11 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا 11واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 354 دن باقی ہیں ۔
1613ء مغل شہنشاہ جہانگیر نے انگریزوں کو سورت میں فیکٹریاں بنانے کیلئے فرمان جاری کیا۔
1759ء امریکہ کے شہر فلیڈیلفیا میں پہلی لائف انشورنس کمپنی قائم کی گئی۔
1879ء جنوبی افریقہ میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف زولو جدوجہد کا آغاز ہوا۔
1897ء ایم ایچ کانن، امریکی سینٹ کی پہلی خاتون رکن نامزدگی ہوئیں۔
1920ء فرانسیسی مسافروں کو لے کر جا رہا ایک جہاز افری لا روچلے کے قریب سمندر میں ڈوب گیا۔ جس میں 513 افراد کی موت ہو گئی۔
1922ء کناڈا میں ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ایک نوجوان کا پہلی بار انسولین سے کامیاب علاج کیا گیا۔
1935ء امریکی خاتون پائلٹ امیلا ایرہارٹ نے ہوائی سے کیلیفورنیا کا سفر طے کیا اس سفر کی طوالت امریکہ سے یورپتک کے فاصلے کے برابر ہے۔
1942ء جاپان نے نیدرلینڈز کے خلاف اعلان جنگ کیا۔
1942ء جاپان نے کوالالمپور پر قبضہ کیا۔
1946ء آل انڈیا مسلم لیگ نے 1945 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد یومِ فتح منایا۔
1946ء البانیہ میں شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد جمہوریت کا قیام عمل میں آیا۔
1955ء ملک میں نیوز پرنٹ ’اخباری کاغذ‘ کے پہلے کارخانے میں کاغذ کی تیاری شروع ہوئی۔
1959ء حنیف محمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ریکار ڈ چار سو ننانوے رنز بنائے۔
1960ء چاڈ نے فرانس سے آزادی کا اعلان کیا۔
1964ء پاناما نے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے۔
1972ء مشرقی پاکستان آزاد ملک بنگلہ دیش کی حیثیت سے سامنے آیا۔
1976ء ایکواڈور میں فوج نے صدر گوئی لیرگو روڈریگیز لارا کا تختہ الٹ دیا۔
1994ء آئرلینڈ کی حکومت نے گوریلا تنظیم آئرش ریپبلکن آرمی اور اس کی سیاسی شاخ سن فین پر 20 برس سے عائد پابندی ختم کی۔
1981ء پلاوو میں آئین کا نفاذ ہوا۔
1982ء ہونڈراس میں آئین کا نفاذ ہوا۔
1986ء ممبئی میں بحریہ نے 250 ویں سالگرہ منائی۔
1986ء لائسنس کے تحت ہندوستانی ایروناٹکس لمیٹیڈ میں تیار پہلے مگ 27 طیارہ فضائیہ کو سونپا گیا۔
1989ء 140 ممالک نیوکلیائی ہتھیاروں پر پابندی لگانے پر رضامند ہوئے۔
1993ء ممبئی اور احمد آباد میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکے جس سے ضمنی چناوَ ملتوی ہو گیا
2008ء جنوبی افریقی آل راؤنڈر شان پولاک نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
2008ء سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹیڈ نے حبیب بینک لمیٹیڈ کو فائنل میں شکست دے کر 50ویں قائد اعظم ٹرافی جیت لی۔
11جنوری 2010ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے گوادر میں ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر آٹھ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیر خزانہ شوکت ترین کی تصویر شائع کی گئی تھی اور انگریزی میں 7TH NATIONAL FINANCE COMMISSION AWARD 2009 GWADAR کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔
2017ء۔۔گورنر سندھ سعید الزماں صدیقی کے انتقال کی وجہ سے آغا سراج درانی قائم مقام گورنر سندھ بنے۔جسٹس سعید الزمان صدیقی 9 نومبر 2016 سے 11 جنوری 2017 تک گورنر سندھ رہے۔
ولادت :
۔""""""
1174ء ضیاء الدین المقدسی ، فقہ حنبلی کے عالم اور محدث تھےجو دمشق کے رہنے والے تھے ، (وفات: 1245ء)
