آج سال کا 156 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 209 دن باقی ہیں ۔
1507ء انگلینڈ اور ہالینڈ تجارتی معاہدے پر متفق ہوئے۔
1659ء مغل بادشاہ اورنگ زیب کی تاجپوشی ہوئی
1661ء عظیم سائنسدان آئزک نیوٹن نے کیمبرج کے ٹرینٹی کالج میں داخلہ لیا.
1664ء مصطفی دوم ترکی کے سلطان بنے۔
1827ء یونان کی آزادی کی جنگ کے دوران ترکوں نے ایکرو پولیس اور ایتھنز پر قبضہ کیا.
1832ء فرانس کے بادشاہ لوئی فلپ کا تختہ پلٹنے کے لئے بغاوت بھڑکی۔
1846ء امریکہ میں فلاڈیلفیا اور بالٹیمور کے درمیان ٹیلی گراف لائن کی شروعات ہوئی۔
1875ء امریکہ کے سان فرانسسکو میں پیسفک اسٹاک ایکسچینج کا آغاز ہوا۔
1882ء بمبئی (اب ممبئی) میں طوفان اور سیلاب سے تقریبا ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
1900ء جنوبی افریقہ میں بوریدھ کے دوران برطانوی فوج نے پریٹوریا پر قبضہ کیا۔
1912ء امریکی بحریہ نے کیوبا پر تیسری بار حملہ کیا۔
1915ء ڈنمارک نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے خواتین کو ووٹ کا حق دیا۔
1931ء جولیس رینیکن بیلجئم کے وزیراعظم بنے۔
1940ء دوسری عالمی جنگ میں فرانس کی لڑائی شروع ہوئی۔
1942ء امریکہ نے بلغاریہ، ہنگری اور رومانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
1944ء جنگ عظیم دوم کے دوران ایک ہزار سے زائد امریکی بمبارجہازوں نے پانچ ہزار ٹن وزنی بم جرمنی کے اسلحہ خانے پر گرائے۔
1945ء امریکہ، برطانیہ، فرانس اور سوویت یونین نے جرمنی پر اپنا حق ظاہر کیا۔
1953ء امریکی سینیٹ نے چین کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔
1953ء ڈنمارک میں نیا آئین اپنایا گیا۔
1967ء اسرائیل اور پڑوسی عرب ملکوں مصر، اردن، شام، عراق اور لبنان کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو چھ دن تک جاری رہی۔
1968ء امریکی صدر جان کینیڈی کو لاس اینجلس میں گولی ماری گئی۔ اگلے روز ان کی موت ہوگئی۔
1969ء روس کے دارالحکومت ماسکو میں بین الاقوامی کمیونسٹ کانفرنس شروع ہوئی۔
5 جون1972 ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اقوام متحدہ کی جانب سے اسٹاک ہوم میں منعقد ہونے والی انسانی ماحولیات کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر20پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر رفیع الدین نے تیا رکیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ONLY ONE EARTHکے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔
5 جون 1977ء کو فرانس کے ماہرین آثار قدیمہ نے بلوچستان میں درہ بولان کے دامن میں مہر گڑھ کی مقام پر 3000 سے 7000 برس قبل مسیح کے آثار کی دریافتگی کا اعلان کیا۔ ان کے اس کے اعلان کے مطابق مہر گڑھ کی تہذیب موئن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیب سے بھی 4000 سال پرانی تھی۔ ان ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیق کے مطابق مہر گڑھ کے لوگ مٹی کے بنے ہوئے گھروں میں رہتے تھے۔ وہ مویشی پالتے تھے، مکئی اور گندم کی کاشت کرتے تھے اور دھات اور مٹی کے بنے ہوئے برتن بھی استعمال کرتے تھے۔
1984ء آپریشن بلیو اسٹار کے تحت ہندوستانی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل سورن مندر میں داخل ہوئی۔
1985ء میں پاکستان کی ہاکی ٹیم نے دنیائے ہاکی کے کم و بیش سب ہی بڑے ٹورنامنٹس جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا تھا۔ ان ٹورنامنٹس میں اولمپکس، ورلڈ کپ، ایشیا کپ اور ایشین گیمز کے نام سرفہرست تھے۔ اتنے ٹورنامنٹس میں بیک وقت کامیابی کو کھیلوں کی اصطلاح میں گرینڈ سلام (Grand Slam) کہا جاتا ہے۔ 5جون 1985ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اس حوالے سے ایک روپیہ مالیت کا ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جسے عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر اولمپک کھیلوں کے گولڈ میڈل، عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی ٹرافی اور ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے میڈل کی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔
1991ء سوویت یونین کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری میخائل گورباچوف کو 1990ء کے نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔
5جون 2012ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ماحولیات کے عالمی دن اورا قوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر چار یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا۔ ان ڈاک ٹکٹوں پر جھیل سیف الملوک، پولو کے کھیل،شالامار باغ اور باب خیبر کی تصاویرشائع کی گئی تھیں اور انگریزی میں WORLD ENVIRONMENT DAY GREEN ECONOMY UNEP JUNE 5 کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔ آٹھ آٹھ روپے مالیت والے ان یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے تیار کیا
2013ء بہار میں بجلی گرنے سے 44 افراد ہلاک ہوئے۔
2013ء نواز شریف تیسری بار پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔
ولادت
1971ء مارک واہلبرگ، امریکی اداکار
