10 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا 10 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 355 دن باقی ہیں ۔
1616ء انگریروں کے سفیر سر تھامس رو مغل حکمراں جہانگیر کے اجمیر میں واقع دربار میں آئے۔
1816ء مراٹھوں اور انگریزوں کے درمیان تیسری اور آخری لڑائی رام پورہ میں ہوئی۔ اس کے بعد مراٹھوں کی طاقت بکھر گئی۔
1836ء پروفیسر مدھوسدن گپتا اور ان کے چار طلباء راج کرشن ڈے، اوما چرن سیٹھ، دوارکا ناتھ اور نوین چندر مترا نے پہلی بار پوسٹ مارٹم کیا۔
1878ء امریکی سینٹ نے خواتین کے حقوق کی تجویز پیش کی۔
1912ء کنگ جارج پنجم اور کوین میری ہندوستان سے روانہ ہوئے
1966ء - پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے تاشقند میں امن معاہدے پر دستخط کیے۔23 ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ بندی کے بعد 10 جنوری 1966ء کو پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جو ’’معاہدہ تاشقند‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدے کے لیے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان 3 جنوری 1966ء کو اپنے سولہ رکنی وفد کے ہمراہ روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے ان کے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو‘ وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے۔ پاکستان اور بھارت کے یہ تاریخی مذاکرات جن میں سوویت یونین نے ثالث کے فرائض انجام دیے‘ 7 دن تک جاری رہے۔ اس دوران کئی مرتبہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے کیونکہ بھارت کے وزیر اعظم شاستری نے ان مذاکرات میں کشمیر کا ذکر شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ طے شدہ تھا اور یہ مذاکرات صرف ان مسائل کو حل کرنے کےلولیس، ورہے تھے جو حالیہ جنگ سے پیدا ہوئے تھے۔ پاکستانی وفد کا خیال تھا کہ ایسے حالات میں یہ مذاکرات بے مقصد ہوں گے اور پاکستانی وفد کو کوئی معاہدہ کیے بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے۔ مگر مذاکرات کے آخری ایام میں سوویت وزیر اعظم کوسیجین نے صدر ایوب خان سے مسلسل کئی ملاقاتیں کیں اور انہیں بھارت کے ساتھ کسی نہ کسی سمجھوتہ پر پہنچنے پر رضامند کرلیا۔ یوں 10 جنوری 1966ء کو صدر ایوب خان اور وزیر اعظم شاستری نے معاہدہ تاشقند پر اپنے دستخط ثبت کردیے۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج اگلے ڈیڑھ ماہ میں 5 اگست 1965ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلی جائیں گی اور دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور پر پابند رہتے ہوئے باہمی مذاکرات کی بنیاد پر حل کریں گے۔ معاہدہ تاشقند پر دستخط صدر ایوب خان کی سیاسی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ ثابت ہوئے۔ یہی وہ معاہدہ تھا جس کی بنا پر پاکستانی عوام میں ان کے خلاف غم و غصہ کی لہر پیدا ہوئی اور بالآخر ایوب خان کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ پاکستانی عوام کا آج تک یہی خیال ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو تاشقند کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے دفن کردیا اور وہ جنگ‘ جو خود حکومتی دعوئوں کے مطابق میدان میں جیتی جاچکی تھی‘ معاہدے کی میز پر ہار دی گئی۔
10 جنوری 1991 کو ضمنی انتخاب کے موقع پر جھنگ میں بم دھماکہ ہوا جس میں سپاہ صحابہ پاکستان کے نائب امیر مولانا ایثار القاسمی شہید ہوئے۔
10 جنوری 2008ء کو جنوبی فرانس میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ مہم جو خاتون نمیرہ سلیم نے قطب جنوبی پر قدم رکھا اور وہاں پہلی مرتبہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ پرچم انہیں 24 دسمبر 2007ء کو پاکستان کے نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو نے دیا تھا۔ نمیرہ سلیم اس سے قبل 21 اپریل 2007ء کو قطب شمالی میں بھی پاکستان کا پرچم لہرا چکی تھیں۔ وہ پرچم انہیں 29 جنوری 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف نے عطا کیا تھا۔ نمیرہ سلیم پہلی پاکستانی خاتون تھیں جنہیں قطبین پر پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ وہ ایک اچھی شاعرہ بھی ہیں
2008 - لاہور، پاکستان میں خودکش حملہ، 22 افراد جاں بحق
۔2003ء۔ شمالی کوریا نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کئے