1812ء بریگیڈیئر جنرل جان جیکب ، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک افسر تھا۔ اسی نے جیکب آباد کی بنیاد رکھی تھی۔ (وفات: 1858ء)
1859ء جارج نیتھنیل کرزن بمعروف لارڈ کرزن ، برطانوی مہم جو، سیاست دان، سفارت کار ، (6 جنوری 1899ء تا 18 نومبر 1905ء) 35واں وائسرائے اور گورنر جنرل ہند ، (23 اکتوبر 1919ء تا 22 جنوری 1924ء) سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ امور ، (3 نومبر 1924ء تا 20 مارچ 1925ء) قائد ایوان ہاوس آف لارڈز (وفات: 1925ء)
1917ء خان عبد الولی خان ، پاکستانی سیاستدان ، عبدالغفار خان بمعروف باچا خان کے بیٹے ، (2 دسمبر 1988ء تا 6 اگست 1990ء) قائد حزب اختلاف ایوانِ زیریں پاکستان (وفات: 2006ء)
1924ء روگر گولیمنن ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1977ء) یافتہ فرانسیسی نژاد امریکی طبیب، حیاتی کیمیا دان، استاد جامعہ
1946ء انجو ماہیندرو ، بھارتی فلمی اداکارہ
1949ء اینا سفوروا ، روسی مستشرق ، تنقید نگار و استاد جامعہ ۔ یہ دو زبانیں روسی اور اردو جانتی ہیں۔ پاکستانی ادب اور ثقافتی ورثہ کی تحقیق میں ان کی خدمات پر انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز ستارۂ امتیاز دیا گیا ہے۔
1951ء مبشر جاوید اکبر بمعروف ایم جے اکبر ، بھارتی صحافی، مصنف، سیاست دان، بلاگ نویس ، 6 جولائی 2016ء سے وزارت خارجی امور، حکومت ہند
1954ء کیلاش ستیارتھی ، نوبل امن انعام (2014ء) یافتہ بھارتی فعالیت پسند، انجینئر ، حقوق اطفال کے بھارتی کارکن ، یہ انعام پاکستانی ملالہ یوسف زئی اور کیلاش دونوں کو مشترکہ طور پر دیا گيا۔
1964ء یولندا حدید ، ڈچ-امریکی ٹیلی ویژن شخصیت اور سابقہ ماڈل
1969ء ایڈن ایٹوڈ ، امریکی فلمی اداکارہ
1970ء فردوس عاشق اعوان ، پاکستانی سیاست دان خاتون ہیں۔ دہقانی لہجے میں بے تکان گفتگو کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ این اے-111، سیالکوٹ سے رُکن بارہویں قومی اسمبلی (9 فروری 2011ء تا 18 اپریل 2012ء) وزیر اطلاعات و نشریات پاکستان
1972ء سَن٘دالی سِنہا ، بھارتی فلمی اداکارہ اور ماڈل
1972ء امینڈا پیٹ، امریکی اداکارہ
1973ء راہول ڈریوڈ ، بھارتی کرکٹ کھلاڑی
1981ء کرن راٹھوڑ ، بھارتی فلمی اداکارہ
1985ء متھن شرما ، بھارتی موسیقار، گلوکار اور نغمہ نگار
1992ء فاطمہ ثنا شیخ ، بھارتی اداکارہ
1998ء حسن محسن ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی
889ء۔۔عبدالرحمن الناصر (912ء تا 961ء) اندلس میں خلافت امویہ کا سب سے مشہور حکمران تھا جو عبدالرحمن الثالث اور عبدالرحمن اعظم کے ناموں سے بھی معروف ہے۔۔
1944ء۔شیبو سورین۔ہندوستانی سیاستدان۔جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے صدر ۔سورین کی پیدائش 11 جنوری 1944کو ہزاری باغ ضلع میں ہوئی۔انہوں نے ستّر کی دہائی میں اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ سن 1975 میں مبینہ طور پر ایک مشتعل بھیڑ کی قیادت کا ان پر الزام ہے۔ اس بھیڑ نے دس لوگوں کی جان لے لی تھی۔ وہ 1980 میں پہلی بار لوک سبھا میں منتخب ہوئے اور کل سات بار ایم پی رہے۔ سن 2004 میں وزیر بنائے گئے۔ دو ماہ میں ہی مقدمے کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا۔ سن 2005 میں جھارکھنڈ کے وزیر اعلٰی بنے، اکثریت ثابت نہیں کر پائے اور نو دنوں کے بعد استعفی دینا پڑا۔ دوسری بار 2008 میں وزیراعلٰی بنے لیکن اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہار گئے جس کے سبب انہیں وزیراعلٰی کی کرسی چھوڑنی پڑی۔ سورین کی پہچان ایک آدی واسی رہنماء کے روپ میں ہوتی ہے۔ ان کے حامی انہیں ’گُروجی‘ کہتے ہیں۔ نرسمہا راؤ حکومت کے دوران مشہور بدعنوانی کے معاملے میں ان کا نام خاص طور سے لیا جاتا ہے۔ ان پر مجرمانہ مقدمے چلے۔