1957ء۔۔۔محمد عبدالغفور حیدری 5 جون 1957 کو قلات ضلع میں محمد عظیم کے گھر پیدا ہوئے ۔ انہوں نے دارالعلوم دارالہدیٰ، تھیڑی میں ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم جامعہ مخزن العلوم خانپور اور عالم فاضل کی سند دارالعلوم ٹنڈو الہ یا ر سے حاصل کی۔حیدری پڑھنے کے دوران جے یو آئی بلوچستان کے صدر اور مرکزی نائب صدر رہے ۔ 1980 میں جمیعت طلبائے اسلام سے مستعفی ہوکر جمیعت علمائے اسلام میں شامل ہوئے۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران انہیں مچھ جیل میں رکھا گیا۔ ایک سال قید بامشقت اور دس کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔1990 کے عام انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ پارلیمانی قائد بھی بنے ۔ تاج محمد جمالی کی قیادت میں قائم ہونے والی صوبائی حکومت میں جمعیت علمائے اسلام کی شمولیت کے بعد انہیں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے وزیر بنایا گیا۔ دو سال بعد اتحادی جماعتوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد حیدری نے جمالی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ برسراقتدار وزیر اعلیٰ نےقبل از وقت استعفٰی دے دیا۔اس کے بعد نواب ذوالفقار مگسی کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے ان کا مقابلہ کیا اور صرف دو ووٹوں سے ہارے ۔ 1993 میں این اے 204 (مستونگ) سے وہ منتخب ہوئے ۔ حیدری نے سردار اختر مینگل کو شکست دی۔ 1995 میں جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ۔ اس منصب پر وہ پانچ مرتبہ منتخب ہوئے اور اب بھی فائز ہیں۔ مئی 2009 میں وہ سینیٹر منتخب ہوئے ۔ 2013 کے انتخابات کے بعد ن لیگ اور جے یو آئی (ف) نے مل کر حکومت بنائی تو وزیر مملکت برائے پوسٹل سروسز بنائے گئے ۔ اس منصب پر وہ 11 مارچ 2015 تک تھے.12 مارچ 2015 سے 13 مارچ 2018 تک وہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ آف پاکستان تھے۔ ۔1994ء میں بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں عبدالغفور حیدری نے عربی میں تقریر کی تھی۔ اس پر عرب وہاں موجود عرب ممالک کے نمائندوں کافی نے سراہا تھا -
اردو کے نامور انشا پرداز ،شاعر،نقاد، مؤرخ اور ماہر تعلیم محمد حسین آزاد 5جون 1830ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی محمد باقر اردو کے پہلے اخبار نویس تسلیم کیے جاتے ہیں ، انہیں 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے گولی سے اڑا دیا تھا۔ محمد حسین آزاد نے دہلی کالج سے تعلیم حاصل کی اور شاعری میں استاد ابراہیم ذوق کے شاگرد ہوگئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد وہ لاہور پہنچے اور محکمہ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور 1984ء میں اورینٹل کالج لاہور سے وابستہ ہوئے۔ 1887ء میں انہیں حکومت شمس العلما کا خطاب عطا کیا۔ اسی دوران 1865ء میں انہوں نے انجمن پنجاب قائم کی اور لاہور میں جدید شاعری کی تحریک کی شمع روشن کی۔ اس انجمن کے اہتمام میں انہوں نے نئے طرز کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی جس میں مصرع طرح کی بجائے عنوانات پر نظمیں پڑھی جاتی تھیں۔ 1889ء میں بیٹی کی وفات کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے اور اسی عالم میں 22 جنوری 1910ء کو وفات پاگئے۔ آپ لاہور میں کربلا گامے شاہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔ مولانا محمد آزادی کی تصانیف میں آب حیات، نیرنگ خیال، سخن دان فارس، دربار اکبری، جانورستان، قصص ہند اور نگارستان کے نام سرفہرست ہیں۔
اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔ علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ 31جنوری1951ء کو علامہ سیماب اکبر آبادی انتقال کرگئے۔وہ کراچی میں قائداعظم کے مزار کے نزدیک آسودۂ خاک ہیں۔
پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر 5 جون 1900ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ پنجابی زبان و ادب کی متعدد خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ’’بابائے پنجابی‘‘کہا جاتا ہے۔ 1951ء میں انہوں نے پنجابی زبان کا اولین رسالہ ’’پنجابی‘‘ جاری کیا پھر ڈاکٹر محمد باقر کے ساتھ پنجابی ادبی اکادمی قائم کی جس کے تحت پنجابی زبان و ادب کی متعدد قدیم و جدید کتابیں شائع ہوئیں۔ وہ ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور انہوں نے پنجابی زبان کو نئے اسلوب اور نئے آہنگ سے آشنا کیا۔ ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی مدون کی ہوئی کتب میں کلیات ہدایت اللہ، کلیات علی حیدر، کلیات بلھے شاہ اور چٹھیاں دی وار، شعری کتب میں صدائے فقیر، نیلے تارے، مہکدے پھول، ستاراں دن، چنگیاڑے اور مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم اور عمر خیام کی رباعیات کے منظوم تراجم شامل ہیں۔ ٭11 ستمبر 1974ء کو پنجابی زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر فقیر محمد فقیر وفات پاگئے اور گوجرانوالہ میں احاطہ مبارک شاہ بڑا قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
وفات
1973ء راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے لیڈر مادھو سداشیو گولوالکر
2004ء امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن کا انتقال ہوا۔
تعطیلات و تہوار
ماحولیات کا عالمی دن
2006ء سربیا نے آزادی کا اعلان کیا۔
No comments:
Post a Comment