1992ء لاہور اسلام آباد موٹر وے کی تعمیر کا آغاز ہوا
1989ءکیوبن فورسز کا انگولا سے انخلا
1955ء پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد نے اورینٹ ایئرویز کو پی آئی اے میں مدغم کرنے کا آرڈینس جاری کیا ۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کو ایک چھوٹی سی فضائی کمپنی ورثے میں ملی تھی جس کا نام اورینٹ ائیر ویز تھا۔ اس فضائی کمپنی کے صدر دفاتر کلکتہ میں تھے جو قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل کردیئے گئے تھے۔ پاکستان کے قیام کے ابتدائی چھ سات برس تک یہی ائیر لائن ملک میں فضائی آمدورفت کا نظام سنبھالے رہی۔ مگر کم وسائل ہونے کے باعث یہ ایرلائن اپنا دائرہ زیادہ وسیع نہ کرسکی۔ 1954ء میں پاکستان میں ایک قومی ائیر لائن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور 10 جنوری 1955ء کو پاکستان کے وزیر مملکت برائے دفاع سردار امیراعظم خان نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کی ایک نیم سرکاری بین الاقوامی فضائی کارپوریشن کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارپوریشن 5 کروڑ روپے کے منظور شدہ سرمایہ سے قائم ہوگی اور اورینٹ ائیر ویز کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔ اسی دن گورنر جنرل غلام محمد نے اورینٹ ائیر ویز کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں ضم کرنے کے لئے ایک آرڈی ننس بھی جاری کیا۔ یوں 10 جنوری 1955ء کو پاکستان کی قومی ایئر لائن کا قیام عمل میں آگیا۔
1946ءامریکی افواج نے چاند سے رابطہ رکھنے والا پہلا ریڈار تشکیل دیا
10جنوری 1960ء کو پاکستان بھر میں سرکاری طور پرپہلی مرتبہ یو م افواج پاکستان منایا گیا۔
1946ء لندن میں اقوام متحدہ کی پہلی جنرل اسمبلی کا قیام ہوا ۔
10 جنوری 1980ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پی آئی اے کے قیام کی پچیسویں ویں سالگرہ کے موقع پر ایک روپے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر پی آئی اے کے دو طیاروں کی تصویریں بنی تھیں اور 25 Yers of Service کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔
10جنوری 1982ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تپ دق کے جراثیم کی دریافت کے سو سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت ایک روپیہ تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ٹی بی کے ایکس رے کی تصویر بنی تھی اور HELP FIGHT THE OLD ENEMY TB اور Centenary of the discovery of the tubercle bacillus 1982 کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر اخلاق احمدنے ڈیزائن کیا تھا
1920ء لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا۔پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو اس کے فوراً بعد انگلستان ،فرانس ، جرمنی ، ڈنمارک ناروے ، اور سویڈن میں ایسی انجمنیں معرض وجود میں آئیں جن کا مقصد جنگ کی روک تھام کرنا اور لوگوں کو امن کی اہمیت کا احساس دلانا تھا۔ ساتھ ہی ایک ایسی عالمی تنظیم کے قیام کی تحریک کا شروع ہوئی جو بقائے امن کے لیے مربوط کوشش کر سکے۔ چنانچہ ورسائی کے معاہدہ امن کی بنیاد پر 10 جنوری 1920ء کو ’’جمعیت الاقوام‘‘ قائم ہوئی۔ ابتداء میں اس ادارے میں 28 اتحادی اور 14 غیر جانبدار ممالک شامل ہوئے۔ بعد میں ارکان کی تعداد 60 تک پہنچ گئی۔ 1935ء میں جاپان اور جرمنی اس انجمن سے نکل گئے ۔ 1937ء میں اٹلی نے بھی اس سے قطع تعلق کر لیا ۔روس اور افغانستان 1934ء میں اس کے رکن بنے۔جمعیت الاقوام میں ہر وہ خود مختار ملک اور مقبوضہ علاقہ شامل ہوسکتا تھا جو بین الاقوامی ذمہ داری قبول کرنے اور فوجی امور و معاملات میں انجمن کے فیصلوں کی پابندی کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ انجمن اقوام کا مقصد دنیا بھر کے ملکوں میں انصاف اور احترام کوفروغ دینا اور اس طرح آئندہ جنگوں کا سدباب کرنا تھا۔ انجمن کا صدر مقام جینوا میں تھا۔ اس کی دو سرکاری زبانیں تھیں۔ انگریزی اور فرانسیسی ۔ منشور کے مطابق ہر رکن ملک حلف لیتا تھا کہ وہ کسی دوسرے رکن ملک سے تنازع کی صورت میں پر امن ذ رائع سے مفاہمت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اور مصالحت اور مفاہمت کے تمام امکانات مسدود ہونے کے بعد ’’نو ماہ کے وقفےسے ‘‘ جنگ کا راستہ اختیار کر سکے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں انجمن کے دوسرے تمام رکن ممالک جارح ملک سے اقتصادی اور مالی روابط قطع کر لینے کے پابند تھے۔