*وفات*
1928ء تھامس ہارڈی، برطانوی ناول نگار اور شاعر
1966ء لال بہادر شاستری ، بھارتی سیاست دان ، (9 جون 1964ء تا 18 جولائی 1964ء) وزیر برائے امور خارجہ ، (9 جون 1964ء تا 11 جنوری 1966ء) دوسرے وزیراعظم بھارت ۔ لال بہادر شاستری معاہدہ تاشقند پر دستخط کے اگلے روز انتقال کر گئے۔ (پیدائش: 1904ء)
1988ء ازیڈور ائیزک ربی ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1944ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان، استاد جامعہ، نظری طبیعیات ، انھیں یہ انعام ریزوننس میتھڈ کی تخلیق اورنیوکلیائی کی میگنیٹک خصوصٰیات کی دریافت پر دیا گیا۔ (پیدائش: 1898ء)
1991ء کارل ڈیوڈ انڈریسن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1936ء) یافتہ امریکی طبیعیاد دان و استاد جامعہ (پیدائش: 1905ء)
2008ء سر ایڈمرڈ ہلیری، نیوزی لینڈ کے کوہ پیما ، جس نے نیپال کے تینجنگ نوگرے کے ساتھ پہلی بار 29 مئی 1953ء کو صبح گیارہ بج کے تیس منٹ پر ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا۔ کوہ پیمائی کی تاریخ میں ہلری پہلا شخص تھا جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ (پیدائش: 1919ء)2013ء نگوین خانہ ، ویتنامی فوجی جرنیل و سیاستدان 1964ء میں ویتنام کے حکمران (پیدائش: 1927ء)
2013ء آرون سوارٹز ، امریکی کمپیوٹر پروگرامرو مصنف (پیدائش: 1986ء)
2014ء ارئیل شارون ، اسرائیلی سیاست دان اور جنرل، (7 مارچ 2001ء تا 14 اپریل 2006ء) گیارہویں وزیر اعظم اسرائیل (پیدائش: 1928ء)
2017ء۔۔ سابق گورنر سندھ سعید الزماں صدیقی 1 دسمبر 1937ء کو لکھنؤ, حیدر آباد، بھارت میں پیدا ہوئے۔سعید الزماں صدیقی نے ابتدائی تعلیم لکھنئو سے حاصل کی۔ 1954ء میں انہوں نے جامعہ ڈھاکہ سے انجنیرنگ میں گریجویشن کی۔ جامعہ کراچی سے انہوں نے 1958ء میں وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ وہ پاکستان کے پندرہویں چیف جسٹس آف پاکستان تھے۔ وہ 1 جولائی 1999ء سے 26 جنوری2000ء تک چیف جسٹس آف پاکستان رہے۔وہ 9 نومبر 2016 سے 11 جنوری 2017 تک گورنر سندھ رہے۔وہ اس بیچ کا حصہ تھے جس نے 26 مئی 1993 کو نواز شریف کی برطرف شدہ حکومت بحال کی تھی۔
11 جنوری 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی ہدایت کار نذرالاسلام لاہور میں وفات پاگئے۔ نذرالاسلام 19 اگست 1939ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نیوتھیٹرز کلکتہ کے دبستان کے نمائندہ ہدایت کار تھے اور ان کی فلموں میں ستیہ جت رے، بروا، باسوچڑجی، بمل رائے اور نتن بوس کے اسلوب کی جھلک ملتی تھی۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار کیا پھر وہ ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون بن گئے۔ چند بنگالی فلموں کے بعد انہوں نے ایک اردو فلم کاجل بنائی جو بے حد مقبول ہوئی۔ پھر انہوں نے ایک بنگالی فلم کاربو اور ایک اور اردو فلم پیاسا کی ہدایات دیں۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکا کے زمانے میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے فلم ساز الیاس رشیدی کی فلم احساس سے اپنے نئے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ احساس کے بعد ان کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں حقیقت، شرافت، آئینہ، امبر، زندگی، بندش، نہیں ابھی نہیں، آنگن، دیوانے دو، لو اسٹوری، پلکوں کی چھائوں میں، میڈم باوری، بارود کی چھائوں میں، آندھی اور کالے چور کے نام سرفہرست ہیں۔ یہ تمام فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب رہیں۔ بطور ہدایات کار نذرالاسلام کی آخری فلم لیلیٰ تھی، جو ان کی وفات کے بعد نمائش پذیر ہوئی۔ نذرالاسلام فلمی صنعت میں ’’دادا‘‘ کے لقب سے معروف تھے۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
1978ء ابن انشاء پاکستانی شاعر و سفرنامہ نگار۔ابن انشا کا شمار اردو کے ان مایہ ناز قلمکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں اپنے فن کے جھنڈے گاڑے۔ ایک جانب وہ اردو کے ایک بہت اچھے شاعر تھے دوسری جانب وہ مزاح نگاری میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے اور کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری میں ایک نئے اسلوب کے بانی تھے۔ ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔ ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے‘‘ میں اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔ جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔
1993ء۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ، سندھی شاعر و دانشور۔٭11جنوری 1993ء کو سندھ کے معروف روحانی، سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیت مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کراچی میں وفات پاگئے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ 16 ستمبر 1919ء کو ہالانو میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ سندھ کے ایک محترم بزرگ حضرت لطف اللہ مخدوم نوح صدیقی سہروردیؒ کے سولہویں سجادہ نشین اور سروری جماعت کے سربراہ تھے۔ یہ گدی پیر پگارا کے بعد سندھ کی سب سے بڑی گدی سمجھی جاتی ہے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ نے اپنے والد میاں غلام محمد اور اپنے چچا میاں غلام حیدر کی وفات کے بعد 1953ء میں اپنی گدی کا انتظام سنبھالا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سیاسی دنیا میں بھی قدم رکھا اور 1953ء میں پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ 1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی توسندھ میں ان کا اولین مرکز مخدوم صاحب کا بنگلہ تھا جو ہالا میں واقع تھا۔ 1970ء میں انتخابی معرکے میں نہ صرف مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بلکہ ان کے بڑے صاحبزادے مخدوم محمد امین فہیم بھی ایک ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہوئے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک وضع دار اور بااصول انسان تھے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کیا مگر پیپلزپارٹی کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا۔ پیپلزپارٹی سے ان کا یہ تعلق ان کی وفات تک جاری رہا۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک اچھے شاعر اور ادیب بھی تھے ان کی کئی کتب اشاعت پذیر ہوچکی ہیں جن میں خودشناسی، اسلامی تصوف، مثنوی عقل و عشق، شان سروری، درنایاب، عرف یاد رفتگاں اور ان کا دیوان شامل ہیں۔ وہ مزار مخدوم نوح سرور، ہالانو ضلع حیدرآباد کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا 11واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 354 دن باقی ہیں ۔
