28 بین الاقوامی اور 25 ملکی ائیرپورٹس پر آپریٹ کر رہی ہے۔ اکثر اہم بین الاقوامی روٹس پر پہلے براہ راست پروازیں چلائی جاتی تھیں جو پہلے ایک سٹاپ اور پھر انہیں بھی بند کرنے کی نوبت آ پہنچی ہے

اس وقت پی آئی اے کے پاس 32 جہازوں کا بیڑہ ہے جس میں کئی جہاز لیز پر حاصل کئے گئے ہیں۔ ادارے میں انتظامی بحران، ضرورت سے زیادہ ملازمین کی بھرتی اور پھر جہازوں کی بری حالت کے باعث پی آئی اے 12 سال سے بھاری مالی خسارے کا شکار ہے۔

اس تمام تر صورتحال کی 5 وجوہات ہیں .
1.سیاسی مداخلت اورسیاستدانوں کی ناکامی
2.. یونینز اور ایسوسی ایشنز کی سیاسی پشت پناہی۔
3.. اعتماد اور لیڈر شپ کا فقدان 
4.عہدوں کے لیے غیر موزوں ڈائریکٹرز۔
5. کرپشن.



No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...