لیگ آف نیشن کو انتظامی اختیارات حاصل نہ تھے۔ اور نہ وہ رکن ممالک کی حکمت عملیوں کی تدوین و ترتیب میں کوئی عمل دخل رکھتی تھی۔ البتہ بین الاقوامی تنازعات کے سلسلے میں بیچ بچاؤ کرانے ، رکن ممالک کو جنگ سے محفوظ رکھنے اور امداد باہمی کی بنیاد پر دفاع کا انتظام کرنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ مزدوروں کے حالات ، صحت عامہ ، مواصلات ، اقتصادی اور مالی امور ، اسلحے اور عورتوں اور بچوں کی ناجائز خرید فروخت ایسے معاملات میں اسے عمل دخل حاصل تھا۔ یعنی جنگ کے سدباب کے ساتھ ساتھ انجمن اقوام عالم نے عالمی سطح پر اقتصادی اور معاشرتی امور کی دیکھ بھال کی ذمے داری بھی سنبھال رکھی تھی۔ انجمن نے اپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے کئی شعبے قائم کر رکھے تھے ۔ ان میں سے ایک اسمبلی تھی ، دوسری کونسل ، تیسرا سیکٹریریٹ ، چوتھا بین الاقوامی دفتر محنت اور پانچواں بین الاقوامی عدالت انصاف تھی۔ کونسل کو ابتدا میں متحارب ملکوں میں مفاہمت کرانے میں کامیابی ہوئی ۔ مثلاً 1921ء میں جب یوگوسلاویہ نے البانیہ اور 1925ء میں بلغاریہ نے یونان پر حملہ کیا تو کونسل نے ہی بچ بچاؤ کرایا۔ اسی طرح جب سویڈن اور فن لینڈ کے درمیان جزیرہ ہالینڈ کے بارے میں اور ترکی اور عراق میں سرحدی تنازعہ پیدا ہوا تو کونسل کی کوششوں ہی سے مفاہمت ہوئی۔لیکن یہ صورت تادیر قائم نہ رہ سکی۔ جب بڑی طاقتوں کی مفاد پرستی بروئے کار آئی تو انجمن کے مقاصد کوشکست ہونے لگی۔ انجمن کو اپنے فیصلوں کے نفاذ کا عملاً کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ یہی خامی اس کی تباہی کا موجب بن گئی۔ انجمن دلینا پر قبضے کے تنازعے میں پولینڈ اور لیتھونیا میں تصفیہ نہ کرا سکی۔ اسی طرح اٹلی اور یونان کے تنازعے کا بھی کوئی حل نہ نکل سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بلند آہنگ مقاصد جن کے حصول پر بابندی عائد کرنے سے متعلق کانفرنس کی ناکامی اور اسی برس حبشہ پر اٹلی کا حملہ بھی دراصل انجمن کی بے اثری کا نتیجہ تھا۔ پیراگوئے اور بولیویا کے درمیان گرانچاکو کے مسئلے پر نگ چھڑی تو جب بھی انجمن صلح صفائی نہ کراسکی۔ جاپان نے منچوریا پر قبضہ کر لیا تو اس وقت بھی انجمن خاموش تماشائی بنی رہی۔ جرمنی نے آسٹریا اور چیکوسلواکیہ پر قبضہ کیا تو اس وقت بھی انجمن خاموش رہی ، لیکن جب روس نے فن لینڈ پر حملہ کیا تو انجمن نے اسمبلی کا اجلاس 11 دسمبر 1939ء کو بلایا۔ جس میں روس کی مذمت کی گئی اور اسے رکنیت سے بھی خارج کردیا گیا۔ یہ انجمن کی آخری کارروائی تھی۔ اس کا آخری اجلاس 18 اپریل 1946ء کو ہوا اور اس کے ساتھ ہی اس کا خاتمہ ہوگیا۔
ولادت :
۔""""""
872ء محمد بن ترخان ابو نصر بمعروف ابو نصر فارابی ، بخارا میں رہائش پذیر ایرانی فلسفی، طبیعیات دان، موسیقی کا نظریہ ساز (وفات : 951ء)
1916ء سیون برگ سٹورم ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1982ء) یافتہ سوئیڈش حیاتی کیمیا دان، کیمیادان (وفات : 2004ء)
1936ء رابرٹ وڈرو ولسن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1978ء) یافتہ امریکی ماہر فلکیات، طبیعیات دان ۔ یہ انعام انھیں ان کے ہم وطن سائنس دان ارنو الن پنزاس اور سویت روس کے نیول فرانسس موٹ کے ہمراہ کوزمک مائیکرو ویو بیک گراونڈ ریڈیشن کی دریافت پر دیا گیا جبکہ روسی سائندان کو الگ کام پر یہ انعام ملا۔
1950ء اخلاق احمد ، پاکستانی گلوکار (وفات : 1994ء)
1961ء جینٹ جونز ، امریکی فلمی اداکارہ
1967ء ترینی الوارادو ، امریکی فلمی اداکارہ
1976ء سسی پلیجو ، سندھ سے تعلق رکھنے والی سیستدان ، 12 مارچ 2015ء سے رکن ایوانِ بالا پاکستان
1980ء سارہ شاہی ، امریکی فلمی اداکارہ
1984ء مروان شماخ ، مراکش کا فوٹ بالر
1984ء کلکی کوچھیلن ، فرانسیسی نژاد بھارتی اداکارہ اور ماڈل
1985ء درِشٹی دھامی ، بھارتی فلمی اداکارہ
1989ء على جبر جبر مسعد ، مصری پیشہ ور ایسوسی ایشن فٹ بال کھلاڑی
1916ء – سیون برگ سٹورم، ( نوبل انعام برائے فعلیات و طب
1936ء – رابرٹ وڈرو ولسن، نوبل انعام برائے طبیعیات
1949 ء – لنڈا ۔امرہکی اداکارہ
