07 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا ساتواں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 358 دن باقی ہیں
1610ء ممتاز ماہر فلکیات گلیلیو گلیلی نے مشتری کے چار چاندوں کا مشاہدہ کیا۔
1698ء روسی زار پیٹرگریٹ نے نیدرلینڈ انگلینڈ سونپ دیا۔
1714ء ہینری مل نے ٹائپ رائٹر کا پیٹنٹ کرایا۔
1761ء پانی پت کی تیسری لڑائی میں احمد شاہ ابدالی کی قیادت میں مسلمان فوج نے مراٹھوں کو شکست دی۔
1782ء بینک آف نارتھ امریکہ، امریکہ کا پہلا کمرشل بینک کھولا گیا۔
1789ء امریکہ میں پہلے صدارتی انتخاب ہوئے۔
1797ء اطالیہ کا موجودہ پرچم پہلی بار استعمال کیا گیا۔
1859ء آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر دوئم کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔
1927ء لندن اور نیویارک کے درمیان ٹیلی فون خدمات شروع ہوئیں۔
1939ء امریکی ورکرس یونین لیڈر ٹام مونی رہا کئے گئے۔
1949ء امریکہ میں ساوتھرن کیلی فورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیل پیس اور رچرڈ بیکر نے پہلی بارخلیہ کی بنیادی اکائی جین کی فوٹو لی۔
1953ء امریکہ نے پہلا ہائیڈروجن بم بنایا۔
1959ء امریکہ نے کیوبا کی فیڈیل کاسترو سرکار کو تسلیم کیا۔
1975ء اوپیک نے خام تیل کی پیداوار میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا۔
1978ء انگولہ میں آئینی ترمیم کی گئی۔
1979ء ویتنام کی فوج نے کمبوڈیا کے باغیوں کے ساتھ مل کر فوینوم پینہہ پر قبضہ کیا اور خیمر روج کے اقتدار کو ختم کر دیا۔
1989ء کیمیاوی اسلحہ کم کرنے کی غرض سے پیرس میں بین الاقوامی کانفرنس ہوئی۔
1989ء برٹش مڈلینڈ میں بوئنگ 737 حادثہ کا شکار ہوا۔
1990ء اٹلی میں پیسا کی جھکی مینار کو سیاحوں کے لئے باضابطہ طور پر خطرناک ہونے کا اعلان کیا گیا۔
1991ء سوویت یونین کے بالٹک جمہوریاؤں لتھوانیا اور لاتیویا میں بغاوت کو کچلنے کیلئے سوویت فوج کو بھیجا گیا۔
1992ء عمران خان نے اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا۔3 جون 1971 سے شروع ہونے والے عمران خان کے ٹیسٹ کرکٹ کیرئیر کا اختتام 7 جنوری 1992 کو فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف میچ میں ہوا ۔ان 21 سالہ کیرئیر میں عمران خان نے 88 ٹیسٹ میچ میں 37.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے ۔6 سینچریاں 18 نصف سینچریاں سکور کی ۔11 بار مین آف میچ رہے۔
136 سب سے زیادہ اسکور رہا جب کہ کیرئیر میں 55 چھکے لگائے۔بولنگ کے شعبے میں 19458 بالیں کروا کے 22.81 کی اوسط سے 362 وکٹ حاصل کی۔6 بار ایک میچ میں 10 وکٹ حاصل کی اور 23 میچز میں ایک اننگز میں 5 وکٹ حاصل کی ۔بہترین بالنگ 58 رنز دے کر 8 وکٹ رہی۔28 کیچ پکڑے۔
1993ء بھارتی سرکار نے اجودھیا میں متنازعہ اراضی کی703.67 ایکڑ زمین 7 ایکوائر کر لی۔
1999ء امریکی سینٹ نے صدر بل کلنٹن کے خلاف مواخذہ کی شروعات کی۔ پہلی بار کسی صدر کے حکومت میں رہتے ہوئے اس کے خلاف مواخذہ کی کارروائی کی گئی۔
2004ء انڈونیشیا کی سپریم کورٹ نے بالی حملے میں ملوث انتہا پسند کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔
7جنوری 1969ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے چٹاگانگ میں پاکستان کی پہلی اسٹیل مل کے قیام پر 15پیسے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن محمودہ خاتون نے تیار کیا تھا۔
