05 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا پانچواں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 360 دن باقی ہیں
1659ء مغل حکمراں اورنگ زیب نے کھجوا کی لڑائی میں شاہ شجاع کو شکست دی۔
1896ء ایک آسٹیئن اخبار نے جرمنی سائنسداں ولہیلمن رونجن کے ذریعے ’ایکسرے‘ کی دریافت کی خبر کو پہلی مرتبہ شائع کیا۔
1909ء کولمبیا نے پاناما کی آزادی تسلیم کی۔
1919ء جرمن ورکرس پارٹی کی تشکیل ہوئی بعد میں یہی نازی پارٹی کہلائی۔
1925ء مسز نیلی ٹیلر راس پہلی امریکی خاتون گورنر بنیں۔
1930ء ماؤزے تنگ کی مشہور کتاب ’اے سنگل اسپارک کین اسٹارٹ اے پریٹی فیئر‘ منظر پر آئی۔
1957ء بھارت میں سینٹرل سیلز ٹیکس قانون نافذ ہوا۔
1961ء امریکہ نے کیوبا سے سفارتی رشتے منقطع کئے۔
1964ء رومن کیتھولک اور آرٹھو ڈاکس چرچ کے رہنماؤں کے درمیان 15ویں صدی کے بعد یروشلم میں پہلی ملاقات تھی۔
1968ء بھارتی حکومت نے لوک پال مقرر کرنے کی انتظامیہ اصلاحات سے متعلق کمیشن کی سفارش کو منظوری دی۔
1972ء امریکی صدر نکسن نے شٹل خلائی طیارہ پر تحقیق کے لئے ایک معاہدہ پر دستخط کئے۔
1976ء خمیر روژ سرکار نے کمبوڈیا کا نام بدل کر ’ڈیمو کریٹک کمپوچیا‘ کیا۔
1988ء بھارت میں نابیناؤں کے لئے پہلی بریل شارٹ ہینڈ مشین بازار میں اتاری گئی۔
1996ء اسرائیل پر سلسلہ وار خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ یاہو عیاش عرف ’انجینئر‘ غزہ میں خودکش حملے کے دوران مارا گیا۔
2002ء کھٹمنڈو میں گیارہویں سارک کانفرنس کے دوران واجپائی نے جنرل پرویز مشرف سے تاریخی مصافحہ کیا۔
2004ء ایران نے مصر کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
2006ء مکہ میں حج کے دوران چار منزلہ عمارت گرنے سے کم از کم 76 افراد جاں بحق ہوئے۔
ولادت :
1592ء ابوالمظفر شہاب الدین محمد خرم شاہجہاں اول، (19 جنوری 1628ء تا 31 جولائی 1658ء) پانچواں مغل شہنشاہ لاہور میں پیدا ہوئے (وفات: 1666ء)
1808ء محمد شاہ قاجار (محمد شاه قاجار) فارس کے قاجار خاندان کا (23 اکتوبر 1834ء تا 5 ستمبر 1848ء) تیسرا شاہ (وفات: 1848ء)
1846ء روڈولف کرسٹوف ائیوکن ، نوبل انعام برائے ادب (1908ء) یافتہ جرمن زبان کے آدرشی فلسفی، مصنف، استاد جامعہ (وفات: 1926ء)
1874ء جوزف ارلینگر ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1944ء) یافتہ امریکی طبیب (ماہر عصبیات) اور استاد جامعہ (وفات: 1965ء)
1876ء کونارڈ ایڈنائر ، مغربی جرمنی کا وکیل، منصف، سیاست دان ، (15 ستمبر 1949ء تا 15 اکتوبر 1963ء) پہلا چانسلر مغربی جرمنی (وفات: 1967ء)
1893ء مُکند لال گھوش بمعروف پرم ہنس یوگانند ، بھارتی یوگی اور گرو تھے جنھوں نے اپنی تنظیم ”Yogoda Satsanga Society of India“ اور ”Self-Realization Fellowship“ کے ذریعے مراقبہ اور کریہ یوگا کی تعلیمات اہلِ بھارت اور اہلِ مغرب میں متعارف کیں۔ ان کی کتاب ”Autobiography of a Yogi“ اب تک کا روحانی شاہکار ہے اور اسے اکیسویں صدی کی 100 بہترین روحانی کتابوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ (وفات: 1952ء)
1920ء اسلم کھوکھر ، پاکستانی کرکٹر (وفات: 2011ء)
1922ء محمد عمر مقری بمعروف مقری ، چحوٹے قد کے بھارتی اداکار (وفات: 2000ء)
1928ء امتیاز احمد ، تمغہ حسن کارکردگی (1966ء) یافتہ پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں شامل تھے پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی اور کپتان ، اُنہوں نے پاکستان کی طرف سے 41 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 2000 سے زیادہ رنز بنائے۔ وہ پاکستان کے پیلے ٹیسٹ وکٹ کیپر تھے۔ (وفات: 2016ء)
1990ء آشا رائے ، بھارتی ایتھلیٹ
1928ء والٹر مونڈیل ، امریکی وکیل، سیاست دان اور سفارتکار اور (20 جنوری 1977ء تا 20 جنوری 1981ء) 42ویں نائب صدر ریاستہائے متحدہ امریکہ
1932ء عبد الرؤف عروج ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور محقق (وفات: 1990ء)
1932ء کلیان سنگھ ، بھارت کی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھارتی دہشت گرد سیاستدان ، 4 ستمبر 2014ء سے راجستھان کا گورنر ہے۔ کلیان سنگھ کو بابری مسجد کے انہدام میں اپنے کردار کے لیے جانا جاتا ہے۔
1934ء مرلی منوہر جوشی ، بھارت کی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھارتی دہشت گرد سیاستدان ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ اپنی وابستگی اور بابری مسجد کی شہادت کے لئے جانا جاتا ہے۔
1948ء لیاقت علی جتوئی ، سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاست دان ، (22 فروری 1997ء تا 30 اکتوبر 1998ء) 25ویں وزیر اعلیٰ سندھ
1950ء مولانا زاہدالراشدی، مذہبی سکالر اور عالم دین
1953ء آنند شرما ، بھارتی سیاست دان
1960ء قمر زمان کائرہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ، یوسف رضا گیلانی کے دور میں حکومت (16 ستمبر 2009ء تا 22 مارچ 2010ء) پہلے گورنر گلگت بلتستان اور (18 اپریل 2012ء تا 16 مارچ 2013ء) پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات پاکستان تھے۔
1986ء ثناء میر ، ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی خاتون کرکٹ کھلاڑی اور کپتان ، ان کی سربراہی میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشیائی کھیلوں میں 2010 اور 2014 میں دو سونے کے تمغے حاصل کیے۔ انہوں نے 2008ء خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائیر کے مقابلے میں “مقابلے کی بہترین کھلاڑی“ کا اعزاز کیا۔