1974ء – ریتیک روشن، ایک بھارتی اداکار ہیں جو بالی ووڈ میں کام کر رہے ہیں۔ سن 1980 میں ریتیك روشن نے ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلموں میں آئے اور پھر سن 2000ء میں بطور ہیرو فلم کہو نا پیار ہےمیں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم کو بڑی کامیابی ملی، ریتیک روشن کی بہترین اداکاری کے لئے ان کو بہترین اداکار اور بہترین نیا اداکار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ کوئی مل گیا (2003)، كرش (2006) اور دھوم 2(2006) جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے لئے مشہور رہے ہیں ۔ ان فلموں کے لئے وہ چار مرتبہ بہترین اداکار کافلم فیئر ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ کزان میں ان گولڈن ممبر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنا پہلا بین الاقوامی ایوارڈ اور جودھا اکبر فلم میں اداکاری کے لئے ان کو روس میں اعزاز حاصل ہوا۔ اس طرح ہندوستان میں روشن نے خود کو ایک اہم اداکار کے طور پر قائم کیا ہے ۔
وفات
1390ء مسعود بن عمر بن عبد الله تفتازانى بمعروف سعد الدین تفتازانی ، سمر قند تیموری سلطنت سے تعلق رکھنے والے الٰہیات دان، ادیب، فلسفی، فقیہ، ریاضی دان ، علم بیان میں عربی لغت اور منطق کے امام تصور کیے جاتے ہیں فقیہ اور اصولی تھے اس کے علاوہ آپ مفسر متکلم محدث اور ادیب بھی تھے بعض کے نزدیک حنفی تھے اور خیال یہ ہے کہ شافعی تھے ۔ انکی پیدائش تفتازان جو بلاد خراسان میں سے ہے جبکہ اقامت سرخس میں رہی انہیں تيمورلنگ نے سمرقند،روانہ کر دیا وہاں پر وفات ہوئی اور سرخس میں دفن ہوئے ان کی زبان مین لکنت تھی (پیدائش: 1322ء)
1692ء جاب چارنوک، کلکتہ شہر کے بانی
1778ء کارل لینیس ، سویڈن کا ارضیات دان، پروفیسر، ماہر نباتیات، ماہر حیاتیات، ماہر حیوانیات، طبیب، آپ بیتی نگار ۔ اس نے جانداروں کے نام دینے کا مخصوص طریقہ بنایا۔ اس میں نام کا پہلا حصہ جنس کو اور دوسرا حصہ نوع کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نے 4378 مختلف پودوں اور جانوروں کی انواع کی گروہ بندی کی۔ (پیدائش: 1707ء)
1957ء گبریلا مسٹرال ، نوبل انعام برائے ادب (1945ء) یافتہ طلی سے تعلق رکھنے والے شاعرہ، سفارت کار، معلم، مصنفہ ، لاطینی امریک کی پہلی ادیبہ تھی جنھیں نوبل ادب انعام ملا۔ (پیدائش: 1889ء)
1988ء جمیلہ ہاشمی پاکستانی ناول نگار
2012ء سید شاہ مردان شاہ ثانی المعروف سید سکندرعلی شاہ سید شاہ مردان شاہ ثانی ، پیر پاگارا ہفتمحُر قبیلہ کے روحانی پیشوا ، کرکٹ کھلاڑی و سیاست دان (پیدائش: 1928ء)
2016ء ڈیوڈ رابرٹ جونز بمعروف ڈیوڈ بوئی ، گلوکار، نغمہ نگار اور اداکار (پیدائش: 1947ء)
2017ء اولیور سمیتھز، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (2007ء) یافتہ برطانیہ میں پیدا ہونے والے ایک امریکی جینیات دان ، ماہر حیاتیات، حیاتی کیمیا دان، طبیب، استاد جامعہ (پیدائش: 1925ء)
2017ء رومن پرزوگ ، جرمن سرِ قانون، سیاست دان، استاد جامعہ، منصف ، ان کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک اتحاد ہے۔ (16 نومبر 1987ء تا 30 جون 1994ء) جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت کے چھٹے صدر اور (یکم جولائی 1994ء تا 30 جون 1999ء) صدر جرمنی ، وہ وفاقی جمہورئہ جرمنی کے پہلے صدر تھے اور جنگ عظیم دوم کے بعد دوسرے صدرمملکت تھے جنہوں نے پورے جرمنی کی صدارت کی۔(پیدائش: 1934ء)
10 جنوری 1973ء کو اردو کے ممتاز شاعر جناب حفیظ ہوشیار پوری دنیا سے رخصت ہوئے۔ حفیظ ہوشیار پوری کا اصل نام شیخ عبدالحفیظ سلیم تھا۔ وہ 5 جنوری 1912ء کو دیوان پورا ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے تھے مگر اپنے آبائی وطن ہوشیار پور کی نسبت سے ہوشیارپوری کہلائے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے اور پھر تمام عمر اسی ادارے میں جس کا پاکستانی حصہ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کہلانے لگا تھا‘ گزار دی۔ حفیظ ہوشیار پوری نے ابتدا میں نظمیں بھی لکھیں اور منظوم تراجم بھی کیے مگر ان کی شناخت ان کی غزل گوئی اور ان کی تاریخ گوئی بنی۔ انہوں نے لیاقت علی خان کی شہادت کی تاریخ علامہ اقبال کے مشہور مصرعے ’’صلۂ شہید کیا ہے تب و تاب جاودانہ‘‘ اور ریڈیو پاکستان کے قیام کی تاریخ (تعمیہ کے ساتھ) ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ سے نکالی جو اس فن پر ان کے کمال دسترس کی آئینہ دار ہیں۔ حفیظ ہوشیار پوری کا مجموعہ کلام ’’مقام غزل‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ 10 جنوری 1973ء کو وہ طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا 10 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 355 دن باقی ہیں ۔
