Ad3

جنوری 09 تاریخ کے حوالے سے

09 جنوری
تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا نواں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 356 دن باقی ہیں ۔

 1349ء سوئٹزرلینڈ کے باسیل میں سات سو یہودیوں کو ان کے گھروں میں زندہ جلا دیا گیا۔

 1664ء شیواجی نے مغلوں کے اہم تجارتی مرکز سورت کی لوٹ پاٹ  کی اور چلے گئے۔

1718ء فرانس نے اسپین کے خلاف  اعلان جنگ کیا۔

 1760ء براری گھاٹ کے میدان میں افغانوں کے ہاتھوں مرہٹوں کو شکست ہوئی۔

 1799ء انگلینڈ میں انکم ٹیکس نظام شروع ہوا۔

 1915ء جنوبی افریقہ میں اپنی پہلی سول نافرمانی کی تحریک چلا کر گاندھی ہندوستان لوٹے۔ 

 1953ء جنوبی کوریا کے ایک مسافر بردار جہاز ڈوبنے سے 349 مسافر ہلاک ہو گئے۔

 1957ء برطانوی وزیراعظم انٹونی ایڈن نے استعفی دے دیا۔

 1960ء مصر میں اسوان ڈیم پر کام شروع ہوا۔

 1962ء سونے کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

 1962ء امریکہ نے نیوادہ میں ایٹمی تجربہ کیا۔

 1970ء سنگاپور میں آئین نافذ کیا گیا۔

 1972ء ہندوستان کو دنیا میں سب سے زیادہ فیچر فلمیں بنانے والا ملک قرار دیا گیا۔ اس سال ہندوستان نے 433 فلمیں بنائیں۔

 1977ء صدر پاکستان فضل الہی چوہدری نے وزیراعظم کی درخواست پر اسمبلیاں تحلیل کر دیں تاکہ نئے انتخابات کروائے جا سکیں۔

1980ء ۔19 نومبر 1979ء کو مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے والے 63 مجرموں کا سر قلم کر دیا گیا۔

 1882ء آسکر وائلڈ نے نیو یارک میں پہلا لیکچر دیا۔

 1982ء ہندوستانی سائنس دانوں کی مہم جو ٹیم پہلی بار انٹارکٹکا پہنچی۔

 1987ء چین ۔ ویتنام سرحدی تنازعہ کی جنگ میں 1500 افراد مارے گئے۔

 1996ء روس کے جنوبی شہر میں چیچن باغیوں نے 2000 افراد کو یرغمال بنایا۔

 1998ء روس کے گرینڈ ماسٹر اناطولی کارپوف نے بھارتی گرینڈ ماسٹر وشوناتھن آنند کو ہرا کر اپنا خطاب برقرار رکھا۔

 2002ء کولمبیا سرکار نے بائیں بازو کی گوریلا تنظیم (ایف اے آر سی) کے ساتھ تین برس پرانی جنگ بندی ختم کرتے ہوئے باغیوں کو 48 گھنٹے میں اپنے علاقے خالی کرنے کا حکم دیا۔

 2003ء کراچی سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی آئی۔

2004ء امریکہ نے عراقی صدرصدام حسین کو جنگی قیدی قرار دے دیا۔

 2004ء فرانس میں ایر لائنز کمپنی یو ٹی اے کے طیارے میں ہوئے بم دھماکے میں مارے گئے 170 مسافروں کے لواحقین نے 17 کروڑ روپے کے معاوضے کے لئے سوڈان سے ایک سمجھوتہ پر دستخط کئے۔

 2005ء سوڈان میں سرکار اور جنوب میں سرگرم باغیوں نے 21 برسوں سے جاری خانہ جنگی ختم کرنے کے لئے ایک امن معاہدے پر دستخط کئے۔

 2005ء محمود عباس یاسر عرفات کی موت کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔

 2006ء سانچہ:Country data بوسنیا میں اقوام متحدہ کے سابق کمانڈر جنرل سر مائیکل روس نے غیر ملکی نیوز ایجنسی کوانٹرویو میں صدر ٹونی بلیئر پر عراق جنگ کے خلاف مواخذہ کرانے کا کہا۔

 2007ء ایپل کمپیوٹر کمپنی نے آئی فون متعارف کرایا۔

 2018.ء۔وزیر اعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری مستعفی ہوگئے ۔وہ 25 دسمبر 2015 کو اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔

2018ء۔کوئٹہ جی پی او روڈ پہ خودکش حملہ ۔6 اہلکار شہید  17 زخمی۔

*ولادت*

1973ء۔۔انجیلا بتیس (Angela Bettis) ریاستہائے متحدہ امریکا کی ایک فلمی اداکارہ

 1913ء رچرڈ نکسن، امریکہ کے سینتیسویں صدر

 1920ء حکیم محمد سعید، پاکستانی طبیب اور سماجی کارکن۔ 9 جنوری 1974ء کو پاکستان کی جدوجہد آزادی کے معروف رہنما نواب صدیق علی خان کراچی میں وفات پاگئے۔ نواب صدیق علی خان 1900ء میں ناگ پور میں نواب غلام محی الدین خان کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی ناگ پور ہی میں حاصل کی۔ 1935ء میں ناگ پور ہی سے مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کے پولیٹیکل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو نواب زادہ لیاقت علی خان نے آپ ہی کے ہاتھوں میں دم توڑا تھا۔ نواب صدیق علی خان خواجہ ناظم الدین‘ محمد علی بوگرہ اور حسین شہید سہروردی کے پولیٹیکل سیکریٹری رہے اور 1958ء میں سے 1961ء تک ایتھوپیا میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ نواب صدیق علی خان نے نوابزادہ لیاقت علی خان کی سوانح بے تیغ سپاہی کے نام سے تحریر کی تھی۔ وہ کراچی میں عالمگیر روڈ پر جامع مسجد‘ سی پی اینڈ برار ہائوسنگ سوسائٹی کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

*وفات*

1923ستیندر ناتھ ٹیگور (یکم جون 1842ء) وہ پہلے ہندوستانی تھے جو انڈین سول سروس کے لیے منتخب ہوئے۔ علاوہ ازیں وہ ایک مصنف، نغمہ نگار اور ماہر لسانیات تھے۔برطانوی راج کے ہندوستانی معاشرے میں خواتین کی بدحالی اور قید و بند کی زندگی کے خلاف انہوں نے زور و شور سے آواز بلند کی اور آزادی نسواں کے میدان میں زبردست کام کیا۔ 1882 میں  ستیندر ناتھ کاروار، کرناٹک میں ضلع جج رہے۔ انڈین سول سروس میں انہوں نے تیس برس کام کیا اور سنہ 1897ء میں صوبہ مہاراشٹر کے شہر ستارا میں جج کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔ستیندر ناتھ دیویندر ناتھ ٹیگور کے فرزند، رابندر ناتھ ٹیگور کے بڑے بھائی اور دوارکاناتھ ٹیگور کے پوتے تھے

1998ء۔۔کنیچی فوکوئی ایک جاپانی کیمیاء دان تھے۔ انھوں رونالڈ ہوفمین کے ساتھ 1981ء کا نوبل انعام برائے کیمیاء جیتا ان دو شخصیات نے کیمیائی تعملات پر الگ الگ تحقیق کی تھی۔

 1996ء سلطان راہی، اداکار کو گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ پر نا معلوم ڈاکوؤں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ سلطان راہی کا اصل نام سلطان محمد تھا۔ انہوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز فلم باغی میں ایک معمولی سے کردار سے کیا تھا اس کے بعد وہ خاصے عرصے تک فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ہی ادا کرتے رہے۔ 1971ء میں فلم بابل میں انہیں ایک اہم کردار دیا گیا جس سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا اور پھر انہوں نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پاکستان کے فلمی صنعت کے سب سے مقبول اور سب سے مصروف اداکار بن گئے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 804 فلموں میں کام کیا جن میں500سے زیادہ فلمیں پنجابی زبان میں اور 160 فلمیں اردو زبان میں بنائی گئی تھیں جبکہ 50 سے زیادہ فلمیں ڈبل ورژن تھیں ان میں سے 430 فلمیں ایسی تھیں جن کے ٹائٹل رول سلطان راہی نے ادا کئے تھے۔ ان کی مشہور فلموں میں بشیرا، شیر خان ،مولا جٹ، سالا صاحب، چند وریام،آخری جنگ اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک مخیر شخص تھے اور انہوں نے اپنے ذاتی خرچ پر کئی مساجد بھی تعمیر کروائی تھیں۔ 14 جنوری 1996ء کو انہیں لاہور میں شاہ شمس قادری کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔ 

 9 جنوری 1974ء کو پاکستان کی جدوجہد آزادی کے معروف رہنما نواب صدیق علی خان کراچی میں وفات پاگئے۔ نواب صدیق علی خان 1900ء میں ناگ پور میں نواب غلام محی الدین خان کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی ناگ پور ہی میں حاصل کی۔ 1935ء میں ناگ پور ہی سے مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کے پولیٹیکل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو نواب زادہ لیاقت علی خان نے آپ ہی کے ہاتھوں میں دم توڑا تھا۔ نواب صدیق علی خان خواجہ ناظم الدین‘ محمد علی بوگرہ اور حسین شہید سہروردی کے پولیٹیکل سیکریٹری رہے اور 1958ء میں سے 1961ء تک ایتھوپیا میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ نواب صدیق علی خان نے نوابزادہ لیاقت علی خان کی سوانح بے تیغ سپاہی کے نام سے تحریر کی تھی۔ وہ کراچی میں عالمگیر روڈ پر جامع مسجد‘ سی پی اینڈ برار ہائوسنگ سوسائٹی کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

2007ء کارلو پونٹی، اٹالین فلم ساز اور صوفیہ لارین کے شوہر  تھے انتقال ہوا۔ (پیدائش: 1913ء)

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...