1613ء مغل شہنشاہ جہانگیر نے انگریزوں کو سورت میں فیکٹریاں بنانے کیلئے فرمان جاری کیا۔
1759ء امریکہ کے شہر فلیڈیلفیا میں پہلی لائف انشورنس کمپنی قائم کی گئی۔
1879ء جنوبی افریقہ میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف زولو جدوجہد کا آغاز ہوا۔
1897ء ایم ایچ کانن، امریکی سینٹ کی پہلی خاتون رکن نامزدگی ہوئیں۔
1920ء فرانسیسی مسافروں کو لے کر جا رہا ایک جہاز افری لا روچلے کے قریب سمندر میں ڈوب گیا۔ جس میں 513 افراد کی موت ہو گئی۔
1922ء کناڈا میں ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ایک نوجوان کا پہلی بار انسولین سے کامیاب علاج کیا گیا۔
1935ء امریکی خاتون پائلٹ امیلا ایرہارٹ نے ہوائی سے کیلیفورنیا کا سفر طے کیا اس سفر کی طوالت امریکہ سے یورپتک کے فاصلے کے برابر ہے۔
1942ء جاپان نے نیدرلینڈز کے خلاف اعلان جنگ کیا۔
1942ء جاپان نے کوالالمپور پر قبضہ کیا۔
1946ء آل انڈیا مسلم لیگ نے 1945 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد یومِ فتح منایا۔
1946ء البانیہ میں شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد جمہوریت کا قیام عمل میں آیا۔
1955ء ملک میں نیوز پرنٹ ’اخباری کاغذ‘ کے پہلے کارخانے میں کاغذ کی تیاری شروع ہوئی۔
1959ء حنیف محمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ریکار ڈ چار سو ننانوے رنز بنائے۔
1960ء چاڈ نے فرانس سے آزادی کا اعلان کیا۔
1964ء پاناما نے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے۔
1972ء مشرقی پاکستان آزاد ملک بنگلہ دیش کی حیثیت سے سامنے آیا۔
1976ء ایکواڈور میں فوج نے صدر گوئی لیرگو روڈریگیز لارا کا تختہ الٹ دیا۔
1994ء آئرلینڈ کی حکومت نے گوریلا تنظیم آئرش ریپبلکن آرمی اور اس کی سیاسی شاخ سن فین پر 20 برس سے عائد پابندی ختم کی۔
1981ء پلاوو میں آئین کا نفاذ ہوا۔
1982ء ہونڈراس میں آئین کا نفاذ ہوا۔
1986ء ممبئی میں بحریہ نے 250 ویں سالگرہ منائی۔
1986ء لائسنس کے تحت ہندوستانی ایروناٹکس لمیٹیڈ میں تیار پہلے مگ 27 طیارہ فضائیہ کو سونپا گیا۔
1989ء 140 ممالک نیوکلیائی ہتھیاروں پر پابندی لگانے پر رضامند ہوئے۔
1993ء ممبئی اور احمد آباد میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکے جس سے ضمنی چناوَ ملتوی ہو گیا
2008ء جنوبی افریقی آل راؤنڈر شان پولاک نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
2008ء سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹیڈ نے حبیب بینک لمیٹیڈ کو فائنل میں شکست دے کر 50ویں قائد اعظم ٹرافی جیت لی۔
11جنوری 2010ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے گوادر میں ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر آٹھ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیر خزانہ شوکت ترین کی تصویر شائع کی گئی تھی اور انگریزی میں 7TH NATIONAL FINANCE COMMISSION AWARD 2009 GWADAR کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔
2017ء۔۔گورنر سندھ سعید الزماں صدیقی کے انتقال کی وجہ سے آغا سراج درانی قائم مقام گورنر سندھ بنے۔جسٹس سعید الزمان صدیقی 9 نومبر 2016 سے 11 جنوری 2017 تک گورنر سندھ رہے۔
ولادت :
۔""""""
1174ء ضیاء الدین المقدسی ، فقہ حنبلی کے عالم اور محدث تھےجو دمشق کے رہنے والے تھے ، (وفات: 1245ء)