7جنوری 1981ء کو یونیورسل پوسٹل یونین کے بانی ہنرخ وان اسٹیفن کی پیدائش کے ڈیڑھ سو سالہ جشن کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک روپیہ مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ہنرخ وان اسٹیفن کی تصویر کے ساتھ یونیورسل پوسٹل یونین کا لوگو بنا تھا اور انگریزی میںHeinrich Von Stephan1831- 1897 کے الفاظ تحریر تھے ، اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی آرٹسٹ جبیں سلطانہ نے بنایا تھا۔
7جنوری1988ء کو جدید کراچی کے معمار جمشید نصروانجی مہتا کی پیدائش کے سو سالہ جشن کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تین روپیہ مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر جمشید نصروانجی مہتا کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں JAMSHED NUSSERWANJI 1888-1988 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے عادل صلاح الدین نے بنایا تھا۔
ولادت :
۔""""""
891ء عبد الرحمن الناصر ، اندلس میں خلافت امویہ کا سب سے مشہور حکمران جو عبد الرحمن الثالث اور عبد الرحمن اعظم کے ناموں سے بھی معروف تھے ۔ (16 اکتوبر 912ء تا 16 جنوری 929ء) 8وان امیر خلافت قرطبہ (16 جنوری 929ء تا 15 اکتوبر 961ء) 15واں خلیفہ خلافت امویہ اور خلافت قرطبہ کا پہلا خلیفہ (وفات: 961ء)
1646ء گوٹفریڈ ویلہم لائبنیز ، جرمن ریاضی دان، طبیعیات دان، مفسر قانون، مؤرخ اور فلسفی (وفات: 1716ء)
1800ء میلارڈ فلمور ، امریکی وکیل، سیاستدان و ریاستکار ، (4 مارچ 1849ء تا 9 جولائی 1850ء) 12واں امریکی نائب صدر اور (9 جولائی 1850ء تا 4 مارچ 1853) 13واں امریکی صدر (وفات: 1874ء)
1844ء برناڈیٹ سوبیروس ، ایک پن چکی والے شخص کی پہلوٹھی تھی۔ جس کا تعلق فرانس کے لورڈیس (آکسیٹان میں لورڈا) سے تھا۔ اور یہ ایک (کاتھولک عیسائیت کے مطابق) کاتھولک مقدسہ ہیں جو ایک ظہورِ مریم کے لئے مشہور ہیں۔ (وفات: 1879ء)
1861ء سشیل کمار رودر ، ہندوستانی ماہر تعلیم، مہاتما گاندھی اور سی ایف اینڈریوز کے رفیق اور سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی کے پہلے ہندوستانی صدر مدرس (وفات: 1925ء)
1923ء فیض الحسن بمعروف فضا ابن فیضی ، بھارتی شاعر (وفات: 2009ء)
1928ء وجے تندولکر، بھارتی اسکرین پلے رائٹر اور ناول نگار
1929ء ٹیری مور ، امریکی اداکارہ
1937ء ارشاد حسن خان ، پاکستانی قانون دان و منصف ، (26 جنوری 2000ء تا 6 جنوری 2002ء) 16ویں منصف اعظم پاکستان
1938ء بی سروجا دیوی ، بھارتی فلمی اداکارہ
1941ء جوہن ای. والکر ، نوبل انعام برائے کیمیا (1997ء) یافتہ انگریز سالماتی حیاتیات دان، کیمیادان، استاد جامعہ
1943ء سڈاکو ساساکی ، جاپانی بچی ، جو ہیروشیما میں امریکی بم گرائے جاتے وقت دو سال کی تھی۔ یہ بم ان کے گھر کے نزدیک موجود ایک پل پر گرا تھا۔ سڈاکو سب سے جانی پہچانی ہباکشا بنی (ایک جاپانی اصطلاح یعنی بم دھماکے سے متاثرہ)۔ وہ ایک ہزار کاغذی سارس بنانے کی کہانی سے مشہور ہوئی۔ اس نے کاغذی سارس اپنے موت سے قبل بنایا جو دور جدید میں بے قصور نیوکلیائی جنگ سے متاثرہ لوگوں کی حالت زار کو ظاہر کرتا ہیں۔ (وفات: 1955ء)
1952ء اوریا مقبول جان ، بہترین ستون نگار (2004ء) یافتہ پاکستانی صحافی، کالم نگار، شاعر، دانشور، ڈرامہ نگار اور کئی کتابوں کے مصنف
1960ء محمدجواد ظریف پیرانشهری ایرانی سایستدان،سفیر ،عالم اور موجودہ وزیر خارجہ ہیں۔ وہ 1990 سے مختلف اہم سفارتی عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔ جبکہ وہ تہران کی ایک جامعہ میں بطور پروفیسر کے بھی وابستہ ہیں۔
1957ء رینا رائے ، بھارتی فلمی اداکارہ
