Ad3

جنوری 12 تاریخ کے حوالے سے

12 جنوری
تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 12 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 353 دن باقی ہیں ۔

 1552ء ہالینڈ کے مغربی ساحلی علاقے میں آئے زبردست طوفان سے 100 افراد ہلاک ہو گئے۔

 1708ء ساہو کو مراٹھا حکمراں کا تاج پہنایا گیا۔

 1757ء برطانوی فوج نے مغربی بنگال کے بنڈیل کو پرتگالیوں سے چھینا۔

 1807ء ہالینڈ میں دھماکہ خیز مادہ سے بھرے ایک جہاز میں دھماکہ سے 150 افراد ہلاک ہو گئے۔

 1896ء امریکہ میں پہلی ایکس رے فوٹو کھینچی گئی۔

 1908ء ایفل ٹاور سے پہلی بار طویل فاصلے تک ریڈیو پیغام کی منتقلی کی گئی۔

 1915ء امریکہ کی نمائندہ کمیٹی نے خواتین کو ووٹ دینے کے حق کی تجویز کو خارج کیا۔

 1932ء امریکہ ہیٹی کارا وے امریکی سینیٹ کی پہلی خاتون رکن بنیں۔

 1940ء دوسری عالمی جنگ ،سوویت اتحاد نے فن لینڈ کے شہروں پر بمباری کی۔

 1948ء گاندھی نے آخری بھوک ہڑتال شروع کی۔

 1950ء برطانیہ میں ٹیمس ندی میں آبدوز کے تجربہ کے دوران سویڈن کا ایک تیل بردار ٹینکر آبدوز سے ٹکرا گیا جس سے آبدوز پر سوار 55 لوگ مارے گئے۔

 1952ء پی آئی ڈی سی (پاکستان انڈسٹریل ڈیوپلمنٹ کارپوریشن) کا قیام عمل میں آیا۔

 1961ء پاکستان میں دوسری مردم شماری کا آغازہوا۔

 1984ء بھارت میں سوامی وویکانند کی یوم پیدائش کو ‘قومی یوم نوجوان’ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔

 1990ء رومانیہ کی کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی۔

 1993ء ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پانے کے لئے پولیس نے 15 مقامات پر فائرنگ کی۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ 12 جنوری 1993ء تا 12  جنوری 1996  کے لئے آرمی چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔  جنرل عبدالوحید کاکڑ 20 مارچ 1937ء کو پشاور میں پیدا وئے اور انھوں نے 1959میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر تعیناتی سے قبل جنرل عبدالوحید کاکڑ کور کمانڈر کوئٹہ کے عہدے پر تعینات تھے ۔ انہوں نے 1965 میں سیالکوٹ میں چونڈہ کے محاذ اور 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر خدمات انجام دی تھیں۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ کی وفات کے وقت سنیارٹی لسٹ میں علی الترتیب لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی، محمد اشرف، فرخ خان اور عارف بنگش شامل تھے، تاہم نواز شریف حکومت نے پانچویں جنرل عبدالوحید کاکڑ کو سپہ سالار منتخب کیا۔ شاید جنرل کاکڑ کے اپنے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ آرمی چیف مقرر کیے جائیں گے، جنر ل عبدالوحید کاکڑکا نام جی ایچ کیو کی جاری کردہ لیفٹیننٹ جنرلزکی اس فہرست میں شامل تھا جو اگست 1993میں ریٹائر ہونے والے تھے ان کی شہرت ایک پیشہ ور فوجی کی تھی۔آرمی چیف کا عہدہ سنبھالتے ہی جنرل وحید کے سامنے کئی معاملات تھے جن میں فروری 1993میں آرمی چیف کا مجوزہ دورہ امریکا، ملک کی سیاسی صورت حال شامل تھی۔امریکا میں نئی کلنٹن انتظامیہ نے اقتدار سنبھال لیا تھا ، پاکستان کو امریکا نے دہشت گرد ریاست قرار نہیں دیا تھا مگر واچ لسٹ پر رکھا ہوا تھا ۔ اس پس منظر میںنئی انتظامیہ کے آنے کے بعد کسی بھی ملک کے فوجی سربراہ کا یہ پہلا دورہ ہوتا، مگر جنرل وحید اس دورے کے لیے تیار نہ تھے اور ساتھ ہی ملک کی سیاسی صورت حال بھی اس کی اجازت نہیں دے رہی تھی، جنرل وحید نے اپنا دورہ امریکا ملتوی کر دیا ۔اس التوا کا نقصان یہ ہوا کہ اگلے آٹھ سال تک کلنٹن انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتری کی سطح تک نہ آسکے ۔ جنر ل عبدالوحید کاکڑ کی تقرری پر صدر اور وزیر اعظم کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف بڑھتا ہی گیا ، صدر اسحق خان نے 18 اپریل 1993 کو قومی اسمبلی توڑ کر نواز حکومت کو برطرف کر دیا ۔ فوج نے صدر غلام اسحق خان کے فیصلے کا ساتھ دیا ۔نواز حکومت کو سپریم کورٹ نے 26 مئی 1993 کو بحال کر دیا مگر مملکت کا انتظام رک گیا ، چاروں صوبوں میں نواز مخالف حکومتیں قائم تھیں ، پنجاب میں وفاقی حکومت نے رینجرز کے ذریعے اپنی رٹ قائم کرنے کی کوشش کی ، جسے جنرل وحید کی طرف سے ناکام بنا دیا گیا ۔ حزب اختلاف نے لانگ مارچ کا اعلان کردیا ۔ ایسے میں جنرل وحید کاکڑ نے شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے میں مدد کی، گوکہ اس وقت کئی سیاست دانوں نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا جائے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا ۔18 جولائی 1993 کو صدر اور وزیر اعظم نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت کا قیام عمل میں آیا اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔ ستمبر 1995میں ملٹری انٹیلی جنس نے فوج میں بغاوت کا ایک منصوبہ پکڑ لیا جس کی تیاری مکمل ہو چکی تھی۔40سے زائد فوجی افسران کے اس گروپ کا منصوبہ تھا کہ اعلیٰ ترین فوجی قیادت کو کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران قتل کردیا جائے گا جب کہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کو قتل کر کے ملک میں اسلامی حکومت قائم کی جائے گی۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اس باغی گروپ کی سربراہی کر رہے تھے ۔تمام افراد کو گرفتار کر کے کورٹ مارشل کر دیا گیا۔جنر ل عبدالوحید کاکڑکی مدت ملازمت مکمل ہونے والی تھی،حکومت کی طرف سے جنرل وحید کو توسیع کی پیش کش بھی کی گئی جسے جنرل وحید کاکڑ نے مسترد کر دیا اور 12 جنوری 1996 کو اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو گئے ۔