1812ء بریگیڈیئر جنرل جان جیکب ، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک افسر تھا۔ اسی نے جیکب آباد کی بنیاد رکھی تھی۔ (وفات: 1858ء)
1859ء جارج نیتھنیل کرزن بمعروف لارڈ کرزن ، برطانوی مہم جو، سیاست دان، سفارت کار ، (6 جنوری 1899ء تا 18 نومبر 1905ء) 35واں وائسرائے اور گورنر جنرل ہند ، (23 اکتوبر 1919ء تا 22 جنوری 1924ء) سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ امور ، (3 نومبر 1924ء تا 20 مارچ 1925ء) قائد ایوان ہاوس آف لارڈز (وفات: 1925ء)
1917ء خان عبد الولی خان ، پاکستانی سیاستدان ، عبدالغفار خان بمعروف باچا خان کے بیٹے ، (2 دسمبر 1988ء تا 6 اگست 1990ء) قائد حزب اختلاف ایوانِ زیریں پاکستان (وفات: 2006ء)
1924ء روگر گولیمنن ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1977ء) یافتہ فرانسیسی نژاد امریکی طبیب، حیاتی کیمیا دان، استاد جامعہ
1946ء انجو ماہیندرو ، بھارتی فلمی اداکارہ
1949ء اینا سفوروا ، روسی مستشرق ، تنقید نگار و استاد جامعہ ۔ یہ دو زبانیں روسی اور اردو جانتی ہیں۔ پاکستانی ادب اور ثقافتی ورثہ کی تحقیق میں ان کی خدمات پر انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز ستارۂ امتیاز دیا گیا ہے۔
1951ء مبشر جاوید اکبر بمعروف ایم جے اکبر ، بھارتی صحافی، مصنف، سیاست دان، بلاگ نویس ، 6 جولائی 2016ء سے وزارت خارجی امور، حکومت ہند
1954ء کیلاش ستیارتھی ، نوبل امن انعام (2014ء) یافتہ بھارتی فعالیت پسند، انجینئر ، حقوق اطفال کے بھارتی کارکن ، یہ انعام پاکستانی ملالہ یوسف زئی اور کیلاش دونوں کو مشترکہ طور پر دیا گيا۔
1964ء یولندا حدید ، ڈچ-امریکی ٹیلی ویژن شخصیت اور سابقہ ماڈل
1969ء ایڈن ایٹوڈ ، امریکی فلمی اداکارہ
1970ء فردوس عاشق اعوان ، پاکستانی سیاست دان خاتون ہیں۔ دہقانی لہجے میں بے تکان گفتگو کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ این اے-111، سیالکوٹ سے رُکن بارہویں قومی اسمبلی (9 فروری 2011ء تا 18 اپریل 2012ء) وزیر اطلاعات و نشریات پاکستان
1972ء سَن٘دالی سِنہا ، بھارتی فلمی اداکارہ اور ماڈل
1972ء امینڈا پیٹ، امریکی اداکارہ
1973ء راہول ڈریوڈ ، بھارتی کرکٹ کھلاڑی
1981ء کرن راٹھوڑ ، بھارتی فلمی اداکارہ
1985ء متھن شرما ، بھارتی موسیقار، گلوکار اور نغمہ نگار
1992ء فاطمہ ثنا شیخ ، بھارتی اداکارہ
1998ء حسن محسن ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی
889ء۔۔عبدالرحمن الناصر (912ء تا 961ء) اندلس میں خلافت امویہ کا سب سے مشہور حکمران تھا جو عبدالرحمن الثالث اور عبدالرحمن اعظم کے ناموں سے بھی معروف ہے۔۔
1944ء۔شیبو سورین۔ہندوستانی سیاستدان۔جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے صدر ۔سورین کی پیدائش 11 جنوری 1944کو ہزاری باغ ضلع میں ہوئی۔انہوں نے ستّر کی دہائی میں اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ سن 1975 میں مبینہ طور پر ایک مشتعل بھیڑ کی قیادت کا ان پر الزام ہے۔ اس بھیڑ نے دس لوگوں کی جان لے لی تھی۔ وہ 1980 میں پہلی بار لوک سبھا میں منتخب ہوئے اور کل سات بار ایم پی رہے۔ سن 2004 میں وزیر بنائے گئے۔ دو ماہ میں ہی مقدمے کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا۔ سن 2005 میں جھارکھنڈ کے وزیر اعلٰی بنے، اکثریت ثابت نہیں کر پائے اور نو دنوں کے بعد استعفی دینا پڑا۔ دوسری بار 2008 میں وزیراعلٰی بنے لیکن اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہار گئے جس کے سبب انہیں وزیراعلٰی کی کرسی چھوڑنی پڑی۔ سورین کی پہچان ایک آدی واسی رہنماء کے روپ میں ہوتی ہے۔ ان کے حامی انہیں ’گُروجی‘ کہتے ہیں۔ نرسمہا راؤ حکومت کے دوران مشہور بدعنوانی کے معاملے میں ان کا نام خاص طور سے لیا جاتا ہے۔ ان پر مجرمانہ مقدمے چلے۔