1967ء صاحب زادہ عرفان علی خان ، بھارتی اداکار
1969ء شیخ ماہر بن حمد المعیقلی ، قاری القرآن اور امام مسجد الحرام ۔ اس کے علاوہ انہوں نے مسجد نبوی میں بھی امامت کے فرائض سر انجام دیے۔ وہ مسجد الحرام میں مستقل طور پر فجر اور مغرب کی امامت کرتے ہیں۔
1978ء ایمیلیو مارکوس پالما ، ارجنٹائنی کمپیوٹر سائنس دان جو انٹارکٹیکا میں پیدا ہوئے۔ انٹارکٹکا میں پیدا ہونے والے وہ پہلے شخص ہیں۔
1979ء بپاشا باسو ، بھارتی اداکارہ
٭ کراچی کے معمار‘ جناب جمشید نصروانجی رستم جی مہتہ 7 جنوری 1886ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔، (اپریل 1922ء تا اکتوبر 1933ء) صدر کراچی میونسپل کمیٹی اور (اپریل 1922ء – اکتوبر 1933ء) پہلے منتخب میئر کراچی میونسپل کارپوریشن۔جمشید نصروانجی مہتہ کا شمار ملک کے صف اول کے سماجی کارکنوں میں ہوتا تھا۔ وہ 1914ء میں کراچی میونسپلٹی کے رکن بنے اور 1933ء تک اس کے رکن رہے۔ اس دوران 1922ء سے 1933ء تک وہ گیارہ سال تک مسلسل کراچی کے میئر رہے۔ جمشید نصروانجی نے اپنی میئر شپ کے زمانے میں کراچی کے توسیع کے متعدد منصوبے بنائے۔ کھلی سڑکیں، باغات اور کھیلوں کے میدان تعمیر کروائے۔ شہر کو مختلف وارڈوں میں تقسیم کیا اور ہر وارڈ میں ایک پرائمری اسکول، ایک ڈسپنسری اور میٹرنٹی ہوم قائم کیا۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کا اہتمام کیا۔ان کے زمانے میں کراچی ایک چھوٹے سے قصبے سے بڑھ کر ایک بڑا اور جدید شہر بن گیا۔ کراچی کی مشہور سڑک جمشید روڈ کا نام انہی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یکم اگست 1952ء کو جناب جمشید نصروانجی رستم جی مہتہ نے وفات پائی۔
وفات :
۔"""""
1785ء سید خواجہ میر درد ، دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو و فارسی زبان کے شاعر (پیدائش: 1721ء)
1943ء نکولا ٹیسلا ، آسترین نژاد امریکی سائنسدان، موجد، میکانیکی اور برقیاتی انجنئیر ، برقی توانائی کے میدان میں انھیں انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران انقلابی ترقی برپا کرنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ (پیدائش: 1856ء)
1951ء شیخ عبد الوحد یحیٰی المعروف رینے گینوں ، فرانسیسی مسلم دانشور اور ماہر مابعدالطبیعیات، مصنف اور فلسفی ۔ آپ کو آنند کمار سوامی اور شون فریژوف کے ہمراہ مکتبۂ روایت پسندی (Traditionalist School) کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ روحانیات، علامات (Symbolism)، کونیات (Cosmology)، تصوف اور مشرقی ما بعد الطبیعیات پر آپ نے دنیا کو نئی فکر سے روشناس کروایا۔ (پیدائش: 1886ء)
1984ء الفرڈ کاسٹلر ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1966ء) یافتہ فرانسیسی طبیعیات دان، شاعر، استاد جامعہ انھیں یہ انعام ایٹموں میں ہرٹزین ریزوننس کو پڑھنے کے لیے انکی کی گئی آپٹیکل میتھڈ تخلیق پر دیا گیا۔ (پیدائش: 1902ء)
1989ء ہیرو ہیتو یا شہنشاہ شووا، جاپان کا (25 دسمبر 1926ء تا 7 جنوری 1989ء) ایک سو چوبیسواں شہنشاہ ، ان کا ذاتی نام ہیروہیتو تھا اسی لیے اسے شہنشاہ ہیروہیتو بھی کہا جاتا ہے۔ جاپان میں فوت شدہ شہنشاہوں کو ان کے بعد از مرگ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ (پیدائش: 1901ء)
1998ء ولادمیر پریلوگ ، نوبل انعام برائے کیمیا (1975ء) یافتہ بوسنیائی نژاد سوئس کیمیادان و استاد جامعہ (پیدائش: 1906ء)
2014ء سر رن رن شا ، چینی نژاد ہانگ کانگ کے فلم ساز، دنیا کے بڑی فلم ساز ادارے شا برادرز سٹوڈیو کے مالک بھی تھے۔ (پیدائش: 1907ء)