1986ء دیپکا پڈوکن، بھارتی اداکارہ ، ان کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔
5 جنوری 1928ء پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر امتیاز احمد کی تاریخ پیدائش ہے۔ امتیاز احمد لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 1952ء میں بھارت کے خلاف کیا اور مجموعی طور پر 41 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا جس میں انہوں نے تین سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 2079 رنز اسکور کیے۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہیں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے یہ ڈبل سنچری 26 سے 31 اکتوبر 1955ء کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے لاہور ٹیسٹ میں اسکور کی تھی۔ امتیاز احمد نے اپنی اس یادگار اننگز میں 28 چوکوں کی مدد سے 209 رنز اسکور کیے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس یادگار اننگز کی اگلی اننگز میںکوئی رن بنائے بغیر صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوگئے اور یوں وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی قرار پائے جس نے کسی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ڈبل سنچری اسکور کی اور دوسری اننگز میں صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوئے۔ 1961ء میں انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی۔
1928ء ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما (15 جون 1963ء تا 31 اگست 1966ء) ساتویں وزیرِ خارجہ پاکستان ، (20 دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973ء) چوتھے صدرِ پاکستان ، (14 اپریل 1972ء تا 15 اگست 1972ء) ساتویں مکلم ایوان زیریں پاکستان اور (14 اگست 1973ء تا 5 جولائی 1977ء) ملک کے نویں اور پہلے منتخب وزیرِ اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بمبئی ، کیلیفورنیا اور آکسفرڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی میں وکالت کا آغاز کیا اور ایس ایم لاء کالج میں بین الاقوامی قانون پڑھانے لگے۔ جلد ہی ان کی شہرت حکومتی ایوانوں تک جا پہنچی۔ 1958ء میں ایوب خان نے انہیں اپنی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا۔ 1963ء میں وہ پاکستان کے وزیرخارجہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں انقلاب آگیا اور پاکستان عالمی تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ ستمبر 1965ء میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپور انداز سے پیش کیا۔ جنوری 1966ء میں جب صدر ایوب خان نے اعلان تاشقند پر دستخط کیے تو ذوالفقار علی بھٹو بڑے دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے۔ 30 نومبر 1967ء کو انہوں نے لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جو بہت جلد پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں انہوں نے مغربی پاکستان میں واضح کامیابی حاصل کی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ 1971ء میں پاکستان کے صدر اور پھر 1973ء میں پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے 1977ء کے عام انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی مگر حزب اختلاف نے ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ حزب اختلاف نے انتخابی نتائج کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلائی جس کے نتیجے میں 5جولائی 1977ء کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے جناب ذوالفقار علی بھٹوکو ان کے عہدے سے معزول کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ دو ماہ بعد ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا۔ 18 مارچ 1977ء کو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ تین ججوں نے انہیں بری کرنے کا اور تین ججوں نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس ، جسٹس انوار الحق نے اپنا وزن ان ججوں کے پلڑے میں ڈال دیا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی موت کی سزا کے توثیق کی تھی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر پہنچا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا۔
*وفات
740ء حضرت زیدؒ بن حضرت علیؒ ، امام زین العابدین ؒ اور جنابِ جیدہ السندہی ؒ کے فرزند ۔ (پیدائش: 695ء)
1286ء ژین جین یا ژینجین ، قبلائی خان کا دوسرا بیٹا اور یوآن خاندان کا بانی تھا۔ قبلائی خان نے اسے 1273ء میں ولی عہد مقرر کیا۔ تاریخ یوآن کے مطابق ژین جین کی موت کثرت مے نوشی تھی تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ صرف کثرت مے نوشی اس کی موت کا اصل سبب نہیں تھی۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ اس کی موت سے کچھ عرصہ قبل دربار کے کچھ وزرا قبلائی خان کو سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے معزول کر کے اسے خان (بادشاہ) بنانا چاہتے تھے کیونکہ اس کا سلطنت میں بہت احترام کیا جاتا تھا۔ تاہم شہزادہ ژین جین نے ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے قبلائی خان کو اس بات کا پتہ چل گیا اور وہ بہت غصہ ہوا، جس کی وجہ سے ژین جین نے انتہائی خوفزدگی کے عالم میں زیادہ شراب پینا شروع کر دی جو اس کی موت کا سبب بنی۔ اس کی موت کت بعد قبلائی خان نے ژین جین کے بیٹے تیمور خان کو ولی عہد مقرر کیا جو 1294ء میں شہنشاہ بنا۔ (پیدائش: 1243ء)
