Ad3

جنوری 08 تاریخ کے حوالے سے

08 جنوری
تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا آٹھواں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 357 دن باقی ہیں

1026ء سلطان محمود غزنوی نے سومناتھ مندر کو منہدم کر دیا۔

1656ء نیڈرلینڈ سے شائع ہونے والے دنیا کے سب سے پرانے اخبار ’ہرلیمسڈگبالڈ‘ کی اشاعت ابراہم کیستلین نے شروع کی۔

 1811ء امریکہ کے الیسیانا میں چارلس ڈیسلوڈیس کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف غلاموں کی بغاوت شروع ہوئی۔

 1838ء امریکہ کے نیوجرسی میں کوما اور ڈیز کی مدد سے پہلا ٹیلی گرافک پیغام بھیجا گیا۔

 1848ء آسٹریلیائی فوجوں نے اٹلی کے پاویا میں دس طلباء کو مار ڈالا۔

 1918 کو امریکی صدر ووڈرو ولسن نے پہلی عالمی جنگ کے بعد نئے عالمی نظام کیلئے 14 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا۔

 1926ء عبدالعزیز ابن سعود حجاز کے بادشاہ بنے۔ بعد میں حجاز کو سعودی عرب کے نام سے پہچانا جانے لگا۔

 1929ء نیدرلینڈز اور ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے درمیان پہلا ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔

 1952ء اردن میں آئین نافذ کیا گیا۔

8 جنوری 1953ء کا دن کراچی میں طلبہ سیاست کی تاریخ میں بڑا یادگار دن مانا جاتا ہے۔ ہر سال 8 جنوری کو طلبہ اپنے ان ساتھیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں جو طلبہ کے مطالبات کے سلسلے میں احتجاج کرتے ہوئے اس دن ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے تھے۔ اس واقعہ کا پس منظر یہ تھا کہ 1952 میں جب کراچی کے کالجوں میں طلبہ یونینوں کے انتخابات مکمل ہوئے تو پہلی مرتبہ ایک انٹر کالجیٹ باڈی کا قیام عمل میں آیا اور طلبہ نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت اپنے مطالبات منوانے کی جدوجہد کا آغاز کیا ان کے خاص خاص مطالبات یہ تھے کہ فیسوں میں کمی کی جائے‘ لائبریری اور تجربہ گاہوں کا معقول انتظام کیا جائے‘ طبی امداد کی سہولت فراہم کی جائے اور حصول روزگار کی ضمانت دی جائے۔ طلبہ نے اس سلسلے میں اپنے مطالبات مرکزی وزیر تعلیم کی خدمت میں پیش کرنا چاہے مگر جب انہوں نے طلبہ کو وقت دینے سے انکار کردیا تو طلبہ نے 7 جنوری 1953ء کو کراچی کے ڈی جے کالج میں ایک جلسہ منعقد کیا جلسہ کے بعد طلبہ نے چاہا کہ وہ ایک جلوس کی شکل میں وزیر تعلیم کی کوٹھی پر جاکر انہیں اپنے مطالبات پیش کریں اس جلوس کے راستے میں پولیس مزاحم ہوئی اس نے اشک آور گیس برسائی پھر بھی طلبہ وزیر تعلیم کی کوٹھی تک پہنچ گئے مگر وزیر تعلیم نے طلبہ کا ایک مطالبہ بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اگلے دن 8 جنوری کو طلبہ نے پھر ہڑتال کی اور ڈی جے کالج میں ایک جلسہ منعقد کرکے ایک جلوس کی شکل میں وزیر اعظم کی کوٹھی تک جانا چاہا۔ بدقسمتی سے اس مرتبہ بھی پولیس ان کے راستے میں مزاحم ہوئی۔ یہ جلوس الفنسٹن اسٹریٹ تک پہنچا تو پولیس نے پہلے اشک آور گیس اور پھر فائرنگ کے ذریعے اسے منتشر کرنا چاہا جس کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک اور 80 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے۔ کراچی کے شہری اس خونیں ڈرامے کی تاب نہ لاسکے اور 9 جنوری کو انہوں نے طلبہ کی حمایت کا اعلان کردیا اس دن کراچی میں مکمل ہڑتال رہی عوام اور پولیس میں متعدد مقامات پر تصادم ہوا اس تصادم کے نتیجے میں مزید دس افراد ہلاک ہوگئے۔ جنوری تحریک کے رہنمائوں میں محمد سرور‘ مرزا محمد کاظم‘ سید احمد اقبال‘ معیز الدین فاروقی‘ خواجہ عدیل احمد اور محمد شفیع کے نام قابل ذکر ہیں۔ 13 فروری 1953ء کو حکومت نے ان ہنگاموں کی تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا جو مسٹر جسٹس ولی محمد ویلانی پر مشتمل تھا۔ اس کمیشن نے 24 مئی 1953ء کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ اس رپورٹ میں 8 جنوری کے سانحے اور طلبہ تحریک کا پس منظر بالکل مختلف بیان کیا گیا تھا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ فسادات اتفاقیہ نہیں تھے بلکہ کمیونسٹوں کی منظم سازش کا نتیجہ تھے اور یہ فسادات راولپنڈی سازش کیس کے فیصلے کے ردعمل کے طور پر کروائے گئے تھے۔ 

