Ad3

جنوری 06 تاریخ کے حوالے سے

06 جنوری
تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا چھٹا دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 359 دن باقی ہیں ۔

1066ء ہیرالڈ گڈونسن انگلینڈ کے بادشاہ بنے۔

 1535ء اسپینی نوآبادی بسانے والے فرانسسکو پجیرو نے پیرو کے دارالحکومت لیما کو تلاش کیا۔

 1540ء برطانیہ کے شہنشاہ ہنری ہشتم نے اپنی چوتھی شادی اننے آف کلیو سے کی۔

 1559ء امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے مارتھا کاسٹس سے شادی کی۔


 1664ء چھترپتی شیواجی نے سورت پر حملہ کیا۔

1781ء برطانوی فوج نے فرانس کے جرسی پر حملہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

1784ء ترکی اور روس نے کانسٹنٹی نوپل معاہدے پر دستخط کئے۔

 1838ء سموئیل مور ٹیلی گراف کے سامنے عوامی احتجاج کیا گیا۔

 1842ء برطانوی اور ہندوستانی فوجیوں کے مشترکہ دستے کی کابل سے واپسی ہوئی۔

 1907ء اطالوی ماہر تعلیم ماریا موٹیسری نے روم میں پہلا موٹیسری اسکول قائم کیا۔

 1912ء نیومیکسیکو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا 47 واں صوبہ بنا۔

 1929ء یوگوسلاویہ کے حکمراں الیکزنڈر نے آئین اور حکومت کو تحلیل کر کے شاہی آمرانانہ حکومت قائم کی۔

 1929ء مدر ٹیریسا غریبوں اور بیماروں کے درمیان اپنا کام شروع کرنے کے لئے کلکتہ پہنچیں

 1942ء پین امریکن ایرلائنز کے بوئنگ طیارہ ’پیسیفک کلپر‘ نے پہلی بار دنیا کا چکر لگانے والی خدمات کی شروعات کی۔

 1947ء آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 52 کے مقابلہ 99 ووٹوں سے ہندوستان کی تقسیم کو منظوری دی۔

 1978ء امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اپنے پاس رکھے سینٹ اسٹیفن کے پاکیزہ تاج کو اس وقت کے ہنگری کو واپس کر دیا۔

 1980ء محترمہ اندرا گاندھی کی زیر قیادت کانگریس پارٹی نے انتخابات میں شاندار جیت حاصل کی۔

 1981ء بھارتی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوسیانوگرافی نے بحر ہند کی تلہٹی سے اہم نوادارات برآمد کئے۔

 1989ء اندرا گاندھی قتل کیس کے دو مجرموں ستونت سنگھ اور قہر سنگھ کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

 1991ء جارج سیرانو ایلاس امریکی براعظم میں واقع ملک گواٹیمالا کے صدر منتخب ہوئے۔

 1992ء جارجیا کے صدر جاوید گامرس کھدریا دو ہفتوں کے اقتدار حاصل کرنے کی خونی جدوجہد کے بعد ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔

 1999 ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ ٹسٹ میچ روکنے کے لئے شیو سینا کے کارکنوں نے دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان کی پچ کو کھود ڈالا۔

 2004ء پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے نئے سرے سے بات چیت کے لئے رضا مند ہوئے۔

 2004ء دنیا کی بلند ترین عمارت برج دبئی جو برج خلیفہ بھی کہلاتی ہے، کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا۔برج خلیفہ، سابق نام برج دبئی، متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت ہے جس نے4 جنوری 2010ء کو تکمیل کے بعد تائیوان کی تائی پے 101 کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ انسان کی تعمیر کردہ تاریخ کی بلند ترین عمارت ہے۔ اس عمارت کو افتتاح کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے نام سے موسوم کیا گیا۔۔

 2016ء شمالی کوریا نے اپنے چوتھے جوہری تجربے میں ہائیدروجن بم کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا۔

ولادت :

1367ء رچرڈ دوم ، جسے بورڈو کا رچرڈ (Richard of Bordeaux) بھی کہا جاتا ہے ، برطانوی خاندان پلانٹیجنیٹ سے تعلق رکھنے والا (21 جون 1377ء تا 30 ستمبر 1399ء) پانچواں بادشاہ  (وفات:1400ء)

 1412ء جون آف آرک ، فرانسیسی جاں نثار اور سینٹ (وفات:1431ء)