1933ء جان کیلون کولج ، امریکی وکیل ، سیاستدان اور ریاست کار ، (4 مارچ 1921ء تا 2 اگست 1923ء) 29واں نائب صدر ریاستہائے متحدہ امریکا اور (2 اگست 1923ء تا 4 مارچ 1929ء) 30واں صدر ریاستہائے متحدہ امریکا (پیدائش: 1872ء)
1933ء جان میکننن رابرٹسن ، کثیر التصانیف صحافی، عقلیت اور سیکولرازم کا ایڈووکیٹ ، سیاست دان ماہرِ عمرانیات، ماہر معاشیات ، انہیں رابرٹسن نظریہ اسطور مسیح کے ایڈووکیٹ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ (پیدائش: 1856ء)
1942ء ٹینا مودوتی ، اطالوی فوٹوگرافر، ماڈل، اداکارہ اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کی انقلابی سیاسی کارکن (پیدائش: 1896ء)
1970ء میکس بورن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1954ء) یافتہ جرمنی نژاد برطانوی طبیعیات دان، ریاضی دان، استاد جامعہ ، انہوں نے یہ انعام جرمن طبیعیات دان والٹتھر بوتھ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا، جس کی وجہ انسیڈنس میتھڈ کو ایجاد کرنا اور اس سے جڑے ان کے دیگر قابل قدر کارنامے تھے ۔ (پیدائش: 1882ء)
1981ء ہیرولڈ کلیٹن یورے ، نوبل انعام برائے کیمیا (1934ء) یافتہ امریکی فزیکل کیمسٹ ،ماہر فلکیات، کیمیادان، طبیعیات دان، استاد جامعہ ، جنھیں آزوٹوپس کے حوالے سسے کام کیا۔ (پیدائش: 1893ء)
2014ء یوسیبیو ، پرتگال سے تعلق رکھنے والے لیجنڈ فٹبالر (پیدائش: 1942ء)
2018ء سردار احمد علی خان پتافی ، سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاست دان (پیدائش: 1942ء)
1890ء گیانندر موہن ٹیگور، ہائی کورٹ کے بیرسٹر کے درجہ حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی وکیل
2007ء نوڈل کے خالق اور جاپان میں ’کپ نوڈل کے بادشاہ‘ کی حیثیت سے مشہور موموفک آندو
2012ء رسول بادشاہ، خیبر پختونخوا میں ریڈیو، ٹی وی اور فوک موسیقی کے عوامی گلوکار
2018ء زبیدہ طارق المعروف زبیدہ آپا۔زبیدہ طارق 4 اپریل 1945 پیدا ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا جب جنگ عظیم اور تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد زبیدہ آپا نے خاندان کے ہمراہ کراچی کا رخ کیا، ابھی وہ 21 سال کی تھیں کہ 1966 میں ان کی شادی ہوگئی۔ ان کی ایک بیٹی شاہا طارق اور ایک بیٹا حسنین طارق یے۔زبیدہ طارق جس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں ، پاکستان کی مایہ ناز مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا،منفرد لہجے کی شاعرہ زہرہ نگاہ اور ہر خاص و عام میں مقبول قلمکار،شاعر،مزاح نگار،مصور اور اداکارانور مقصود بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔جی ہاں، زبیدہ طارق انہی نامور شخصیات کی سگی بہن ہیں ۔ دس بہن بھائیوں میں زبیدہ آپا کا نواں نمبر ہے۔
1996 کا سال زبیدہ آپا کی زندگی میں اہم تھا، یہ وہ دور تھا جب ان کی عمر نصف سنچری مکمل کرچکی تھی۔ اس برس ان کے شوہر ایک کمپنی سے ریٹائرڈ ہوئے تو ادارے نے زبیدہ طارق کو طارق کی کرسی عطا کردی۔ چار مشہور کامیاب بھائی بہنوں کے درمیان گمنام زندگی گزارنے والی زبیدہ آپا کا کیریئر 50 سال کی عمر میں شروع ہوا۔آپا زبیدہ طارق نے لگ بھگ 21 سال پہلے کوکنگ ایڈوائرز کی حیثیت سے شوبزمیں قدم رکھا، ’تقریناً سارے ہی نجی ٹی وی چینلز سے ککری شوز، ٹاک شوزاور مارننگ شوز کئے ، ان کی تعداد تقریباً 4000بنتی ہے۔زبیدہ طارق کو پارکنسن کا عارضہ لاحق تھا۔ان کا انتقال 5 جنوری 2018 کو ہو.
2018ء اصغر خان،پاک فضائیہ کے پہلے کمانڈر انچیف ائیر مارشل اصغر خان17 جنوری 1921ء کوجموں میں پیدا ہوئے۔ 1936ء میں رائل انڈین ملٹری کالج ڈیرہ دون میں تعلیم حاصل کی۔ 1940ء میں گریجویشن کی اور اسی سال کے آخر میں نویں رائل دکن ہارس میں کمشین آفسر مقرر ہوئے۔ 1941ء میں انڈین ائیر فورس میں چلے گئے۔ اسی سال انبالہ اور سکندر آباد سے ہوا بازی کی تربیت حاصل کی۔ اگلے سال نمبر 3 سکوارڈن انڈین ائر فورس پشاور میں تعینات ہوئے۔ 1944ء میں برما میں بطور فلائیٹ کمانڈر خدمات انجام دیں اور جنگ برما میں حصہ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو جاپانی فوجی ٹھکانوں پر ہوائی حملہ کرنے پر مامور کیا گیا۔ 1945ء میں سکوارڈن لیڈر بنائے گئے۔ 1946ء میں برطانیہ گئے اور وہاں جیٹ طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کی۔ اوائل 1947ء میں فلائنگ ٹرینگاسکول انبالہ میں چیف فلائنگ انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان ائیر فورس کالج رسالپور نوشہرہ کو منظم کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ قائداعظم جب رسالپور تشریف لائے تو انہوں نے ان کا خیرمقدم کیا۔ 1949ء میں گروپ کپٹن بنائے گئے اور اس حیثیت سے آپریشنل پاکستان ائیر فورس کی کمان سنبھالی۔ اسی سال ان کو رائل ائیر فورس سٹاف کالج برطانیہ سے اعلٰی کارکردگی کا ایوارڈ ملا۔ 1957ء میں صرف 36 سال کی عمر میں ائیر وائس مارش بنائے گئے۔ 1958ء میں ائر مارشل ہوگئے اور 1965 میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد محکمہ ہوابازی کے ناظم اعلٰی اور پی آئی اے کے صدر نشین مقرر ہوئے۔ اسی سال سینٹو میں فوجی مشیر بنے۔ اصغر خان کو ہلال قائداعظم اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے یہ اعزازات واپس کر دئیے تھے۔ائیرمارشل اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ تھے توانہوں نے پاک فوج کے طیارے اور سازوسامان حاصل کرنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے پائلٹوں کی تربیت کے لیے بھی بہت محنت کی لیکن اپریل ، مئی 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میں رن آف کچھ کے تنازعے پر انہوں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو فون کر کے دونوں ممالک کی ائر فورسز کو اس تنازعے سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ بادی النظر میں یہ اقدام معمولی نظر آتا ہے لیکن اس سے فضائیہ کے مورال پر بہر طور منفی اثرات مرتب ہوئے۔اصغر خان کے اس طرز عمل پر 23 جولائی 1965 کو آنے والے ائر چیف نور خان نے شدید تنقید کی تھی اور فوری طور فضائیہ کو الرٹ پر ڈال کر کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں پروازیں شروع کرادی تھیں۔جس سے پاک فضایہ جنگ کے لیے تیار ہو گئی اور اس نے جنگ میں بہترین مہارت کا ثبوت دیا۔1969ء میں سیاست کے میدان میں وارد ہوئے اور اپنی سیاسی جماعت جسٹس پارٹی بنائی جس کا نام 1970ء میں بدل کر تحریک استقلال رکھ دیا گیا۔ مارچ 1969ء میں صدر ایوب خان کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں بھٹو صاحب کا ساتھ دیا۔ دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں راولپنڈی کے حلقے سے الیکشن لڑا لیکن ہار گئے۔ ان انتخابات کے بعد بھٹو صاحب کو ایسا عروج حاصل ہوا کہ اصغر خان کی سیاسی قد و قامت گھٹ گئی۔ بھٹو صاحب کے عہد میں حزب اختلاف میں رہے لیکن نہ حکومت نے نوٹس لیا نہ عوام نے۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف جو احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو اس میں دوبارہ سیاست میں آنے کا موقع ملا۔ اور یوں پی این اے کی تحریک کے صف اول کے رہنما بنے۔ لیکن اس دفعہ بھی وہ سیاسی افق پر نمودار نہ سکے اور مارشل لا آگیا۔ یوں بھٹو صاحب کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سے ایک آمر فیض یاب ہوا۔جنرل ضیاء الحق کے عہد میں حکومت کے اوائل برسوں میں اصغر نظر بند رہے۔
1981ء میں پاکستان قومی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرکے 1984 میں بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں شرکت کی اور 1986ء میں اسے بھی چھوڑ دیا۔ 1987ء میں کابل گئے اور افغانستان کی کمونسٹ حکومت سے مذاکرات کیے۔ ان کا خیال تھا کہ افغانستان میں روس سے طویل فوجی مسابقت پاکستان کے مفادات میں نہیں۔ 1988ء کے انتخاب میں تحریک استقلال نےقومی اسمبلی یا کسی بھی صوبائی اسمبلی سے ایک بھی سیٹ نہیں ملی اور یہی حال بعد میں آنے والے انتخابات میں رہا۔ اصغر خان 5 جنوری 2018 کو طویل علالت کے بعد وفات پا گئے
٭5 جنوری 2000ء کو پاکستان کے نامور مصور بشیر مرزا کراچی میں وفات پاگئے اور ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ بشیر مرزا8جون 1941ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں سکونت پذیر ہوئے۔ 1958ء میں انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں داخلہ لیا اور 1962ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ 1965ء میں انہوں نے کراچی میں نائیجیریا کے سفیر کی اقامت پر اپنی پہلی سولو نمائش کی۔ اسی برس انہوں نے کراچی میں دی گیلری کے نام سے ایک آرٹ گیلری کا آغاز کیا جو نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی بھی پہلی پرائیویٹ آرٹ گیلری تسلیم کی جاتی ہے۔ 1967ء میں ان کی مشہور ڈرائنگ سیریز پورٹریٹ آف پاکستان کا پورٹ فولیو منظر عام پر آیا۔ 1971ء میں انہوں نے کراچی میں Lonely Girl کے نام سے اپنی پینٹنگز کی نمائش کی۔ اس کے بعد انہوں نے اسی نوعیت کی کئی اور نمائشیں بھی کیں۔ بشیر مرزا کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اس کے علاوہ 14 اگست 2006ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پینٹرز آف پاکستان کی سیریز کے جو ڈاک ٹکٹ جاری کئے تھے ان میں بشیر مرزا کی تصویر اور ان کی پیٹنگز سے مزین ایک ڈاک ٹکٹ بھی شامل تھا۔
٭5 جنوری 2003ء کو پاکستان کے مشہور فلمی موسیقار نذیر علی لاہور میں وفات پاگئے۔ نذیر علی 1945ء میں گکھڑ منڈی ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔نذیر علی اپنے ہم عصر موسیقار ایم اشرف کے شاگرد تھے اور ان کے ساتھ تیس مارخان اور آئینہ فلم میں معاونت کرچکے تھے۔ نذیر علی نے پہلی مرتبہ پیداگیر میں موسیقی دی تاہم ان کی شہرت کا ستارا فلم دلاں دے سودے سے چمکا۔ نذیر علی کی دیگر فلموں میں جنٹرمین، اکبریٰ، دلا دے سودے، سجناں دور دیا، مستانہ ماہی، سلطان، عشق میرا ناں، دلدار صدقے، وچھڑیا ساتھی، بائیکاٹ، ہتھیار، سیونی میرا ماہی، بڈھا شیر، لال طوفان اور گجر 302 کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے 36 سال میں 140 فلموں میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے 14 فلموں میں دھمالیں ریکارڈ کروائیں۔اسی باعث انہیں دھمال کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔نذیر علی لاہور میں فیصل ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔۔
*تعطیلات و تہوار*
کشمیریوں کا یوم حق خود ارادیت