1996 ء۔جنرل جہانگیر کرامت 12  جنوری 1996 کو آرمی چیف مقرر ہوئے اور وہ 07 اکتوبر 1998 تک چیف آف آرمی اسٹاف تعینات رہے۔  جنرل کاکڑ کی سبک دوشی کے وقت جنرل جہانگیر کرامت ہی سب سے سینیئر جنرل تھے چنانچہ انھیں اگلا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ جنرل جہانگیر کرامت 20 جنوری 1941ء و سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے 1961ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ 1965 میں انھوں نے اکھنور اور 1971ء میں شکر گڑھ کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ دورانِ ملازمت انھوں نے بین الاقوامی تعلقات اور وار اسٹڈیز میں ڈگریاں حاصل کیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سٹرٹیجک سٹڈیز اور وار کالج میں ملٹری سائنس پڑھاتے رہے۔ 80 کی دہائی میں سعودی عرب میں فوجی مشیر بھی رہے۔ ان کی سپہ سالاری کے دوران صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو برطرف کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ممکنہ برطرفی کی سن گن ملتے ہی جنرل جہانگیر کرامت نے مبینہ طور پر سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کے ذریعے صدر اور وزیرِ اعظم کو پیغام بھیجا کہ باہمی اختلافات جتنی جلد دور کرلیں اتنا ہی جمہوریت کے لیے بہتر ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اختلافات جب ذاتیات تک پہنچ جائیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو ہوا۔ عبوری حکومت کے تحت انتخابات ہوئے۔ نواز شریف کو دوسری بار وزیرِ اعظم بننے کا موقع ملا۔ پھر جہانگیر کرامت کو سپہ سالاری کے ساتھ ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی تفویض کردیا گیا۔ جب نواز شریف کی چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ٹھن گئی تو اس لڑائی میں جنرل جہانگیر کرامت نے غیر جانبداری برتی۔ انھی کے دور میں بھارت کے جوہری دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کیے۔ زندگی ٹھیک ہی چل رہی تھی کہ اکتوبر 1998 میں جنرل جہانگیر کرامت نے نیول وار کالج میں خطاب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ریاستی ڈھانچے کے استحکام کے لیے ترکی کی طرز پر نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نواز شریف حکومت اس تجویز سے یہ سمجھی کہ جنرل صاحب کے ارادے ٹھیک نہیں۔ چنانچہ7 اکتوبر 1998 کو ان سے استعفیٰ  لے لیا گیا۔ پھر وہ امریکہ چلے گئے اور سٹینفورڈ یونیورسٹی اور بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے علمی و تحقیقی کاموں سے خود کو منسلک کرلیا۔ جنرل مشرف کے دور میں لگ بھگ دو برس واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رہے۔ بعد ازاں اپنا تھنک ٹینک سپئیر ہیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کر لیا۔