 1854ء شرلاک ہولمز ، تصوراتی سراغ رساں اور معالج ہے جو مصنف سر آرتھر کونن ڈوئل کا تخلیق کردہ کردار ہے۔ لندن میں رہائش پزیر یہ ایک زبردست محقق ہے جو منطقی استدلال کی مدد سے تحقیقات کرتا ہے۔ اِس کی صلاحیتوں اور مہارتوں میں بھیس بدلنا اور طب الشرعی کی مدد سے مشکل گتھیاں سلجھانا شامل ہیں۔

 1883ء جبران خلیل جبران بن میکائیل بن سعد بمعروف خلیل جبران، سلطنت عثمانیہ سے تعلق رکھنے والا لبنانی نژاد امریکی شاعر، مصور، فلسفی، مصنف، ناول نگار، مجسمہ ساز، فن کار (وفات:1931ء)

 1924ء کم ڈے ژونگ، نوبل امن انعام (2000ء) یافتہ جنوبی کوریائی جنرل اور سیاست دان، (18 دسمبر 1997ء تا 2003ء) آٹھواں صدر کوریا (وفات:2009ء)

 1929ء سلطان حسین بمعروف ببرک کارمل ، افغان وکیل و سیاستدان ، (27 دسمبر 1979ء تا 11 جون 1981ء) چیئرمین افغان وزرا کونسل ، (27 دسمبر 1979ء تا 24 نومبر 1986ء) چیئرمین، افغانستان انقلابی کونسل (وفات:1996ء)

1932ء کملیشور، ہندی مصنف، صحافی، منظر نویس، ناول نگار

 1944ء بونی فرینکلن ، امریکی فلمی اداکارہ

 1944ء رولف ایم زنکرنیج ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1996ء) یافتہ آسٹریلوئی حیاتیات دان، ماہر مناعیات، طبیب، استاد جامعہ

1955ء روون سباسٹین اٹکنسن, سی بی ای ، انگریزی اداکار، مسخرہ اور منظرنگار  (وفات:2007ء)

 1959ء کیپل دیو، بھارتی کرکٹر

 1965ء جے رام ٹھاکر ، بھارتی سیاست دان ، 27 دسمبر 2017ء سے چھٹے وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش

 1971ء اندرانی ہالدر ، بھارتی فلمی اداکارہ

 1987ء مہوش حیات ، پاکستانی اداکارہ


 1966ء اے آر رحمان۔اللہ رکھا رحمان جنہیں عام طور پر اے آر رحمان کے طور پر جانا جاتا ہے ہندوستان کے ایک معروف موسیقار و گلوکار ہیں۔جنوبی ہندستان کے شہر چینئی میں 6  جنوری 1966 کو ایک متوسط ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے اے ایس دلیپ کمار کی ماں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر اس طرح ان کا اور ان کے وطن کا نام روشن کرے گا۔رحمان کے والد آر کے شنکر کیرلہ فلم انڈسٹری میں تمل اور دیگر زبان کی فلموں میں موسیقار تھے۔ دلیپ اس وقت نو سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ نے اپنے شوہر کے موسیقی کے آّلات کو کرایہ پر دے کر گزر بسر شروع کی۔ باپ کے انتقال کے بعد سے ہی منتوں مرادوں والے بیٹے دلیپ کمار کی طبیعت جب خراب رہنے لگی تو ماں نے لوگوں کے کہنے پر ایک پیر کی مزار پر حاضری دی اور منت مانگی جس کے بعد دلیپ کی طبیعت ٹھیک اور ماں کا عقیدہ پختہ ہوگیا اور وہ اپنے پورے گھر کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوگئیں اور دلیپ کا نام اللہ رکھا رحمان رکھا گیا۔گھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رحمان نے کم عمری میں ہی کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ کی بورڈ پلیئر بنے لیکن انہیں پتہ تھا ان کی منزل یہ نہیں ہے اس لیے انہوں نے پہلے پیانو اور پھرگٹار بجانا سیکھا۔ اس دوران چنئی کے چند نوجوانوں کے ساتھ مل کر انہوں نے اپنا ایک مقامی بینڈ ’نمیسیس ایونیو‘ بنایا۔رحمان کی زندگی کا سفر آسان نہیں تھا گھر کی ذمہ داری اور ساتھ میں موسیقی سیکھنے کا جنون۔ انہیں تیلگو میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ ورلڈ ٹور پر جانے کا موقع ملا۔یہاں ان کا فن دنیا کے سامنے آیا اور پھر انہیں آکسفورڈ کی ٹرینیٹی کالج کی سکالر شپ ملی جس نےاے آر رحمان کی موسیقی کی تشنگی کو پورا کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا اور انہوں نے موسیقی میں گریجویشن کیا۔اے آر رحمان نے بھی ہزارہا موسیقاروں کی طرح اشتہارات کے لیے موسیقی سے شروعات کی۔ یہ دور ان کے لیے جدوجہد کا دور تھا۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے فلمساز منی رتنم نے ان کے ہنر کو پہچانا اور اپنی فلم ’روجا‘ میں رحمان کو موسیقی دینے کا موقع دیا۔ رحمان کی موسیقی نے پہلی ہی فلم میں وہ جادو دکھایا کہ انہیں اپنی اس فلم کے لیے نیشنل ایوارڈ ملا۔اس کے بعد رحمان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بالی وڈ فلموں کی لائن لگ گئی لیکن رحمان نے ہر فلم میں کام کرنا منظور نہیں کیا۔ ان کی فلم ’دل سے‘ کے گیتوں نے ہنگامہ مچا دیا اور گلزار کے ساتھ ان کی جوڑی جم گئی۔رنگیلا ، تال، سودیس ، رنگ دے بسنتی ، گرو اور جودھا اکبر وہ چند فلمیں ہیں جن کی موسیقی نے رحمان کو بالی وڈ میں بلندیوں پر پہنچا دیا۔رحمان نے صرف بالی وڈ میں موسیقی دینے پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے ہالی وڈ فلم ’لارڈز آف دی رنگز‘ اور پھر براڈ وے سٹیج ڈراما ’بامبے ڈریمز‘ کا میوزک دیا۔اے آر رحمان نے 2005 میں اپنا جدید آلات سے لیس سٹوڈیو بنایا جو اس وقت ایشیاء کا سب سے بڑا سٹوڈیو مانا جاتا ہے۔ اے آر رحمان کی موسیقی میں کبھی مغربی دھن سنائی دیتی ہے تو کبھی آپ کو بہتے جھرنے کی صدا اور کلاسیکی میوزک۔کبھی صوفی سنگیت تو کبھی جاز.اے آر رحمن صوفی ازم پر یقین رکھتے ہیں اور اسی لیے پیروں اور ولیوں کے مزاروں پر حاضری دینا نہیں بھولتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی موسیقی میں روحانیت ولیوں کی دین ہے۔ وہ پاکستانی موسیقار اور قوال نصرت فتح علی خان کے مرید ہیں۔اے آر رحمان کا ایک البم ’وندے ماترم‘ بہت مقبول ہوا تھا۔ آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر رحمان نے یہ البم بنایا تھا جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی تھی ۔اے آر رحمان کی موسیقی کسی ایوارڈ کی محتاج نہیں لیکن انہیں جتنے ایوارڈز ملے ہیں وہ شاید کسی بھی ہندستانی موسیقار کو آج تک نہیں مل سکے۔ اے آر رحمان کو بافٹا،گولڈن گلوب، سیٹیلائٹ اور کرٹکس چوائس ایوارڈزمل چکے ہیں جبکہ ملکی سطح پر انہیں چار نیشنل ایوارڈزاور سات فلم فیئر ایوارڈز ملے ہیں۔ تامل فلموں میں بھی رحمان کی موسیقی بہت مقبول ہے اور اس انڈسٹری نے انہیں ایک دو نہیں بارہ ایوارڈز سے نوازا ہے۔ 2009 میں ان کو سلم ڈاگ فلم کے لیے بہترین موسیقی دینے پر اکیڈیمی ایوارڈز یا آسکر سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی موسیقار تھے

٭6جنور ی 1944ء پاکستان کے معروف فلمی شاعر مسرور انور کی تاریخ پیدائش ہے۔ مسرور انور کا اصل نام انور علی اور وہ شملہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی۔ میٹرک کے بعد انہوں نے پی آئی اے میں ملازمت اختیار کر لی مگر پھر شاعری کا شوق انہیں ریڈیو پاکستان لے آیا جہاں انہوں نے بطور سٹاف آرٹسٹ خدمات انجام دینا شروع کیں۔ ریڈیو پاکستان پر اداکار ابراہیم نفیس کے توسط سے ان کی ملاقات فلم ساز اور ہدایت کار اقبال شہزاد سے ہوئی جنہوں نے انہیں فلم ’’بنجارن‘‘ کے نغمے لکھنے کی پیشکش کی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد مسرور انور نے فلم شرارت اور بدنام کے گیت لکھے اور پھر وحید مراد، پرویز ملک اور سہیل رعنا کی ٹیم کا حصہ بن گئے جن کے ساتھ انہیں ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان اور دوراہا کے نغمات لکھنے کا موقع ملا۔ بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے نثار بزمی کی موسیقی میں بے شمار فلموں کے لیے لازوال گیت تخلیق کئے۔