1616ء انگریروں کے سفیر سر تھامس رو مغل حکمراں جہانگیر کے اجمیر میں واقع دربار میں آئے۔
1816ء مراٹھوں اور انگریزوں کے درمیان تیسری اور آخری لڑائی رام پورہ میں ہوئی۔ اس کے بعد مراٹھوں کی طاقت بکھر گئی۔
1836ء پروفیسر مدھوسدن گپتا اور ان کے چار طلباء راج کرشن ڈے، اوما چرن سیٹھ، دوارکا ناتھ اور نوین چندر مترا نے پہلی بار پوسٹ مارٹم کیا۔
1878ء امریکی سینٹ نے خواتین کے حقوق کی تجویز پیش کی۔
1912ء کنگ جارج پنجم اور کوین میری ہندوستان سے روانہ ہوئے
1966ء - پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے تاشقند میں امن معاہدے پر دستخط کیے۔23 ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ بندی کے بعد 10 جنوری 1966ء کو پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جو ’’معاہدہ تاشقند‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدے کے لیے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان 3 جنوری 1966ء کو اپنے سولہ رکنی وفد کے ہمراہ روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے ان کے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو‘ وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے۔ پاکستان اور بھارت کے یہ تاریخی مذاکرات جن میں سوویت یونین نے ثالث کے فرائض انجام دیے‘ 7 دن تک جاری رہے۔ اس دوران کئی مرتبہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے کیونکہ بھارت کے وزیر اعظم شاستری نے ان مذاکرات میں کشمیر کا ذکر شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ طے شدہ تھا اور یہ مذاکرات صرف ان مسائل کو حل کرنے کےلولیس، ورہے تھے جو حالیہ جنگ سے پیدا ہوئے تھے۔ پاکستانی وفد کا خیال تھا کہ ایسے حالات میں یہ مذاکرات بے مقصد ہوں گے اور پاکستانی وفد کو کوئی معاہدہ کیے بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے۔ مگر مذاکرات کے آخری ایام میں سوویت وزیر اعظم کوسیجین نے صدر ایوب خان سے مسلسل کئی ملاقاتیں کیں اور انہیں بھارت کے ساتھ کسی نہ کسی سمجھوتہ پر پہنچنے پر رضامند کرلیا۔ یوں 10 جنوری 1966ء کو صدر ایوب خان اور وزیر اعظم شاستری نے معاہدہ تاشقند پر اپنے دستخط ثبت کردیے۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج اگلے ڈیڑھ ماہ میں 5 اگست 1965ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلی جائیں گی اور دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور پر پابند رہتے ہوئے باہمی مذاکرات کی بنیاد پر حل کریں گے۔ معاہدہ تاشقند پر دستخط صدر ایوب خان کی سیاسی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ ثابت ہوئے۔ یہی وہ معاہدہ تھا جس کی بنا پر پاکستانی عوام میں ان کے خلاف غم و غصہ کی لہر پیدا ہوئی اور بالآخر ایوب خان کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ پاکستانی عوام کا آج تک یہی خیال ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو تاشقند کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے دفن کردیا اور وہ جنگ‘ جو خود حکومتی دعوئوں کے مطابق میدان میں جیتی جاچکی تھی‘ معاہدے کی میز پر ہار دی گئی۔
10 جنوری 1991 کو ضمنی انتخاب کے موقع پر جھنگ میں بم دھماکہ ہوا جس میں سپاہ صحابہ پاکستان کے نائب امیر مولانا ایثار القاسمی شہید ہوئے۔
10 جنوری 2008ء کو جنوبی فرانس میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ مہم جو خاتون نمیرہ سلیم نے قطب جنوبی پر قدم رکھا اور وہاں پہلی مرتبہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ پرچم انہیں 24 دسمبر 2007ء کو پاکستان کے نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو نے دیا تھا۔ نمیرہ سلیم اس سے قبل 21 اپریل 2007ء کو قطب شمالی میں بھی پاکستان کا پرچم لہرا چکی تھیں۔ وہ پرچم انہیں 29 جنوری 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف نے عطا کیا تھا۔ نمیرہ سلیم پہلی پاکستانی خاتون تھیں جنہیں قطبین پر پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ وہ ایک اچھی شاعرہ بھی ہیں
2008 - لاہور، پاکستان میں خودکش حملہ، 22 افراد جاں بحق
۔2003ء۔ شمالی کوریا نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کئے
1992ء لاہور اسلام آباد موٹر وے کی تعمیر کا آغاز ہوا