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا پانچواں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 360 دن باقی ہیں
1659ء مغل حکمراں اورنگ زیب نے کھجوا کی لڑائی میں شاہ شجاع کو شکست دی۔
1896ء ایک آسٹیئن اخبار نے جرمنی سائنسداں ولہیلمن رونجن کے ذریعے ’ایکسرے‘ کی دریافت کی خبر کو پہلی مرتبہ شائع کیا۔
1909ء کولمبیا نے پاناما کی آزادی تسلیم کی۔
1919ء جرمن ورکرس پارٹی کی تشکیل ہوئی بعد میں یہی نازی پارٹی کہلائی۔
1925ء مسز نیلی ٹیلر راس پہلی امریکی خاتون گورنر بنیں۔
1930ء ماؤزے تنگ کی مشہور کتاب ’اے سنگل اسپارک کین اسٹارٹ اے پریٹی فیئر‘ منظر پر آئی۔
1957ء بھارت میں سینٹرل سیلز ٹیکس قانون نافذ ہوا۔
1961ء امریکہ نے کیوبا سے سفارتی رشتے منقطع کئے۔
1964ء رومن کیتھولک اور آرٹھو ڈاکس چرچ کے رہنماؤں کے درمیان 15ویں صدی کے بعد یروشلم میں پہلی ملاقات تھی۔
1968ء بھارتی حکومت نے لوک پال مقرر کرنے کی انتظامیہ اصلاحات سے متعلق کمیشن کی سفارش کو منظوری دی۔
1972ء امریکی صدر نکسن نے شٹل خلائی طیارہ پر تحقیق کے لئے ایک معاہدہ پر دستخط کئے۔
1976ء خمیر روژ سرکار نے کمبوڈیا کا نام بدل کر ’ڈیمو کریٹک کمپوچیا‘ کیا۔
1988ء بھارت میں نابیناؤں کے لئے پہلی بریل شارٹ ہینڈ مشین بازار میں اتاری گئی۔
1996ء اسرائیل پر سلسلہ وار خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ یاہو عیاش عرف ’انجینئر‘ غزہ میں خودکش حملے کے دوران مارا گیا۔
2002ء کھٹمنڈو میں گیارہویں سارک کانفرنس کے دوران واجپائی نے جنرل پرویز مشرف سے تاریخی مصافحہ کیا۔
2004ء ایران نے مصر کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
2006ء مکہ میں حج کے دوران چار منزلہ عمارت گرنے سے کم از کم 76 افراد جاں بحق ہوئے۔
ولادت :
1592ء ابوالمظفر شہاب الدین محمد خرم شاہجہاں اول، (19 جنوری 1628ء تا 31 جولائی 1658ء) پانچواں مغل شہنشاہ لاہور میں پیدا ہوئے (وفات: 1666ء)
1808ء محمد شاہ قاجار (محمد شاه قاجار) فارس کے قاجار خاندان کا (23 اکتوبر 1834ء تا 5 ستمبر 1848ء) تیسرا شاہ (وفات: 1848ء)
1846ء روڈولف کرسٹوف ائیوکن ، نوبل انعام برائے ادب (1908ء) یافتہ جرمن زبان کے آدرشی فلسفی، مصنف، استاد جامعہ (وفات: 1926ء)
1874ء جوزف ارلینگر ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1944ء) یافتہ امریکی طبیب (ماہر عصبیات) اور استاد جامعہ (وفات: 1965ء)
1876ء کونارڈ ایڈنائر ، مغربی جرمنی کا وکیل، منصف، سیاست دان ، (15 ستمبر 1949ء تا 15 اکتوبر 1963ء) پہلا چانسلر مغربی جرمنی (وفات: 1967ء)
1893ء مُکند لال گھوش بمعروف پرم ہنس یوگانند ، بھارتی یوگی اور گرو تھے جنھوں نے اپنی تنظیم ”Yogoda Satsanga Society of India“ اور ”Self-Realization Fellowship“ کے ذریعے مراقبہ اور کریہ یوگا کی تعلیمات اہلِ بھارت اور اہلِ مغرب میں متعارف کیں۔ ان کی کتاب ”Autobiography of a Yogi“ اب تک کا روحانی شاہکار ہے اور اسے اکیسویں صدی کی 100 بہترین روحانی کتابوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ (وفات: 1952ء)
1920ء اسلم کھوکھر ، پاکستانی کرکٹر (وفات: 2011ء)
1922ء محمد عمر مقری بمعروف مقری ، چحوٹے قد کے بھارتی اداکار (وفات: 2000ء)
1928ء امتیاز احمد ، تمغہ حسن کارکردگی (1966ء) یافتہ پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں شامل تھے پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی اور کپتان ، اُنہوں نے پاکستان کی طرف سے 41 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 2000 سے زیادہ رنز بنائے۔ وہ پاکستان کے پیلے ٹیسٹ وکٹ کیپر تھے۔ (وفات: 2016ء)
1990ء آشا رائے ، بھارتی ایتھلیٹ
1928ء والٹر مونڈیل ، امریکی وکیل، سیاست دان اور سفارتکار اور (20 جنوری 1977ء تا 20 جنوری 1981ء) 42ویں نائب صدر ریاستہائے متحدہ امریکہ
1932ء عبد الرؤف عروج ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور محقق (وفات: 1990ء)
1932ء کلیان سنگھ ، بھارت کی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھارتی دہشت گرد سیاستدان ، 4 ستمبر 2014ء سے راجستھان کا گورنر ہے۔ کلیان سنگھ کو بابری مسجد کے انہدام میں اپنے کردار کے لیے جانا جاتا ہے۔
1934ء مرلی منوہر جوشی ، بھارت کی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھارتی دہشت گرد سیاستدان ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ اپنی وابستگی اور بابری مسجد کی شہادت کے لئے جانا جاتا ہے۔
1948ء لیاقت علی جتوئی ، سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاست دان ، (22 فروری 1997ء تا 30 اکتوبر 1998ء) 25ویں وزیر اعلیٰ سندھ
1950ء مولانا زاہدالراشدی، مذہبی سکالر اور عالم دین
1953ء آنند شرما ، بھارتی سیاست دان
1960ء قمر زمان کائرہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ، یوسف رضا گیلانی کے دور میں حکومت (16 ستمبر 2009ء تا 22 مارچ 2010ء) پہلے گورنر گلگت بلتستان اور (18 اپریل 2012ء تا 16 مارچ 2013ء) پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات پاکستان تھے۔
1986ء ثناء میر ، ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی خاتون کرکٹ کھلاڑی اور کپتان ، ان کی سربراہی میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشیائی کھیلوں میں 2010 اور 2014 میں دو سونے کے تمغے حاصل کیے۔ انہوں نے 2008ء خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائیر کے مقابلے میں “مقابلے کی بہترین کھلاڑی“ کا اعزاز کیا۔