 1953ء رینے میئر نے فرانس میں حکومت بنائی۔

 1956ء وزیر قانون ابراہیم اسماعیل چندریگر نے پاکستان کا دستوری بل اسمبلی میں پیش کیا۔

 1959ء چارلس دی گال فرانس کے پہلے صدر بنے۔

 1973ء سوویت یونین نے لونا 21 خلائی گاڑی چاند پر بھیجی۔

 1977ء پاکستان میں 1977ء کی انتخابی مہم کے لئے حزب اختلاف کی جماعتوں نے باہمی اتحاد سے پاکستان نیشنل الائنس بنانے کا اعلان کیا۔

 1989ء انگلینڈ میں بوئنگ 737 طیارہ حادثہ کا شکار ہوا جس میں 45 افراد ہلاک ہوئے۔

 1989ء سوویت یونین نے اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو ختم کرنے کا وعدہ کیا۔

 1996ء جنوبی افریقی ملک زائرے کا ایک مال بردار طیارہ کشنشا کے ایک بھیڑ بھاڑ والے بازار میں گرا جس میں 350 لوگ مارے گئے۔

 1998ء رمزی احمد یوسف کو امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

 2002ء افغانستان میں طالبان سرکار کے دفاع، انصاف، کانکنی اور صنعت کے وزیروں نے قندھار میں امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوج کے سامنے خود سپردگی کی۔

 2003ء ستاسی سال بعد آئن اسٹائن کے نظریئے (کشش ثقل اور بجلی کی رفتار برابر ہے) کو سائنسی طور پر ثابت کیا گیا۔

 2011ء امریکی کانگرس کی رکن گیبریالا گفرڈز ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئیں جبکہ چھے دیگر افراد ہلاک ہو گئے۔

2015ء۔۔پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے ریحام خان سے دوسری شادی کی۔جو  30 اکتوبر 2015 کو طلاق پہ ختم ہوئی۔

ولادت :

 1867ء ایملی گرین بالچ، ننوبل امن انعام (1946ء) یافتہ امریکی ماہر معاشیات، سماجی کارکن، امن پسند خاتون اور مصنف (وفات: 1961ء)

 1891ء والٹتھر بوتھ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1954ء) یافتہ جرمن طبیعیات دان، کیمیا دان، ریاضی دان، موجد اور استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام جرمن نژاد برطانوی طبیعیات دان میکس بورن کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ جس کی وجہ نیوکلیائی مقناطیس کے حوالے سے اعداد شمار کو گننے کے طریقے کا ایجاد کرنے اور اس سے جڑے ان کے قابل قدر کارنامے تھے ۔  (وفات: 1957ء)

1908ء رضی الدین صدیقی ، ہلالِ امتیاز یافتہ پاکستانی طبیعیات دان، ریاضی دان، نظری طبیعیات  و استاد جامعہ (وفات: 1998ء)

 1929ء سعید جعفری ، ہندوستانی نژاد برطانوی اداکار (وفات: 2015ء)

 1935ء ایلوس پریسلے، امریکی گلوکار، منظر نویس، فوجی، پیانو نواز، گٹار نواز، اور اداکارہ (وفات: 1977ء)

 1936ء  جیتیندر ناتھ منی دیکشت بمعروف جے این دیکشت ، بھارتی صحافی، سفارت کار (وفات: 2005ء)

 1942ء سٹیفن ہاکنگ، وولف انعام برائے طبیعیات (1988ء) یافتہ انگریزی طبیعیات دان، ریاضی دان و استاد جامعہ ، انھیں آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کام ثقب اسود یعنی بلیک ہول، نظریاتی کونیات (کونیات) کے میدان میں ہے۔  وہ ایک خطرناک بیماری سے دو چار تھے اور کرسی سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔ ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتے اور بول نہیں سکتے تھے۔ لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند رہے اور بلند حوصلگی کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھا۔ وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے۔ ان کی يہ بیماری ان کو تحقيقی عمل سے روک نہ سکی۔ (وفات: 2018ء)