*وفات*

 664ء عمرو بن العاص بن وائل بن ہاشم ، صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان کے قریب ترین مشیر۔۔ (پیدائش: 573ء)

 786ٰٰء ابو تفلیسی ، عرب مسیحی شہید اور شہر تبلیسی، جارجیا کے سرپرست بزرگ (پیدائش: 756ء)

992ء ابو الحسن محمد العامری بن ابی ذر یوسف العامری النیشابوری ، نیشا پور خراسان سے تعلق رکھنے والے صوفیانی معلم، منطق دان اور فلسفی (پیدائش: 913ء)

 1693ء محمد رابع ، سلطنتِ عثمانیہ کا (12 اگست 1648ء تا 8 نومبر 1687ء) 19واں سلطان و خلیفہ (پیدائش: 1642ء)

 1781ء میرزا مظہر جانِ جاناں ، مغلیہ سلطنت سے تعلق رکھنے والے مصنف و  شاعر، ادات علوی میں سے تھے۔ آپ سلسلہ نسب محمد بن حنفیہ کی وساطت سے حضرت علی تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد میرزا جان سلطان اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں صاحب منصب تھے۔ (پیدائش: 1699ء)

 1918ء جورج کنٹور ، روسی نژاد جرمن ریاضی دان اور نظریۂ طاقم کا موجد تھا جو ریاضی کا ایک بنیادی نظریہ (Fundamental Theory) ہے۔ اُس نے ثابت کیا کہ حقیقی اعداد (Real Numbers) کی تعداد قدرتی اعداد (Natural Numbers) سے زیادہ ہوتی ہے۔ اُس کے اس نظریے کو ثابت کرنے کے طریقے نہ لامتناہی کے لامتناہی (Infinity of Infinities) کے وجود کا بھی بتایا۔ اُس نے دو طرح کے عدد بھی بتائے مقداری (Cardinal) اور ترتیبی (Ordinal) اور اُن کے حساب کا طریقہ بھی واضح کیا۔ کنٹور کا زیادہ تر کام فلسفیانہ تھا اور خود اُسے بھی اس کا پتہ تھا۔ اُس کا کام اتنا زیادہ خلاف عقل اور چونکا دینے والا تھا کہ اسے اس زمانے کے بہت سے ریاضی دانوں سے بہت زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیوڈ ھلبرٹ نے کنٹور کے کام کی بہت حمایت کی اُس کا یہ مشہور جملہ کنٹور کے کام کی حمایت میں کافی مشہور ہوا۔ " کوئی ہمیں اُس جنت سے نہیں نکالے گا جو جورج کنٹور نے بنائی ہے۔" (پیدائش: 1845ء)

 1852ء لوئس بریل، فرانسیسی ارغنون نواز، معلم، موجد ، نابینا افراد کے لئے تحریر اور مطالعے کے موجد، بمقام وپرے ، پیرس (پیدائش: 1809ء)

 1919ء تھیوڈور روزویلٹ، امریکی مہم جو، مؤرخ، مصنف، سیاست دان، جوڈوکا، ماہر فطرت پسند، ریاست کار ، (یکم جنوری 1899ء تا 31 دسمبر 1900ء) گورنر نیو یارک ، (4 مارچ 1901ء تا 14 ستمبر 1901ء) 25ویں امریکی نائب صدر اور (14 ستمبر 1901ء تا 4 مارچ 1909ء) 26 ویں امریکی صدر (پیدائش: 1858ء)

 1977ء مولانا عبدالماجد دریا آبادی، بھارت سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق ، مترجم قرآن اور سوانح نگار (پیدائش: 1892ء)

 1990ء پاول چینکوف ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1958ء) یافتہ سویت یونین کے طبیعیات دان اور موجد انہیں یہ انعام اپنے ہم وطن طبیعیات دان الوا فرانک اور اگور ٹام کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ جس کی وجہ چیرنکوف تابکاری کی دریافت تھی ۔ (پیدائش: 1938ء)