1986ء دیپکا پڈوکن، بھارتی اداکارہ ، ان کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔
5 جنوری 1928ء پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر امتیاز احمد کی تاریخ پیدائش ہے۔ امتیاز احمد لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 1952ء میں بھارت کے خلاف کیا اور مجموعی طور پر 41 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا جس میں انہوں نے تین سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 2079 رنز اسکور کیے۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہیں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے یہ ڈبل سنچری 26 سے 31 اکتوبر 1955ء کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے لاہور ٹیسٹ میں اسکور کی تھی۔ امتیاز احمد نے اپنی اس یادگار اننگز میں 28 چوکوں کی مدد سے 209 رنز اسکور کیے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس یادگار اننگز کی اگلی اننگز میںکوئی رن بنائے بغیر صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوگئے اور یوں وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی قرار پائے جس نے کسی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ڈبل سنچری اسکور کی اور دوسری اننگز میں صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوئے۔ 1961ء میں انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی۔
1928ء ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما (15 جون 1963ء تا 31 اگست 1966ء) ساتویں وزیرِ خارجہ پاکستان ، (20 دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973ء) چوتھے صدرِ پاکستان ، (14 اپریل 1972ء تا 15 اگست 1972ء) ساتویں مکلم ایوان زیریں پاکستان اور (14 اگست 1973ء تا 5 جولائی 1977ء) ملک کے نویں اور پہلے منتخب وزیرِ اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بمبئی ، کیلیفورنیا اور آکسفرڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی میں وکالت کا آغاز کیا اور ایس ایم لاء کالج میں بین الاقوامی قانون پڑھانے لگے۔ جلد ہی ان کی شہرت حکومتی ایوانوں تک جا پہنچی۔ 1958ء میں ایوب خان نے انہیں اپنی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا۔ 1963ء میں وہ پاکستان کے وزیرخارجہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں انقلاب آگیا اور پاکستان عالمی تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ ستمبر 1965ء میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپور انداز سے پیش کیا۔ جنوری 1966ء میں جب صدر ایوب خان نے اعلان تاشقند پر دستخط کیے تو ذوالفقار علی بھٹو بڑے دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے۔ 30 نومبر 1967ء کو انہوں نے لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جو بہت جلد پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں انہوں نے مغربی پاکستان میں واضح کامیابی حاصل کی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ 1971ء میں پاکستان کے صدر اور پھر 1973ء میں پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے 1977ء کے عام انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی مگر حزب اختلاف نے ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ حزب اختلاف نے انتخابی نتائج کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلائی جس کے نتیجے میں 5جولائی 1977ء کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے جناب ذوالفقار علی بھٹوکو ان کے عہدے سے معزول کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ دو ماہ بعد ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا۔ 18 مارچ 1977ء کو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ تین ججوں نے انہیں بری کرنے کا اور تین ججوں نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس ، جسٹس انوار الحق نے اپنا وزن ان ججوں کے پلڑے میں ڈال دیا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی موت کی سزا کے توثیق کی تھی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر پہنچا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا۔
*وفات
740ء حضرت زیدؒ بن حضرت علیؒ ، امام زین العابدین ؒ اور جنابِ جیدہ السندہی ؒ کے فرزند ۔ (پیدائش: 695ء)
1286ء ژین جین یا ژینجین ، قبلائی خان کا دوسرا بیٹا اور یوآن خاندان کا بانی تھا۔ قبلائی خان نے اسے 1273ء میں ولی عہد مقرر کیا۔ تاریخ یوآن کے مطابق ژین جین کی موت کثرت مے نوشی تھی تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ صرف کثرت مے نوشی اس کی موت کا اصل سبب نہیں تھی۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ اس کی موت سے کچھ عرصہ قبل دربار کے کچھ وزرا قبلائی خان کو سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے معزول کر کے اسے خان (بادشاہ) بنانا چاہتے تھے کیونکہ اس کا سلطنت میں بہت احترام کیا جاتا تھا۔ تاہم شہزادہ ژین جین نے ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے قبلائی خان کو اس بات کا پتہ چل گیا اور وہ بہت غصہ ہوا، جس کی وجہ سے ژین جین نے انتہائی خوفزدگی کے عالم میں زیادہ شراب پینا شروع کر دی جو اس کی موت کا سبب بنی۔ اس کی موت کت بعد قبلائی خان نے ژین جین کے بیٹے تیمور خان کو ولی عہد مقرر کیا جو 1294ء میں شہنشاہ بنا۔ (پیدائش: 1243ء)