2016ء مفتی محمد سعید ، کشمیری وکیل و سیاستدان ، (2 دسمبر 1989ء تا 10 نومبر 1990ء) وزیرِ داخلہ بھارت و (2 نومبر 2002ء تا 2 نومبر 2005ء) اور (1 مارچ 2015ء تا 7 جنوری 2016ء) مقبوضہ کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ (پیدائش: 1936ء)
1892ء خدیف مصر، توفیق پاشا مقام وفات: قاہرہ
1932ء سر محمد شفیع، تحریک پاکستان کے رہنما۔سر شفیع نے تمام گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی ۔اسلامیہ کالج لاہور میں سر محمد شفیع اور جسٹس شاہ دین ہمایوں نے خدمات دیں۔ سر محمد شفیع 1919 سے 1921تک وزیر تعلیم رہے اور 7کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا۔انہوں نے پنجاب اردو گزٹ کے نام سے اخبا ر بھی شائع کیا۔میاں محمد شفیع متحدہ صوبہ پنجاب سے 30 دسمبر 1906ء کے مسلم لیگ کے تاسیسی اجلاس میں شامل تھے جو ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خاں کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ وہ مسلم لیگ کے بانی ارکان میں شامل تھے۔
7جنوری 2007ء کو سندھی اور انگریزی زبان کے مشہور شاعر،ادیب اور صحافی انور پیرزادو کراچی میں وفات پاگئے۔ انور پیرزادو 25 جنوری 1945ء کو بالھریجی تعلقہ ڈوکری ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے تھے۔1969ء میں انہوں نے انگریز ادبیات میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور اسی برس سندھ یونیورسٹی میں لیکچرار کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1970ء میں وہ کچھ وقت کے لئے پاکستان ایر فورس میں بھی رہے مگر ایک سیاسی خط لکھنے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور پھر انہوں نے صحافت کو اپنی زندگی کا محور بنالیا۔ وہ لاڑکانہ اور سکھر میں ڈان کے نامہ نگار کے فرائض انجام دیتے رہے تھے اوروہ عوامی آواز، برسات، سندھ ٹریبیون اور ریجنل ٹائمز آف سندھ کے مدیر رہے تھے۔ انہوں نے آزادی صحافت کی جدوجہد میں دو مرتبہ جیل یاترا بھی کی تھی۔ انور پیرزادو کی سندھی شاعری کا مجموعہ اے چند بھٹائی کھے چھیجن کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا جبکہ ان کی مرتبہ انگریزی کتب میں سندھ گزیٹئر، لاڑکانہ گزیٹئر اور بے نظیر بھٹو اے پولیٹیکل بائیو گرافی شامل ہیں۔
7 جنوری 1976ء کو اردو کے نامور مزاح گو شاعر سید محمد جعفری‘ کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ 27 دسمبر 1905ء کو پہرسر‘ بھرت پور کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔1906ء میں ان کے والد سید محمد علی جعفری‘ اسلامیہ کالج لاہور سے منسلک ہوگئے یوں سید محمد جعفری کی تمام تر تعلیم لاہور میں ہوئی۔قیام پاکستان کے بعد سید محمد جعفری مرکزی محکمہ اطلاعات میں اہم منصب پر فائز ہوئے‘ اسی ملازمت کے دوران انہیں ایران میں بحیثیت پریس اور کلچرل اتاشی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ سید محمد جعفری نے ایک صاحب اسلوب شاعر تھے انہوں نے سیاسی اور سماجی موضوعات پر 900 کے لگ بھگ نظمیں تحریر کیں۔ ان کے یہاں کلاسیکی شاعری کی تمام التزامات نظر آتے ہیں خصوصاً انہوں نے غالب اور اقبال کے جن مصرعوں کی تضمین کی ہے اس کی کوئی اور مثال اردو شاعری میں نظر نہیں آتی۔ سید محمد جعفری کے انتقال کے بعد ان کی شاعری کے دو مجموعے شوخی تحریر اور تیرنیم کش کے نام سے شائع ہوئے۔ وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
تعطیلات و تہوار :
آرتھوڈوکس اور قبطی مسیحیوں کا کرسمس ڈے