1989ءکیوبن فورسز کا انگولا سے انخلا
1955ء پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد نے اورینٹ ایئرویز کو پی آئی اے میں مدغم کرنے کا آرڈینس جاری کیا ۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کو ایک چھوٹی سی فضائی کمپنی ورثے میں ملی تھی جس کا نام اورینٹ ائیر ویز تھا۔ اس فضائی کمپنی کے صدر دفاتر کلکتہ میں تھے جو قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل کردیئے گئے تھے۔ پاکستان کے قیام کے ابتدائی چھ سات برس تک یہی ائیر لائن ملک میں فضائی آمدورفت کا نظام سنبھالے رہی۔ مگر کم وسائل ہونے کے باعث یہ ایرلائن اپنا دائرہ زیادہ وسیع نہ کرسکی۔ 1954ء میں پاکستان میں ایک قومی ائیر لائن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور 10 جنوری 1955ء کو پاکستان کے وزیر مملکت برائے دفاع سردار امیراعظم خان نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کی ایک نیم سرکاری بین الاقوامی فضائی کارپوریشن کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارپوریشن 5 کروڑ روپے کے منظور شدہ سرمایہ سے قائم ہوگی اور اورینٹ ائیر ویز کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔ اسی دن گورنر جنرل غلام محمد نے اورینٹ ائیر ویز کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں ضم کرنے کے لئے ایک آرڈی ننس بھی جاری کیا۔ یوں 10 جنوری 1955ء کو پاکستان کی قومی ایئر لائن کا قیام عمل میں آگیا۔
1946ءامریکی افواج نے چاند سے رابطہ رکھنے والا پہلا ریڈار تشکیل دیا
10جنوری 1960ء کو پاکستان بھر میں سرکاری طور پرپہلی مرتبہ یو م افواج پاکستان منایا گیا۔
1946ء لندن میں اقوام متحدہ کی پہلی جنرل اسمبلی کا قیام ہوا ۔
10 جنوری 1980ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پی آئی اے کے قیام کی پچیسویں ویں سالگرہ کے موقع پر ایک روپے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر پی آئی اے کے دو طیاروں کی تصویریں بنی تھیں اور 25 Yers of Service کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔
10جنوری 1982ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تپ دق کے جراثیم کی دریافت کے سو سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت ایک روپیہ تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ٹی بی کے ایکس رے کی تصویر بنی تھی اور HELP FIGHT THE OLD ENEMY TB اور Centenary of the discovery of the tubercle bacillus 1982 کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر اخلاق احمدنے ڈیزائن کیا تھا
1920ء لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا۔پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو اس کے فوراً بعد انگلستان ،فرانس ، جرمنی ، ڈنمارک ناروے ، اور سویڈن میں ایسی انجمنیں معرض وجود میں آئیں جن کا مقصد جنگ کی روک تھام کرنا اور لوگوں کو امن کی اہمیت کا احساس دلانا تھا۔ ساتھ ہی ایک ایسی عالمی تنظیم کے قیام کی تحریک کا شروع ہوئی جو بقائے امن کے لیے مربوط کوشش کر سکے۔ چنانچہ ورسائی کے معاہدہ امن کی بنیاد پر 10 جنوری 1920ء کو ’’جمعیت الاقوام‘‘ قائم ہوئی۔ ابتداء میں اس ادارے میں 28 اتحادی اور 14 غیر جانبدار ممالک شامل ہوئے۔ بعد میں ارکان کی تعداد 60 تک پہنچ گئی۔ 1935ء میں جاپان اور جرمنی اس انجمن سے نکل گئے ۔ 1937ء میں اٹلی نے بھی اس سے قطع تعلق کر لیا ۔روس اور افغانستان 1934ء میں اس کے رکن بنے۔جمعیت الاقوام میں ہر وہ خود مختار ملک اور مقبوضہ علاقہ شامل ہوسکتا تھا جو بین الاقوامی ذمہ داری قبول کرنے اور فوجی امور و معاملات میں انجمن کے فیصلوں کی پابندی کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ انجمن اقوام کا مقصد دنیا بھر کے ملکوں میں انصاف اور احترام کوفروغ دینا اور اس طرح آئندہ جنگوں کا سدباب کرنا تھا۔ انجمن کا صدر مقام جینوا میں تھا۔ اس کی دو سرکاری زبانیں تھیں۔ انگریزی اور فرانسیسی ۔ منشور کے مطابق ہر رکن ملک حلف لیتا تھا کہ وہ کسی دوسرے رکن ملک سے تنازع کی صورت میں پر امن ذ رائع سے مفاہمت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اور مصالحت اور مفاہمت کے تمام امکانات مسدود ہونے کے بعد ’’نو ماہ کے وقفےسے ‘‘ جنگ کا راستہ اختیار کر سکے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں انجمن کے دوسرے تمام رکن ممالک جارح ملک سے اقتصادی اور مالی روابط قطع کر لینے کے پابند تھے۔