*وفات*
1928ء تھامس ہارڈی، برطانوی ناول نگار اور شاعر
1966ء لال بہادر شاستری ، بھارتی سیاست دان ، (9 جون 1964ء تا 18 جولائی 1964ء) وزیر برائے امور خارجہ ، (9 جون 1964ء تا 11 جنوری 1966ء) دوسرے وزیراعظم بھارت ۔ لال بہادر شاستری معاہدہ تاشقند پر دستخط کے اگلے روز انتقال کر گئے۔ (پیدائش: 1904ء)
1988ء ازیڈور ائیزک ربی ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1944ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان، استاد جامعہ، نظری طبیعیات ، انھیں یہ انعام ریزوننس میتھڈ کی تخلیق اورنیوکلیائی کی میگنیٹک خصوصٰیات کی دریافت پر دیا گیا۔ (پیدائش: 1898ء)
1991ء کارل ڈیوڈ انڈریسن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1936ء) یافتہ امریکی طبیعیاد دان و استاد جامعہ (پیدائش: 1905ء)
2008ء سر ایڈمرڈ ہلیری، نیوزی لینڈ کے کوہ پیما ، جس نے نیپال کے تینجنگ نوگرے کے ساتھ پہلی بار 29 مئی 1953ء کو صبح گیارہ بج کے تیس منٹ پر ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا۔ کوہ پیمائی کی تاریخ میں ہلری پہلا شخص تھا جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ (پیدائش: 1919ء)2013ء نگوین خانہ ، ویتنامی فوجی جرنیل و سیاستدان 1964ء میں ویتنام کے حکمران (پیدائش: 1927ء)
2013ء آرون سوارٹز ، امریکی کمپیوٹر پروگرامرو مصنف (پیدائش: 1986ء)
2014ء ارئیل شارون ، اسرائیلی سیاست دان اور جنرل، (7 مارچ 2001ء تا 14 اپریل 2006ء) گیارہویں وزیر اعظم اسرائیل (پیدائش: 1928ء)
2017ء۔۔ سابق گورنر سندھ سعید الزماں صدیقی 1 دسمبر 1937ء کو لکھنؤ, حیدر آباد، بھارت میں پیدا ہوئے۔سعید الزماں صدیقی نے ابتدائی تعلیم لکھنئو سے حاصل کی۔ 1954ء میں انہوں نے جامعہ ڈھاکہ سے انجنیرنگ میں گریجویشن کی۔ جامعہ کراچی سے انہوں نے 1958ء میں وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ وہ پاکستان کے پندرہویں چیف جسٹس آف پاکستان تھے۔ وہ 1 جولائی 1999ء سے 26 جنوری2000ء تک چیف جسٹس آف پاکستان رہے۔وہ 9 نومبر 2016 سے 11 جنوری 2017 تک گورنر سندھ رہے۔وہ اس بیچ کا حصہ تھے جس نے 26 مئی 1993 کو نواز شریف کی برطرف شدہ حکومت بحال کی تھی۔
11 جنوری 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی ہدایت کار نذرالاسلام لاہور میں وفات پاگئے۔ نذرالاسلام 19 اگست 1939ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نیوتھیٹرز کلکتہ کے دبستان کے نمائندہ ہدایت کار تھے اور ان کی فلموں میں ستیہ جت رے، بروا، باسوچڑجی، بمل رائے اور نتن بوس کے اسلوب کی جھلک ملتی تھی۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار کیا پھر وہ ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون بن گئے۔ چند بنگالی فلموں کے بعد انہوں نے ایک اردو فلم کاجل بنائی جو بے حد مقبول ہوئی۔ پھر انہوں نے ایک بنگالی فلم کاربو اور ایک اور اردو فلم پیاسا کی ہدایات دیں۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکا کے زمانے میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے فلم ساز الیاس رشیدی کی فلم احساس سے اپنے نئے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ احساس کے بعد ان کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں حقیقت، شرافت، آئینہ، امبر، زندگی، بندش، نہیں ابھی نہیں، آنگن، دیوانے دو، لو اسٹوری، پلکوں کی چھائوں میں، میڈم باوری، بارود کی چھائوں میں، آندھی اور کالے چور کے نام سرفہرست ہیں۔ یہ تمام فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب رہیں۔ بطور ہدایات کار نذرالاسلام کی آخری فلم لیلیٰ تھی، جو ان کی وفات کے بعد نمائش پذیر ہوئی۔ نذرالاسلام فلمی صنعت میں ’’دادا‘‘ کے لقب سے معروف تھے۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
1978ء ابن انشاء پاکستانی شاعر و سفرنامہ نگار۔ابن انشا کا شمار اردو کے ان مایہ ناز قلمکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں اپنے فن کے جھنڈے گاڑے۔ ایک جانب وہ اردو کے ایک بہت اچھے شاعر تھے دوسری جانب وہ مزاح نگاری میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے اور کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری میں ایک نئے اسلوب کے بانی تھے۔ ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔ ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے‘‘ میں اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔ جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔
1993ء۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ، سندھی شاعر و دانشور۔٭11جنوری 1993ء کو سندھ کے معروف روحانی، سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیت مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کراچی میں وفات پاگئے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ 16 ستمبر 1919ء کو ہالانو میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ سندھ کے ایک محترم بزرگ حضرت لطف اللہ مخدوم نوح صدیقی سہروردیؒ کے سولہویں سجادہ نشین اور سروری جماعت کے سربراہ تھے۔ یہ گدی پیر پگارا کے بعد سندھ کی سب سے بڑی گدی سمجھی جاتی ہے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ نے اپنے والد میاں غلام محمد اور اپنے چچا میاں غلام حیدر کی وفات کے بعد 1953ء میں اپنی گدی کا انتظام سنبھالا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سیاسی دنیا میں بھی قدم رکھا اور 1953ء میں پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ 1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی توسندھ میں ان کا اولین مرکز مخدوم صاحب کا بنگلہ تھا جو ہالا میں واقع تھا۔ 1970ء میں انتخابی معرکے میں نہ صرف مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بلکہ ان کے بڑے صاحبزادے مخدوم محمد امین فہیم بھی ایک ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہوئے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک وضع دار اور بااصول انسان تھے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کیا مگر پیپلزپارٹی کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا۔ پیپلزپارٹی سے ان کا یہ تعلق ان کی وفات تک جاری رہا۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک اچھے شاعر اور ادیب بھی تھے ان کی کئی کتب اشاعت پذیر ہوچکی ہیں جن میں خودشناسی، اسلامی تصوف، مثنوی عقل و عشق، شان سروری، درنایاب، عرف یاد رفتگاں اور ان کا دیوان شامل ہیں۔ وہ مزار مخدوم نوح سرور، ہالانو ضلع حیدرآباد کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

No comments:
Post a Comment