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا ساتواں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 358 دن باقی ہیں
1610ء ممتاز ماہر فلکیات گلیلیو گلیلی نے مشتری کے چار چاندوں کا مشاہدہ کیا۔
1698ء روسی زار پیٹرگریٹ نے نیدرلینڈ انگلینڈ سونپ دیا۔
1714ء ہینری مل نے ٹائپ رائٹر کا پیٹنٹ کرایا۔
1761ء پانی پت کی تیسری لڑائی میں احمد شاہ ابدالی کی قیادت میں مسلمان فوج نے مراٹھوں کو شکست دی۔
1782ء بینک آف نارتھ امریکہ، امریکہ کا پہلا کمرشل بینک کھولا گیا۔
1789ء امریکہ میں پہلے صدارتی انتخاب ہوئے۔
1797ء اطالیہ کا موجودہ پرچم پہلی بار استعمال کیا گیا۔
1859ء آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر دوئم کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔
1927ء لندن اور نیویارک کے درمیان ٹیلی فون خدمات شروع ہوئیں۔
1939ء امریکی ورکرس یونین لیڈر ٹام مونی رہا کئے گئے۔
1949ء امریکہ میں ساوتھرن کیلی فورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیل پیس اور رچرڈ بیکر نے پہلی بارخلیہ کی بنیادی اکائی جین کی فوٹو لی۔
1953ء امریکہ نے پہلا ہائیڈروجن بم بنایا۔
1959ء امریکہ نے کیوبا کی فیڈیل کاسترو سرکار کو تسلیم کیا۔
1975ء اوپیک نے خام تیل کی پیداوار میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا۔
1978ء انگولہ میں آئینی ترمیم کی گئی۔
1979ء ویتنام کی فوج نے کمبوڈیا کے باغیوں کے ساتھ مل کر فوینوم پینہہ پر قبضہ کیا اور خیمر روج کے اقتدار کو ختم کر دیا۔
1989ء کیمیاوی اسلحہ کم کرنے کی غرض سے پیرس میں بین الاقوامی کانفرنس ہوئی۔
1989ء برٹش مڈلینڈ میں بوئنگ 737 حادثہ کا شکار ہوا۔
1990ء اٹلی میں پیسا کی جھکی مینار کو سیاحوں کے لئے باضابطہ طور پر خطرناک ہونے کا اعلان کیا گیا۔
1991ء سوویت یونین کے بالٹک جمہوریاؤں لتھوانیا اور لاتیویا میں بغاوت کو کچلنے کیلئے سوویت فوج کو بھیجا گیا۔
1992ء عمران خان نے اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا۔3 جون 1971 سے شروع ہونے والے عمران خان کے ٹیسٹ کرکٹ کیرئیر کا اختتام 7 جنوری 1992 کو فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف میچ میں ہوا ۔ان 21 سالہ کیرئیر میں عمران خان نے 88 ٹیسٹ میچ میں 37.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے ۔6 سینچریاں 18 نصف سینچریاں سکور کی ۔11 بار مین آف میچ رہے۔
136 سب سے زیادہ اسکور رہا جب کہ کیرئیر میں 55 چھکے لگائے۔بولنگ کے شعبے میں 19458 بالیں کروا کے 22.81 کی اوسط سے 362 وکٹ حاصل کی۔6 بار ایک میچ میں 10 وکٹ حاصل کی اور 23 میچز میں ایک اننگز میں 5 وکٹ حاصل کی ۔بہترین بالنگ 58 رنز دے کر 8 وکٹ رہی۔28 کیچ پکڑے۔
1993ء بھارتی سرکار نے اجودھیا میں متنازعہ اراضی کی703.67 ایکڑ زمین 7 ایکوائر کر لی۔
1999ء امریکی سینٹ نے صدر بل کلنٹن کے خلاف مواخذہ کی شروعات کی۔ پہلی بار کسی صدر کے حکومت میں رہتے ہوئے اس کے خلاف مواخذہ کی کارروائی کی گئی۔
2004ء انڈونیشیا کی سپریم کورٹ نے بالی حملے میں ملوث انتہا پسند کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔
7جنوری 1969ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے چٹاگانگ میں پاکستان کی پہلی اسٹیل مل کے قیام پر 15پیسے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن محمودہ خاتون نے تیار کیا تھا۔