لیگ آف نیشن کو انتظامی اختیارات حاصل نہ تھے۔ اور نہ وہ رکن ممالک کی حکمت عملیوں کی تدوین و ترتیب میں کوئی عمل دخل رکھتی تھی۔ البتہ بین الاقوامی تنازعات کے سلسلے میں بیچ بچاؤ کرانے ، رکن ممالک کو جنگ سے محفوظ رکھنے اور امداد باہمی کی بنیاد پر دفاع کا انتظام کرنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ مزدوروں کے حالات ، صحت عامہ ، مواصلات ، اقتصادی اور مالی امور ، اسلحے اور عورتوں اور بچوں کی ناجائز خرید فروخت ایسے معاملات میں اسے عمل دخل حاصل تھا۔ یعنی جنگ کے سدباب کے ساتھ ساتھ انجمن اقوام عالم نے عالمی سطح پر اقتصادی اور معاشرتی امور کی دیکھ بھال کی ذمے داری بھی سنبھال رکھی تھی۔ انجمن نے اپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے کئی شعبے قائم کر رکھے تھے ۔ ان میں سے ایک اسمبلی تھی ، دوسری کونسل ، تیسرا سیکٹریریٹ ، چوتھا بین الاقوامی دفتر محنت اور پانچواں بین الاقوامی عدالت انصاف تھی۔ کونسل کو ابتدا میں متحارب ملکوں میں مفاہمت کرانے میں کامیابی ہوئی ۔ مثلاً 1921ء میں جب یوگوسلاویہ نے البانیہ اور 1925ء میں بلغاریہ نے یونان پر حملہ کیا تو کونسل نے ہی بچ بچاؤ کرایا۔ اسی طرح جب سویڈن اور فن لینڈ کے درمیان جزیرہ ہالینڈ کے بارے میں اور ترکی اور عراق میں سرحدی تنازعہ پیدا ہوا تو کونسل کی کوششوں ہی سے مفاہمت ہوئی۔لیکن یہ صورت تادیر قائم نہ رہ سکی۔ جب بڑی طاقتوں کی مفاد پرستی بروئے کار آئی تو انجمن کے مقاصد کوشکست ہونے لگی۔ انجمن کو اپنے فیصلوں کے نفاذ کا عملاً کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ یہی خامی اس کی تباہی کا موجب بن گئی۔ انجمن دلینا پر قبضے کے تنازعے میں پولینڈ اور لیتھونیا میں تصفیہ نہ کرا سکی۔ اسی طرح اٹلی اور یونان کے تنازعے کا بھی کوئی حل نہ نکل سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بلند آہنگ مقاصد جن کے حصول پر بابندی عائد کرنے سے متعلق کانفرنس کی ناکامی اور اسی برس حبشہ پر اٹلی کا حملہ بھی دراصل انجمن کی بے اثری کا نتیجہ تھا۔ پیراگوئے اور بولیویا کے درمیان گرانچاکو کے مسئلے پر نگ چھڑی تو جب بھی انجمن صلح صفائی نہ کراسکی۔ جاپان نے منچوریا پر قبضہ کر لیا تو اس وقت بھی انجمن خاموش تماشائی بنی رہی۔ جرمنی نے آسٹریا اور چیکوسلواکیہ پر قبضہ کیا تو اس وقت بھی انجمن خاموش رہی ، لیکن جب روس نے فن لینڈ پر حملہ کیا تو انجمن نے اسمبلی کا اجلاس 11 دسمبر 1939ء کو بلایا۔ جس میں روس کی مذمت کی گئی اور اسے رکنیت سے بھی خارج کردیا گیا۔ یہ انجمن کی آخری کارروائی تھی۔ اس کا آخری اجلاس 18 اپریل 1946ء کو ہوا اور اس کے ساتھ ہی اس کا خاتمہ ہوگیا۔
ولادت :
۔""""""
872ء محمد بن ترخان ابو نصر بمعروف ابو نصر فارابی ، بخارا میں رہائش پذیر ایرانی فلسفی، طبیعیات دان، موسیقی کا نظریہ ساز (وفات : 951ء)
1916ء سیون برگ سٹورم ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1982ء) یافتہ سوئیڈش حیاتی کیمیا دان، کیمیادان (وفات : 2004ء)
1936ء رابرٹ وڈرو ولسن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1978ء) یافتہ امریکی ماہر فلکیات، طبیعیات دان ۔ یہ انعام انھیں ان کے ہم وطن سائنس دان ارنو الن پنزاس اور سویت روس کے نیول فرانسس موٹ کے ہمراہ کوزمک مائیکرو ویو بیک گراونڈ ریڈیشن کی دریافت پر دیا گیا جبکہ روسی سائندان کو الگ کام پر یہ انعام ملا۔
1950ء اخلاق احمد ، پاکستانی گلوکار (وفات : 1994ء)
1961ء جینٹ جونز ، امریکی فلمی اداکارہ
1967ء ترینی الوارادو ، امریکی فلمی اداکارہ
1976ء سسی پلیجو ، سندھ سے تعلق رکھنے والی سیستدان ، 12 مارچ 2015ء سے رکن ایوانِ بالا پاکستان
1980ء سارہ شاہی ، امریکی فلمی اداکارہ
1984ء مروان شماخ ، مراکش کا فوٹ بالر
1984ء کلکی کوچھیلن ، فرانسیسی نژاد بھارتی اداکارہ اور ماڈل
1985ء درِشٹی دھامی ، بھارتی فلمی اداکارہ
1989ء على جبر جبر مسعد ، مصری پیشہ ور ایسوسی ایشن فٹ بال کھلاڑی
1916ء – سیون برگ سٹورم، ( نوبل انعام برائے فعلیات و طب
1936ء – رابرٹ وڈرو ولسن، نوبل انعام برائے طبیعیات
1949 ء – لنڈا ۔امرہکی اداکارہ