 2014ء اعتزاز حسن، ہنگو سکول کا طالب علم اس وقت شہید ہوا جب اس نے ایک خود کش حمله آور کو روکا جب وه سکول میں اسمبلی کے وقت خود کش حمله کرنے کے لیے سکول میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔

 2017ء اوم پوری ، بھارتی اداکار جس نے انگلش فلموں میں بھی کام کیا۔ (پیدائش: 1950ء)

2018ء عفاف صادق حمد النيل، سوڈانی  شاعرہ، صحافی، ادبی تنقید نگار اور استاد جامعہ ، آپ سوڈانی موسیقار ابو عمرکی البخیب کی بیوی تھیں۔ عفاف کالج برائے خواتین صبیا میں شعبہ نفسیات میں اسٹنٹ پروفیسر تھیں۔ علاوہ ازیں جامعہ جازان کے شعبہ ادب کی صدر اور تعلیم و نفسیات کے شعبوں سے منسلک رہیں۔ (پیدائش: 1954ء)

 1316ء صلاح الدین خلجی، سلطان دہلی
)

 1987ء جے دیو، بھارتی میوزک ڈائرکٹر

 1989ء سندھدر پرسننا سنہا، ہندوستان کے آخری لارڈ

2013ء۔۔قاضی حسین احمد صاحب (پیدائش:12 جنوری 1938ء) ممتاز عالم اور سیاستدان تھے جنہوں نے جماعت اسلامی کے امیر کے طور پر شہرت پائی۔
(7 اکتوبر 1987ء تا 29 مارچ 2009ء) چوتھے امیر جماعت اسلامی پاکستان اور (10 اکتوبر 2002ء تا 18 فروری 2008ء) صدر متحدہ مجلس عمل ۔آپ کے دور میں جماعت سیاسی طور پر زیادہ عوامی مقبولیت کی طرف مائل ہوئی۔جماعت اسلامی کے سابق امیر۔ مذہبی جماعتوں کے مرحوم اتحادمتحدہ مجلس عمل کے آخری سربراہ۔ سید ابوالاعلٰی مودودی اورمیاں طفیل محمد کے بعد قاضی حسین احمدجماعت اسلامی کے تیسرے منتخب امیر بنے۔دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد آپ 1970ء میں جماعت اسلامی کےرکن بنے،پھرجماعت اسلامی پشاورشہر اور ضلع پشاورکے علاوہ صوبہ سرحد کی امارت کی ذمہ داری بھی ادا کی گئی۔ 1978ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور 1987ء میں جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لیے گئے۔ تب سے وہ چارمرتبہ (1999ء،1994ء،1992ء، 2004ء) امیرمنتخب ہو ئے۔مارچ2009ء میں امارت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے۔ ان کی جگہ سید منورحسن جماعت اسلامی کے چوتھے امیر منتخب ہوئے۔

 06 جنوری2006ء کو سکواش کے کھلاڑی روشن خان کراچی میں وفات پا گئے اور فوجی قبرستان میں آسودئہ خاک ہوئے۔ روشن خان 1927ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1954ء اور 1955ء میں وہ برٹش اوپن کے سیمی فائنل تک اور 1956ء میں فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے مگر وہاں اپنے ہم وطن ہاشم خان کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ 1957ء میں ہاشم خان اور روشن خان برٹش اوپن کے فائنل میں ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہوئے مگر اس مرتبہ کامیابی روشن خان کا مقدر بنی۔ تاہم روشن خان یہ اعزاز اپنے پاس ایک ہی سال برقرار رکھ سکے۔ 1980ء کی دہائی میں دنیائے سکواش پر حکمرانی کرنے والے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان، روشن خان کے فرزند ہیں

٭6جنوری 2008ء کو پنجابی زبان کے معروف شاعر سائیں اختر لہوری لاہور میں وفات پا گئے اور برکت ٹائون، شاہدرہ لاہور کے قبرستان میں آسودئہ خاک ہوئے۔ سائیں اختر لہوری، استاد دامن کے شاگرد تھے اور انہی کی طرح عوامی شعرأ میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی نظم ’’اللہ میاں تھلے آ‘‘ ان کی شناخت تھی اور اسی نام سے ان کا مجموعہ کلام بھی اشاعت پذیر ہوا تھا۔ سائیں اختر لہوری کا ایک اور مجموعہ ’’میرے لاہور دے ویکھ نظارے‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔

*تعطیلات و تہوار*

 جنگی لاوارثوں کا عالمی دن

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...