7جنوری 1981ء کو یونیورسل پوسٹل یونین کے بانی ہنرخ وان اسٹیفن کی پیدائش کے ڈیڑھ سو سالہ جشن کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک روپیہ مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ہنرخ وان اسٹیفن کی تصویر کے ساتھ یونیورسل پوسٹل یونین کا لوگو بنا تھا اور انگریزی میںHeinrich Von Stephan1831- 1897 کے الفاظ تحریر تھے ، اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی آرٹسٹ جبیں سلطانہ نے بنایا تھا۔
7جنوری1988ء کو جدید کراچی کے معمار جمشید نصروانجی مہتا کی پیدائش کے سو سالہ جشن کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تین روپیہ مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر جمشید نصروانجی مہتا کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں JAMSHED NUSSERWANJI 1888-1988 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے عادل صلاح الدین نے بنایا تھا۔
ولادت :
۔""""""
891ء عبد الرحمن الناصر ، اندلس میں خلافت امویہ کا سب سے مشہور حکمران جو عبد الرحمن الثالث اور عبد الرحمن اعظم کے ناموں سے بھی معروف تھے ۔ (16 اکتوبر 912ء تا 16 جنوری 929ء) 8وان امیر خلافت قرطبہ (16 جنوری 929ء تا 15 اکتوبر 961ء) 15واں خلیفہ خلافت امویہ اور خلافت قرطبہ کا پہلا خلیفہ (وفات: 961ء)
1646ء گوٹفریڈ ویلہم لائبنیز ، جرمن ریاضی دان، طبیعیات دان، مفسر قانون، مؤرخ اور فلسفی (وفات: 1716ء)
1800ء میلارڈ فلمور ، امریکی وکیل، سیاستدان و ریاستکار ، (4 مارچ 1849ء تا 9 جولائی 1850ء) 12واں امریکی نائب صدر اور (9 جولائی 1850ء تا 4 مارچ 1853) 13واں امریکی صدر (وفات: 1874ء)
1844ء برناڈیٹ سوبیروس ، ایک پن چکی والے شخص کی پہلوٹھی تھی۔ جس کا تعلق فرانس کے لورڈیس (آکسیٹان میں لورڈا) سے تھا۔ اور یہ ایک (کاتھولک عیسائیت کے مطابق) کاتھولک مقدسہ ہیں جو ایک ظہورِ مریم کے لئے مشہور ہیں۔ (وفات: 1879ء)
1861ء سشیل کمار رودر ، ہندوستانی ماہر تعلیم، مہاتما گاندھی اور سی ایف اینڈریوز کے رفیق اور سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی کے پہلے ہندوستانی صدر مدرس (وفات: 1925ء)
1923ء فیض الحسن بمعروف فضا ابن فیضی ، بھارتی شاعر (وفات: 2009ء)
1928ء وجے تندولکر، بھارتی اسکرین پلے رائٹر اور ناول نگار
1929ء ٹیری مور ، امریکی اداکارہ
1937ء ارشاد حسن خان ، پاکستانی قانون دان و منصف ، (26 جنوری 2000ء تا 6 جنوری 2002ء) 16ویں منصف اعظم پاکستان
1938ء بی سروجا دیوی ، بھارتی فلمی اداکارہ
1941ء جوہن ای. والکر ، نوبل انعام برائے کیمیا (1997ء) یافتہ انگریز سالماتی حیاتیات دان، کیمیادان، استاد جامعہ
1943ء سڈاکو ساساکی ، جاپانی بچی ، جو ہیروشیما میں امریکی بم گرائے جاتے وقت دو سال کی تھی۔ یہ بم ان کے گھر کے نزدیک موجود ایک پل پر گرا تھا۔ سڈاکو سب سے جانی پہچانی ہباکشا بنی (ایک جاپانی اصطلاح یعنی بم دھماکے سے متاثرہ)۔ وہ ایک ہزار کاغذی سارس بنانے کی کہانی سے مشہور ہوئی۔ اس نے کاغذی سارس اپنے موت سے قبل بنایا جو دور جدید میں بے قصور نیوکلیائی جنگ سے متاثرہ لوگوں کی حالت زار کو ظاہر کرتا ہیں۔ (وفات: 1955ء)
1952ء اوریا مقبول جان ، بہترین ستون نگار (2004ء) یافتہ پاکستانی صحافی، کالم نگار، شاعر، دانشور، ڈرامہ نگار اور کئی کتابوں کے مصنف
1960ء محمدجواد ظریف پیرانشهری ایرانی سایستدان،سفیر ،عالم اور موجودہ وزیر خارجہ ہیں۔ وہ 1990 سے مختلف اہم سفارتی عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔ جبکہ وہ تہران کی ایک جامعہ میں بطور پروفیسر کے بھی وابستہ ہیں۔
1957ء رینا رائے ، بھارتی فلمی اداکارہ
1967ء صاحب زادہ عرفان علی خان ، بھارتی اداکار