1933ء جان کیلون کولج ، امریکی وکیل ، سیاستدان اور ریاست کار ، (4 مارچ 1921ء تا 2 اگست 1923ء) 29واں نائب صدر ریاستہائے متحدہ امریکا اور (2 اگست 1923ء تا 4 مارچ 1929ء) 30واں صدر ریاستہائے متحدہ امریکا (پیدائش: 1872ء)
1933ء جان میکننن رابرٹسن ، کثیر التصانیف صحافی، عقلیت اور سیکولرازم کا ایڈووکیٹ ، سیاست دان ماہرِ عمرانیات، ماہر معاشیات ، انہیں رابرٹسن نظریہ اسطور مسیح کے ایڈووکیٹ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ (پیدائش: 1856ء)
1942ء ٹینا مودوتی ، اطالوی فوٹوگرافر، ماڈل، اداکارہ اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کی انقلابی سیاسی کارکن (پیدائش: 1896ء)
1970ء میکس بورن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1954ء) یافتہ جرمنی نژاد برطانوی طبیعیات دان، ریاضی دان، استاد جامعہ ، انہوں نے یہ انعام جرمن طبیعیات دان والٹتھر بوتھ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا، جس کی وجہ انسیڈنس میتھڈ کو ایجاد کرنا اور اس سے جڑے ان کے دیگر قابل قدر کارنامے تھے ۔ (پیدائش: 1882ء)
1981ء ہیرولڈ کلیٹن یورے ، نوبل انعام برائے کیمیا (1934ء) یافتہ امریکی فزیکل کیمسٹ ،ماہر فلکیات، کیمیادان، طبیعیات دان، استاد جامعہ ، جنھیں آزوٹوپس کے حوالے سسے کام کیا۔ (پیدائش: 1893ء)
2014ء یوسیبیو ، پرتگال سے تعلق رکھنے والے لیجنڈ فٹبالر (پیدائش: 1942ء)
2018ء سردار احمد علی خان پتافی ، سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاست دان (پیدائش: 1942ء)
1890ء گیانندر موہن ٹیگور، ہائی کورٹ کے بیرسٹر کے درجہ حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی وکیل
2007ء نوڈل کے خالق اور جاپان میں ’کپ نوڈل کے بادشاہ‘ کی حیثیت سے مشہور موموفک آندو
2012ء رسول بادشاہ، خیبر پختونخوا میں ریڈیو، ٹی وی اور فوک موسیقی کے عوامی گلوکار
2018ء زبیدہ طارق المعروف زبیدہ آپا۔زبیدہ طارق 4 اپریل 1945 پیدا ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا جب جنگ عظیم اور تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد زبیدہ آپا نے خاندان کے ہمراہ کراچی کا رخ کیا، ابھی وہ 21 سال کی تھیں کہ 1966 میں ان کی شادی ہوگئی۔ ان کی ایک بیٹی شاہا طارق اور ایک بیٹا حسنین طارق یے۔زبیدہ طارق جس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں ، پاکستان کی مایہ ناز مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا،منفرد لہجے کی شاعرہ زہرہ نگاہ اور ہر خاص و عام میں مقبول قلمکار،شاعر،مزاح نگار،مصور اور اداکارانور مقصود بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔جی ہاں، زبیدہ طارق انہی نامور شخصیات کی سگی بہن ہیں ۔ دس بہن بھائیوں میں زبیدہ آپا کا نواں نمبر ہے۔
1996 کا سال زبیدہ آپا کی زندگی میں اہم تھا، یہ وہ دور تھا جب ان کی عمر نصف سنچری مکمل کرچکی تھی۔ اس برس ان کے شوہر ایک کمپنی سے ریٹائرڈ ہوئے تو ادارے نے زبیدہ طارق کو طارق کی کرسی عطا کردی۔ چار مشہور کامیاب بھائی بہنوں کے درمیان گمنام زندگی گزارنے والی زبیدہ آپا کا کیریئر 50 سال کی عمر میں شروع ہوا۔آپا زبیدہ طارق نے لگ بھگ 21 سال پہلے کوکنگ ایڈوائرز کی حیثیت سے شوبزمیں قدم رکھا، ’تقریناً سارے ہی نجی ٹی وی چینلز سے ککری شوز، ٹاک شوزاور مارننگ شوز کئے ، ان کی تعداد تقریباً 4000بنتی ہے۔زبیدہ طارق کو پارکنسن کا عارضہ لاحق تھا۔ان کا انتقال 5 جنوری 2018 کو ہو.
2018ء اصغر خان،پاک فضائیہ کے پہلے کمانڈر انچیف ائیر مارشل اصغر خان17 جنوری 1921ء کوجموں میں پیدا ہوئے۔ 1936ء میں رائل انڈین ملٹری کالج ڈیرہ دون میں تعلیم حاصل کی۔ 1940ء میں گریجویشن کی اور اسی سال کے آخر میں نویں رائل دکن ہارس میں کمشین آفسر مقرر ہوئے۔ 1941ء میں انڈین ائیر فورس میں چلے گئے۔ اسی سال انبالہ اور سکندر آباد سے ہوا بازی کی تربیت حاصل کی۔ اگلے سال نمبر 3 سکوارڈن انڈین ائر فورس پشاور میں تعینات ہوئے۔ 1944ء میں برما میں بطور فلائیٹ کمانڈر خدمات انجام دیں اور جنگ برما میں حصہ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو جاپانی فوجی ٹھکانوں پر ہوائی حملہ کرنے پر مامور کیا گیا۔ 1945ء میں سکوارڈن لیڈر بنائے گئے۔ 1946ء میں برطانیہ گئے اور وہاں جیٹ طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کی۔ اوائل 1947ء میں فلائنگ ٹرینگاسکول انبالہ میں چیف فلائنگ انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان ائیر فورس کالج رسالپور نوشہرہ کو منظم کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ قائداعظم جب رسالپور تشریف لائے تو انہوں نے ان کا خیرمقدم کیا۔ 1949ء میں گروپ کپٹن بنائے گئے اور اس حیثیت سے آپریشنل پاکستان ائیر فورس کی کمان سنبھالی۔ اسی سال ان کو رائل ائیر فورس سٹاف کالج برطانیہ سے اعلٰی کارکردگی کا ایوارڈ ملا۔ 1957ء میں صرف 36 سال کی عمر میں ائیر وائس مارش بنائے گئے۔ 1958ء میں ائر مارشل ہوگئے اور 1965 میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد محکمہ ہوابازی کے ناظم اعلٰی اور پی آئی اے کے صدر نشین مقرر ہوئے۔ اسی سال سینٹو میں فوجی مشیر بنے۔ اصغر خان کو ہلال قائداعظم اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے یہ اعزازات واپس کر دئیے تھے۔ائیرمارشل اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ تھے توانہوں نے پاک فوج کے طیارے اور سازوسامان حاصل کرنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے پائلٹوں کی تربیت کے لیے بھی بہت محنت کی لیکن اپریل ، مئی 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میں رن آف کچھ کے تنازعے پر انہوں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو فون کر کے دونوں ممالک کی ائر فورسز کو اس تنازعے سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ بادی النظر میں یہ اقدام معمولی نظر آتا ہے لیکن اس سے فضائیہ کے مورال پر بہر طور منفی اثرات مرتب ہوئے۔اصغر خان کے اس طرز عمل پر 23 جولائی 1965 کو آنے والے ائر چیف نور خان نے شدید تنقید کی تھی اور فوری طور فضائیہ کو الرٹ پر ڈال کر کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں پروازیں شروع کرادی تھیں۔جس سے پاک فضایہ جنگ کے لیے تیار ہو گئی اور اس نے جنگ میں بہترین مہارت کا ثبوت دیا۔1969ء میں سیاست کے میدان میں وارد ہوئے اور اپنی سیاسی جماعت جسٹس پارٹی بنائی جس کا نام 1970ء میں بدل کر تحریک استقلال رکھ دیا گیا۔ مارچ 1969ء میں صدر ایوب خان کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں بھٹو صاحب کا ساتھ دیا۔ دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں راولپنڈی کے حلقے سے الیکشن لڑا لیکن ہار گئے۔ ان انتخابات کے بعد بھٹو صاحب کو ایسا عروج حاصل ہوا کہ اصغر خان کی سیاسی قد و قامت گھٹ گئی۔ بھٹو صاحب کے عہد میں حزب اختلاف میں رہے لیکن نہ حکومت نے نوٹس لیا نہ عوام نے۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف جو احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو اس میں دوبارہ سیاست میں آنے کا موقع ملا۔ اور یوں پی این اے کی تحریک کے صف اول کے رہنما بنے۔ لیکن اس دفعہ بھی وہ سیاسی افق پر نمودار نہ سکے اور مارشل لا آگیا۔ یوں بھٹو صاحب کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سے ایک آمر فیض یاب ہوا۔جنرل ضیاء الحق کے عہد میں حکومت کے اوائل برسوں میں اصغر نظر بند رہے۔
1981ء میں پاکستان قومی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرکے 1984 میں بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں شرکت کی اور 1986ء میں اسے بھی چھوڑ دیا۔ 1987ء میں کابل گئے اور افغانستان کی کمونسٹ حکومت سے مذاکرات کیے۔ ان کا خیال تھا کہ افغانستان میں روس سے طویل فوجی مسابقت پاکستان کے مفادات میں نہیں۔ 1988ء کے انتخاب میں تحریک استقلال نےقومی اسمبلی یا کسی بھی صوبائی اسمبلی سے ایک بھی سیٹ نہیں ملی اور یہی حال بعد میں آنے والے انتخابات میں رہا۔ اصغر خان 5 جنوری 2018 کو طویل علالت کے بعد وفات پا گئے
٭5 جنوری 2000ء کو پاکستان کے نامور مصور بشیر مرزا کراچی میں وفات پاگئے اور ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ بشیر مرزا8جون 1941ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں سکونت پذیر ہوئے۔ 1958ء میں انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں داخلہ لیا اور 1962ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ 1965ء میں انہوں نے کراچی میں نائیجیریا کے سفیر کی اقامت پر اپنی پہلی سولو نمائش کی۔ اسی برس انہوں نے کراچی میں دی گیلری کے نام سے ایک آرٹ گیلری کا آغاز کیا جو نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی بھی پہلی پرائیویٹ آرٹ گیلری تسلیم کی جاتی ہے۔ 1967ء میں ان کی مشہور ڈرائنگ سیریز پورٹریٹ آف پاکستان کا پورٹ فولیو منظر عام پر آیا۔ 1971ء میں انہوں نے کراچی میں Lonely Girl کے نام سے اپنی پینٹنگز کی نمائش کی۔ اس کے بعد انہوں نے اسی نوعیت کی کئی اور نمائشیں بھی کیں۔ بشیر مرزا کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اس کے علاوہ 14 اگست 2006ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پینٹرز آف پاکستان کی سیریز کے جو ڈاک ٹکٹ جاری کئے تھے ان میں بشیر مرزا کی تصویر اور ان کی پیٹنگز سے مزین ایک ڈاک ٹکٹ بھی شامل تھا۔
٭5 جنوری 2003ء کو پاکستان کے مشہور فلمی موسیقار نذیر علی لاہور میں وفات پاگئے۔ نذیر علی 1945ء میں گکھڑ منڈی ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔نذیر علی اپنے ہم عصر موسیقار ایم اشرف کے شاگرد تھے اور ان کے ساتھ تیس مارخان اور آئینہ فلم میں معاونت کرچکے تھے۔ نذیر علی نے پہلی مرتبہ پیداگیر میں موسیقی دی تاہم ان کی شہرت کا ستارا فلم دلاں دے سودے سے چمکا۔ نذیر علی کی دیگر فلموں میں جنٹرمین، اکبریٰ، دلا دے سودے، سجناں دور دیا، مستانہ ماہی، سلطان، عشق میرا ناں، دلدار صدقے، وچھڑیا ساتھی، بائیکاٹ، ہتھیار، سیونی میرا ماہی، بڈھا شیر، لال طوفان اور گجر 302 کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے 36 سال میں 140 فلموں میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے 14 فلموں میں دھمالیں ریکارڈ کروائیں۔اسی باعث انہیں دھمال کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔نذیر علی لاہور میں فیصل ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔۔
*تعطیلات و تہوار*
کشمیریوں کا یوم حق خود ارادیت

No comments:
Post a Comment