 1947ء ڈیوڈ رابرٹ جونز بمعروف ڈیوڈ بوئی ، انگریز  مصور، گلوکار، نغمہ نگار، موسیقار اور اداکار (وفات: 2016ء)

 1953ء دامیان الکازار ، میکسیکی اداکار

1961ء شعیب محمد، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

 1977ء ایمبر بینسن ، امریکی فلمی اداکارہ

1982ء سارہ محمود ، پاکستانی بیڈمنٹن کھلاڑی

1984ء کم جونگ-اون، شمالی کوریا کی کورین پیپلز آرمی کے سالار اور سیاستدان، 17 دسمبر 2011ء سے  تیسرا سپریم لیڈر ( ڈکٹیٹر) کوریا ،  کم جونگ-اون کے دادا شمالی کوریا کے بانی تھے۔  کم جونگ اون کو شمالی کوریا کی ظالم ترین شخصیت مانا جاتا ہے۔ اپنے وزیر دفاع کو سرکاری میٹنگ میں سونے پر طیارہ شکن گن سے اڑا دیا۔ کم جون اون نے اپنے بہت سے مخالفین کو بھی عجیب طریقوں سے قتل کیا ۔کم جونگ اون پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے اپنی خالہ کو زہر دے کر مارا۔ اور اپنے ایک رشتہ دار کو شکاری کتوں کے سامنے ڈال کر ان کتوں کو کھلایا۔

*وفات*

1324ء مارکو پولو ، وینس، اٹلی کا ایک تاجر اور مہم جو، مصنف، سفارت کار ، قبلائی خان منگول تھا اور اسے چینیوں پر اعتبار نہیں تھا اس لیے اس نے مارکو پولو کو اپنی ملازمت میں رکھ لیا۔ مارکو 17 سال تک چین میں رہا اور پھر اپنے وطن واپس آگیا۔ (پیدائش: 1254ء)

1642ء گلیلیو گلیلی، اطالوی طبیعیات دان، ریاضی دان، فلکیات دان، فلسفی اور استاد جامعہ ، سائنسی انقلاب پیدا کرنے میں گالی لیو کا کردار اہم ہے۔ وہ شاقول اور دوربین كا نامور موجد ہے- گالی لیو نے اشیا کی حرکات، دوربین، فلکیات کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔ اسے جدید طبیعیات کا باپ کہا جاتا ہے۔ (پیدائش: 1564ء)

 1941ء  رابرٹ سٹفینسن سمتھ بمعروف لارڈ بیڈن پاول ، برطانوی فوجی افسر، مجسمہ ساز ، مصنف اسکاؤٹ رہنما و سیاستدان ، ہندوستان، افغانستان اور جنوبی افریقا میں فوجی خدمات سر انجام دیں۔ 1908ء میں انگلستان میں بوائے سکاوٹ کی تحریک کا آغازکیا۔ جو رفتہ رفتہ دنیا بھر میں پھیل گئی۔ چند برس بعد گرل گائیڈ کو بھی اس تحریک کا حصہ بنایا۔ ان خدمات کے صلے میں 1929ء میں لارڈ کا خطاب ملا۔ (پیدائش: 1857ء)

 1884ء کیشب چندر سین یا کیشو چندر سین ، بنگالی ہندو فلسفی اور سماجی مصلح جنہوں نے مسیحی الہیات کو ہندو افکار کے مطابق تشکیل دینے کی کوشش کی ۔ (پیدائش: 1838ء)

 1941ء سوامی پرمانند مہاراج، ہندوستان سیوا آشرم سنگھ کے بانی

 1959ء سر مرزا محمد اسماعیل امین المولک ، (1926ء تا1941ء) دیوان (وزیرِ اعظم) ریاست میسور، (اگست 1946ء تا مئی 1947ء) صدر المہام (وزیرِ اعظم) حیدرآباد اور جے پور (پیدائش: 1883ء)

 1966ء بمل رائے ، بھارتی فلم ہدایت کار، فلم ساز، منظر نویس (پیدائش: 1909ء)


 1976ء چو این لائی، چینی جرنیل اور بورژوا خاندان سے تعلق رکھنے والے کمیونسٹ سیاست دان، (27 ستمبر 1954ء تا 8 جنوری 1976ء) پہلے وزیر اعظم چین (پیدائش: 1898ء)