1969ء شیخ ماہر بن حمد المعیقلی ، قاری القرآن اور امام مسجد الحرام ۔ اس کے علاوہ انہوں نے مسجد نبوی میں بھی امامت کے فرائض سر انجام دیے۔ وہ مسجد الحرام میں مستقل طور پر فجر اور مغرب کی امامت کرتے ہیں۔
1978ء ایمیلیو مارکوس پالما ، ارجنٹائنی کمپیوٹر سائنس دان جو انٹارکٹیکا میں پیدا ہوئے۔ انٹارکٹکا میں پیدا ہونے والے وہ پہلے شخص ہیں۔
1979ء بپاشا باسو ، بھارتی اداکارہ
٭ کراچی کے معمار‘ جناب جمشید نصروانجی رستم جی مہتہ 7 جنوری 1886ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔، (اپریل 1922ء تا اکتوبر 1933ء) صدر کراچی میونسپل کمیٹی اور (اپریل 1922ء – اکتوبر 1933ء) پہلے منتخب میئر کراچی میونسپل کارپوریشن۔جمشید نصروانجی مہتہ کا شمار ملک کے صف اول کے سماجی کارکنوں میں ہوتا تھا۔ وہ 1914ء میں کراچی میونسپلٹی کے رکن بنے اور 1933ء تک اس کے رکن رہے۔ اس دوران 1922ء سے 1933ء تک وہ گیارہ سال تک مسلسل کراچی کے میئر رہے۔ جمشید نصروانجی نے اپنی میئر شپ کے زمانے میں کراچی کے توسیع کے متعدد منصوبے بنائے۔ کھلی سڑکیں، باغات اور کھیلوں کے میدان تعمیر کروائے۔ شہر کو مختلف وارڈوں میں تقسیم کیا اور ہر وارڈ میں ایک پرائمری اسکول، ایک ڈسپنسری اور میٹرنٹی ہوم قائم کیا۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کا اہتمام کیا۔ان کے زمانے میں کراچی ایک چھوٹے سے قصبے سے بڑھ کر ایک بڑا اور جدید شہر بن گیا۔ کراچی کی مشہور سڑک جمشید روڈ کا نام انہی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یکم اگست 1952ء کو جناب جمشید نصروانجی رستم جی مہتہ نے وفات پائی۔
وفات :
۔"""""
1785ء سید خواجہ میر درد ، دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو و فارسی زبان کے شاعر (پیدائش: 1721ء)
1943ء نکولا ٹیسلا ، آسترین نژاد امریکی سائنسدان، موجد، میکانیکی اور برقیاتی انجنئیر ، برقی توانائی کے میدان میں انھیں انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران انقلابی ترقی برپا کرنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ (پیدائش: 1856ء)
1951ء شیخ عبد الوحد یحیٰی المعروف رینے گینوں ، فرانسیسی مسلم دانشور اور ماہر مابعدالطبیعیات، مصنف اور فلسفی ۔ آپ کو آنند کمار سوامی اور شون فریژوف کے ہمراہ مکتبۂ روایت پسندی (Traditionalist School) کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ روحانیات، علامات (Symbolism)، کونیات (Cosmology)، تصوف اور مشرقی ما بعد الطبیعیات پر آپ نے دنیا کو نئی فکر سے روشناس کروایا۔ (پیدائش: 1886ء)
1984ء الفرڈ کاسٹلر ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1966ء) یافتہ فرانسیسی طبیعیات دان، شاعر، استاد جامعہ انھیں یہ انعام ایٹموں میں ہرٹزین ریزوننس کو پڑھنے کے لیے انکی کی گئی آپٹیکل میتھڈ تخلیق پر دیا گیا۔ (پیدائش: 1902ء)
1989ء ہیرو ہیتو یا شہنشاہ شووا، جاپان کا (25 دسمبر 1926ء تا 7 جنوری 1989ء) ایک سو چوبیسواں شہنشاہ ، ان کا ذاتی نام ہیروہیتو تھا اسی لیے اسے شہنشاہ ہیروہیتو بھی کہا جاتا ہے۔ جاپان میں فوت شدہ شہنشاہوں کو ان کے بعد از مرگ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ (پیدائش: 1901ء)
1998ء ولادمیر پریلوگ ، نوبل انعام برائے کیمیا (1975ء) یافتہ بوسنیائی نژاد سوئس کیمیادان و استاد جامعہ (پیدائش: 1906ء)
2014ء سر رن رن شا ، چینی نژاد ہانگ کانگ کے فلم ساز، دنیا کے بڑی فلم ساز ادارے شا برادرز سٹوڈیو کے مالک بھی تھے۔ (پیدائش: 1907ء)