1974ء – ریتیک روشن، ایک بھارتی اداکار ہیں جو بالی ووڈ میں کام کر رہے ہیں۔ سن 1980 میں ریتیك روشن نے ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلموں میں آئے اور پھر سن 2000ء میں بطور ہیرو فلم کہو نا پیار ہےمیں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم کو بڑی کامیابی ملی، ریتیک روشن کی بہترین اداکاری کے لئے ان کو بہترین اداکار اور بہترین نیا اداکار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ کوئی مل گیا (2003)، كرش (2006) اور دھوم 2(2006) جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے لئے مشہور رہے ہیں ۔ ان فلموں کے لئے وہ چار مرتبہ بہترین اداکار کافلم فیئر ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ کزان میں ان گولڈن ممبر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنا پہلا بین الاقوامی ایوارڈ اور جودھا اکبر فلم میں اداکاری کے لئے ان کو روس میں اعزاز حاصل ہوا۔ اس طرح ہندوستان میں روشن نے خود کو ایک اہم اداکار کے طور پر قائم کیا ہے ۔
وفات
1390ء مسعود بن عمر بن عبد الله تفتازانى بمعروف سعد الدین تفتازانی ، سمر قند تیموری سلطنت سے تعلق رکھنے والے الٰہیات دان، ادیب، فلسفی، فقیہ، ریاضی دان ، علم بیان میں عربی لغت اور منطق کے امام تصور کیے جاتے ہیں فقیہ اور اصولی تھے اس کے علاوہ آپ مفسر متکلم محدث اور ادیب بھی تھے بعض کے نزدیک حنفی تھے اور خیال یہ ہے کہ شافعی تھے ۔ انکی پیدائش تفتازان جو بلاد خراسان میں سے ہے جبکہ اقامت سرخس میں رہی انہیں تيمورلنگ نے سمرقند،روانہ کر دیا وہاں پر وفات ہوئی اور سرخس میں دفن ہوئے ان کی زبان مین لکنت تھی (پیدائش: 1322ء)
1692ء جاب چارنوک، کلکتہ شہر کے بانی
1778ء کارل لینیس ، سویڈن کا ارضیات دان، پروفیسر، ماہر نباتیات، ماہر حیاتیات، ماہر حیوانیات، طبیب، آپ بیتی نگار ۔ اس نے جانداروں کے نام دینے کا مخصوص طریقہ بنایا۔ اس میں نام کا پہلا حصہ جنس کو اور دوسرا حصہ نوع کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نے 4378 مختلف پودوں اور جانوروں کی انواع کی گروہ بندی کی۔ (پیدائش: 1707ء)
1957ء گبریلا مسٹرال ، نوبل انعام برائے ادب (1945ء) یافتہ طلی سے تعلق رکھنے والے شاعرہ، سفارت کار، معلم، مصنفہ ، لاطینی امریک کی پہلی ادیبہ تھی جنھیں نوبل ادب انعام ملا۔ (پیدائش: 1889ء)
1988ء جمیلہ ہاشمی پاکستانی ناول نگار
2012ء سید شاہ مردان شاہ ثانی المعروف سید سکندرعلی شاہ سید شاہ مردان شاہ ثانی ، پیر پاگارا ہفتمحُر قبیلہ کے روحانی پیشوا ، کرکٹ کھلاڑی و سیاست دان (پیدائش: 1928ء)
2016ء ڈیوڈ رابرٹ جونز بمعروف ڈیوڈ بوئی ، گلوکار، نغمہ نگار اور اداکار (پیدائش: 1947ء)
2017ء اولیور سمیتھز، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (2007ء) یافتہ برطانیہ میں پیدا ہونے والے ایک امریکی جینیات دان ، ماہر حیاتیات، حیاتی کیمیا دان، طبیب، استاد جامعہ (پیدائش: 1925ء)
2017ء رومن پرزوگ ، جرمن سرِ قانون، سیاست دان، استاد جامعہ، منصف ، ان کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک اتحاد ہے۔ (16 نومبر 1987ء تا 30 جون 1994ء) جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت کے چھٹے صدر اور (یکم جولائی 1994ء تا 30 جون 1999ء) صدر جرمنی ، وہ وفاقی جمہورئہ جرمنی کے پہلے صدر تھے اور جنگ عظیم دوم کے بعد دوسرے صدرمملکت تھے جنہوں نے پورے جرمنی کی صدارت کی۔(پیدائش: 1934ء)
10 جنوری 1973ء کو اردو کے ممتاز شاعر جناب حفیظ ہوشیار پوری دنیا سے رخصت ہوئے۔ حفیظ ہوشیار پوری کا اصل نام شیخ عبدالحفیظ سلیم تھا۔ وہ 5 جنوری 1912ء کو دیوان پورا ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے تھے مگر اپنے آبائی وطن ہوشیار پور کی نسبت سے ہوشیارپوری کہلائے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے اور پھر تمام عمر اسی ادارے میں جس کا پاکستانی حصہ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کہلانے لگا تھا‘ گزار دی۔ حفیظ ہوشیار پوری نے ابتدا میں نظمیں بھی لکھیں اور منظوم تراجم بھی کیے مگر ان کی شناخت ان کی غزل گوئی اور ان کی تاریخ گوئی بنی۔ انہوں نے لیاقت علی خان کی شہادت کی تاریخ علامہ اقبال کے مشہور مصرعے ’’صلۂ شہید کیا ہے تب و تاب جاودانہ‘‘ اور ریڈیو پاکستان کے قیام کی تاریخ (تعمیہ کے ساتھ) ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ سے نکالی جو اس فن پر ان کے کمال دسترس کی آئینہ دار ہیں۔ حفیظ ہوشیار پوری کا مجموعہ کلام ’’مقام غزل‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ 10 جنوری 1973ء کو وہ طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

No comments:
Post a Comment