 1984ء سشما مکھو پادھیائے، پہلی بھارتی خاتون پائلٹ

 1980ء ایئر کموڈور ولوادیسیوف دورووچ ، ستارہ قائد اعظم, ستارہ پاکستان, ستارہء امتیاز یافتہ سائبیریا سے تعلق رکھنے والے پولینڈ نژاد پاکستانی طبیعیات دان اور فضائی سپاہی ، وہ پاکستان کے میزائل و راکٹ پروگرام کے بانی ہیں پیدائش: 1908ء)

1993ء ہکیجا تراجلک ، بوسنیا کا ایک سیاست دان، ماہر معاشیات اور تاجر۔ نائب وزیرِ اعظم بوسنیا ، اسے 1993ء میں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ ادارہ اقوام متحدہ کی حفاطت میں بکتربند گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ اپنے قتل کے وقت وہ بوسنیا کا نائب وزیر اعظم تھا۔ ہکیجا تراجلک اقوام متحدہ کی امن فوج کے تین فرانسیسی سپاہیوں کے ہمراہ سفر کر رہا تھا جب سرب افوج نے انہیں روکا۔ اگر فرانسیسی سپاہی بکتر بند گاڑی کا دروازہ اندر سے نہ کھولتے تو شائید یہ قتل ممکن نہ ہوتا۔ فرانسیسی جنرل Philippe Morillon جو اقوام متحدہ کی وہاں افواج کا سب سے بڑا کمانڈر تھا نے بیان دیا کہ ہم نے جوابی فائرنگ اس لیے نہیں کی کیونکہ ہماری جان کو خطرہ نہیں تھا۔ جب یہ فرانسیسی سپاہی واپس وطن پہنچے تو انکا شاندار استقبال کیا گیا۔ قتل کرنے والے سرب کا نام Goran Vasić تھا جسے گرفتار کرنے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سرب حکومت اور اقوام متحدہ نے اس قتل کی تفتیش میں بوسنیا کی حکومت سے کوئی تعاون نہیں کیا۔ قاتل کو 2002ء میں الزام سے بری الزمّہ قرار دیا گیا۔ (پیدائش: 1936ء)

 1997ء ملون کیلون، نوبل انعام برائے کیمیا (1961ء) یافتہ امریکی کیمیا دان ، حیاتی کیمیا دان، استاد جامعہ ، جنھوں نے اپنے ساتھیوں انڈریو بنسن اور جیمز بشام کے ہمراہ کیلون سائیکل دریافت کی (پیدائش: 1911ء)

 2002ء الیکزینڈر پروکورو، نوبل انعام برائے طبیعیات (1964ء) یافتہ جرمن نژاد روسی طبیعیات دان، استاد جامعہ و مدیر ،  انہیں نے یہ انعام اپنے ہم وطن سائنس دان نکولے باسو اور ایک امریکی سائنس دان چارلس ہارڈ ٹاونس کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ جس کی وجہ کوانٹم الیکٹرونکس سے جڑے ان کے کام تھے جس کی وجہ سے اوسکیلیٹر اور ایمپلی فائیر کی تخلیق ممکن ہوئی۔ (پیدائش: 1916ء)

 2007ء انور پیرزادہ، پاکستانی،لاڑکانہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سپاہی، شاعر، محقق و ادیب (پیدائش: 1945ء)

 2007ء ایوو تاکاموٹو، امریکی کاٹون ساز، ہدایت کار، اور تخلیق کار ، مشہور کارٹون سکوبی ڈو کے خالق (پیدائش: 1925ء)

2017ء اکبر ہاشمی رفسنجانی، ایرانی سیاست دان، مصنف، کارجو، الٰہیات دان، کاروباری شخصیت ، (3 اگست 1989ء تا 3 اگست 1997ء) چوتھے ایرانی صدر (پیدائش: 1934ء)

08 جنوری 1972ء کو اردو اور پنجابی کے نامور شاعر اور ادیب جناب باقی صدیقی انتقال کرگئے۔ باقی صدیقی کا اصل نام محمد افضل تھا اور وہ 20 دسمبر 1908ء کو سہام راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ باقی صدیقی کے شعری مجموعوں میں کچے گھڑے، جم جم، دارو سن، زخم بہار، بار سفر اور زاد راہ کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ راولپنڈی میں قبرستان قریشیاں، سہام میں آسودئہ خاک ہیں۔ 



8 جنوری 2004ء کو اردو کے ممتاز گیت نگار شاعر نگار صہبائی کراچی میں وفات پاگئے۔ نگار صہبائی کا اصل نام محمد سعید تھا اور وہ 7 اگست 1926ء کو ناگ پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدراس اور ناگ پورسے حاصل کی۔ 1947ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے جامعہ کراچی سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے شاعری کی تربیت اپنے ماموں عبدالوہاب سے حاصل کی۔ ابتدا میں انہوں نے شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھے اور انہیں مصوری، موسیقی اور رقص کا شوق بھی رہا۔ انہوں نے ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کی محبوب صنف سخن گیت نگاری تھی جس میں وہ ایک منفرد اسلوب کے مالک تھے۔ ان کے گیتوں کے تین مجموعے جیون درپن، من گاگر اور انت سے آگے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔

 1993ء آصف نواز جنجوعہ، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف (پیدائش:3 جنوری 1937ء)٭8 جنوری 1993ء کو بری فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے کے باعث اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ چند یوم قبل 3 جنوری 1993ء کو انہوں نے اپنی 56 ویں سالگرہ منائی تھی۔ 8 جنوری کو اپنے روزمرہ کے معمول کے مطابق انہوں نے اپنی رہائش گاہ میں اپنے کمرہ میں ایکسر سائز سائیکلنگ شروع کی۔ اس ورزش کے دوران انہیں سینے میں درد کی شکایت ہوئی۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے سات گھنٹے تک ان کی جان بچانے کی جدوجہد کی مگر شام 3 بجکر 56 منٹ پر وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ جنرل آصف نواز ایک پیشہ ور فوجی افسر تھے۔ ان کی موت کا دکھ پورے پاکستان میں محسوس کیا گیا۔ جنرل آصف نواز کی وفات کے کوئی تین ماہ بعد ان کی بیوہ بیگم نزہت آصف نواز نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ان کے شوہر کو سلو پوائزن دے کر قتل کیا گیا ہے اور اس قتل کے ذمہ دار حکمران بالخصوص چوہدری نثار علی اور بریگیڈیئر امتیاز ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے ان الزامات کا فوری نوٹس لیا اور اگلے ہی دن جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ایک خصوصی جوڈیشل کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن سے کہا گیا کہ وہ الزامات کے صحیح ہونے کا جائزہ لے اور موت کی اصل وجہ کا تعین کرے۔ 14 مئی 1993ء کو اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جنرل آصف نواز کی موت کو طبعی قرار دیا۔ جب جناب معین قریشی نگراں وزیراعظم بنے تو جنرل آصف نواز کی موت کا مسئلہ پھر سے اٹھایا گیا۔ چنانچہ یکم اکتوبر 1993ء کو جنرل آصف نواز کی نعش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا 13 دسمبر 1993ء کو حکومت پاکستان کے ایک سرکاری ترجمان نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹوں کی روشنی میں اعلان کیا کہ جنرل آصف نواز کی وفات زہر خورانی سے نہیں بلکہ ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے۔ اس اعلان کے بعد ان کی موت کی تفتیش ختم کردی گئی۔ 

8 جنوری 1979ء کو ممتاز موسیقار استاد عبدالقادر پیارنگ راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ استاد عبدالقادر پیارنگ کا تعلق موسیقی کے کسی گھرانے سے نہیں تھا۔ انہوں نے یہ فن فقط شوق میں سیکھا تھا اور پھر اس میں ایسی دسترس حاصل کی کہ خود انہیں استاد کا درجہ حاصل ہوا۔ استاد عبدالقادر پیارنگ 1906ء میں پنجاب کے ضلع فیروز پور میں یوگے والا نامی گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کے تمام افراد، ان کے بچپن ہی میں کسی وبا میں فوت ہوگئے تھے اس لئے ان کی زندگی بڑی کسمپرسی میں بسر ہوئی۔ وہ شہروں شہروں خاک چھانتے رہے، اسی دوران 1924ء میں انہوں نے مدراس میں استاد حافظ ولایت علی خان کی شاگردی اختیار کی اور موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے۔ پھر وہ بمبئی چلے گئے جہاں انہیں آل انڈیا ریڈیو اور فلموں میں موسیقی دینے کا موقع ملا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پہلے حیدرآباد اور پھر کراچی میں اقامت پذیر ہوئے۔ اسی شہر میں انہیں دینا لیلیٰ اور رونا لیلیٰ کو موسیقی کی تربیت دینے کا موقع ملا۔ 1965ء میں وہ کراچی سے راولپنڈی منتقل ہوئے جہاں انہوں نے ایک میوزک اسکول قائم کیا۔اس میوزک اسکول میں ان سے اکتساب کرنے والوں میں استاد محفوظ کھوکھر کا نام بہت نمایاں ہے۔ استاد عبدالقادر پیارنگ کے قدر دانوں میں ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم بھی شامل تھیں۔ انہوں نے 8جنوری 1979ء کو وفات پائی اور طارق آباد (لال کرتی)راولپنڈی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...