2016ء مفتی محمد سعید ، کشمیری وکیل و سیاستدان ، (2 دسمبر 1989ء تا 10 نومبر 1990ء) وزیرِ داخلہ بھارت و (2 نومبر 2002ء تا 2 نومبر 2005ء) اور (1 مارچ 2015ء تا 7 جنوری 2016ء) مقبوضہ کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ (پیدائش: 1936ء)
1892ء خدیف مصر، توفیق پاشا مقام وفات: قاہرہ
1932ء سر محمد شفیع، تحریک پاکستان کے رہنما۔سر شفیع نے تمام گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی ۔اسلامیہ کالج لاہور میں سر محمد شفیع اور جسٹس شاہ دین ہمایوں نے خدمات دیں۔ سر محمد شفیع 1919 سے 1921تک وزیر تعلیم رہے اور 7کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا۔انہوں نے پنجاب اردو گزٹ کے نام سے اخبا ر بھی شائع کیا۔میاں محمد شفیع متحدہ صوبہ پنجاب سے 30 دسمبر 1906ء کے مسلم لیگ کے تاسیسی اجلاس میں شامل تھے جو ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خاں کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ وہ مسلم لیگ کے بانی ارکان میں شامل تھے۔
7جنوری 2007ء کو سندھی اور انگریزی زبان کے مشہور شاعر،ادیب اور صحافی انور پیرزادو کراچی میں وفات پاگئے۔ انور پیرزادو 25 جنوری 1945ء کو بالھریجی تعلقہ ڈوکری ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے تھے۔1969ء میں انہوں نے انگریز ادبیات میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور اسی برس سندھ یونیورسٹی میں لیکچرار کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1970ء میں وہ کچھ وقت کے لئے پاکستان ایر فورس میں بھی رہے مگر ایک سیاسی خط لکھنے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور پھر انہوں نے صحافت کو اپنی زندگی کا محور بنالیا۔ وہ لاڑکانہ اور سکھر میں ڈان کے نامہ نگار کے فرائض انجام دیتے رہے تھے اوروہ عوامی آواز، برسات، سندھ ٹریبیون اور ریجنل ٹائمز آف سندھ کے مدیر رہے تھے۔ انہوں نے آزادی صحافت کی جدوجہد میں دو مرتبہ جیل یاترا بھی کی تھی۔ انور پیرزادو کی سندھی شاعری کا مجموعہ اے چند بھٹائی کھے چھیجن کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا جبکہ ان کی مرتبہ انگریزی کتب میں سندھ گزیٹئر، لاڑکانہ گزیٹئر اور بے نظیر بھٹو اے پولیٹیکل بائیو گرافی شامل ہیں۔
7 جنوری 1976ء کو اردو کے نامور مزاح گو شاعر سید محمد جعفری‘ کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ 27 دسمبر 1905ء کو پہرسر‘ بھرت پور کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔1906ء میں ان کے والد سید محمد علی جعفری‘ اسلامیہ کالج لاہور سے منسلک ہوگئے یوں سید محمد جعفری کی تمام تر تعلیم لاہور میں ہوئی۔قیام پاکستان کے بعد سید محمد جعفری مرکزی محکمہ اطلاعات میں اہم منصب پر فائز ہوئے‘ اسی ملازمت کے دوران انہیں ایران میں بحیثیت پریس اور کلچرل اتاشی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ سید محمد جعفری نے ایک صاحب اسلوب شاعر تھے انہوں نے سیاسی اور سماجی موضوعات پر 900 کے لگ بھگ نظمیں تحریر کیں۔ ان کے یہاں کلاسیکی شاعری کی تمام التزامات نظر آتے ہیں خصوصاً انہوں نے غالب اور اقبال کے جن مصرعوں کی تضمین کی ہے اس کی کوئی اور مثال اردو شاعری میں نظر نہیں آتی۔ سید محمد جعفری کے انتقال کے بعد ان کی شاعری کے دو مجموعے شوخی تحریر اور تیرنیم کش کے نام سے شائع ہوئے۔ وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
تعطیلات و تہوار :
آرتھوڈوکس اور قبطی مسیحیوں کا کرسمس ڈے

No comments:
Post a Comment