 1998ء 19 یورپی ممالک نے مشترکہ طور پر انسانی کلوننگ پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کئے۔

 2000ء برطانیہ نے فوج میں ہم جنس پرستی پر لگی پابندی  ہٹالی۔

 2000ء بھارتی کابینہ نے دلی، ممبئی، چنئی اور کولکاتا ہوائی اڈوں کی نج کاری کے لئے شہری ہوابازی کی وزارت کی تجویز منظور کی۔

 2005ء یورپی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کے پہلے آئین کو زبردست اکثریت سے منظور کیا۔ لیکن فرانس اور ہالینڈ کے ووٹروں کی طرف سے آئین کو مسترد کئے جانے کے بعد اس پر عمل درآمد روک دیا گیا۔

 2006ء سعودی عربیہ میں منیٰ میں حج کے دوران کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ میں 362 حاجی شہید ہو گئے۔

 2010ء ہیٹی میں آئے ہولناک زلزلہ سے سینکڑوں افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

 12جنوری 2010ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے آغاز حقوق بلوچستان مہم کے آغاز پر آٹھ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر گوادر کی بندرگاہ کی تصویر شائع کی گئی تھی اور اردو میں ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ اور انگریزی میں GWADAR PORT کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

ولادت :
۔""""""

 1598ء جیجا بائی شاہ جی بھوسلے ، جنہیں بعض اوقات راج ماتا جیجا بائی اور صرف جیجائی بھی کہا جاتا ہے، مرہٹہ سلطنت کے بانی چھترپتی شیواجی مہاراج کی والدہ تھیں۔ جیجا بائی سندھ کھیڑ کے لکھوجی جادھوراؤ کی بیٹی تھیں۔ لکھوجی ایک مغل سردار تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ وہ دیوگیری کے یادو شاہی خاندان کی نسل سے ہیں۔ (وفات: 1674ء)

 1628ء شارل پیغو ، فرانسیسی مصنف اور اکیڈمیا فرانسیسی کے رکن (وفات: 1703ء)

1729ء اڈمنڈ برک ، برطانوی فلسفی ، پادری ، مصنف و سیاستدان ، جس نے ڈبلن میں تعلیم پائی۔ کلیسائی مراتب طے کر کے برموڈا میں ایک دینی مدرسہ قائم کرنے کی تحریک چلائی۔ تاکہ امریکا کے ریڈ انڈینوں کو مسیحی بنایا جائے۔ لیکن تین سال بعد ناکام ہو کر واپس انگلستان آگیا۔ 1734ء میں بشپ بنا۔ متعدد کتابیں لکھیں۔ جن میں خیالی فلسفے کی تلقین کی کہ خیال مادے پر مقدم ہے اور مادہ خیال کا پرتو ہے۔ (وفات: 1797ء)

 1746ء پستالوزی ، سوئٹرزلینڈ کا ماہر تعلیم،  انسان دوست، فلسفی، سیاست دان، مصنف، کسان (وفات: 1827ء)

 1863ء نریندرناتھ دت، جنہیں درویشی اختیار کر لینے کے بعد سوامی ویویکانند کا نام دیا گیا ، بھارتی راہب، مصنف، شاعر، معلم  (وفات: 1902ء)

 1876ء مصطفی فوزی چکماق بمعروف کاواکلی فوزی ، ترک فیلڈ مارشل اور سیاست دان تھے۔ وہ سلطنت عثمانیہ کے (3 فروری 1920ء تا 2 اپریل 1920ء) وزیر جنگ، (3 مئی 1920ء تا 5 اگست 1921ء) وزیر دفاع حکومت انقرہ، (24 جنوری 1921ء تا 9 جولائی 1922ء) وزیر اعظم حکومت انقرہ ، حکومت عظیم قومی ایوان کے (5 اگست 1921ء تا 29 اکتوبر 1923ء) دوسرے چیف آف جنرل اسٹاف اور (29 اکتوبر 1923ء تا 12 جنوری 1944ء) جمہوریہ ترکی کے پہلے چیف آف جنرل اسٹاف تھے۔ (وفات: 1950ء)

 1876ء جیک لنڈن، امریکی فکشن ادیب

 1889ء مرزا بشیر الدین محمود ، جماعت احمدیہ یا قادیانی فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد کے سب سے بڑا بیٹا۔ پہلا خلیفہ حکیم نورالدین کے بعد 1914ء میں خلیفہ بنا۔ تقسیم سے پیشتر قادیان ضلع گرداسپور بھارت میں مقیم تھا۔ پاکستان بننے پر لاہور آ گیا اور پھر ربوہ، جھنگ، پاکستان میں آباد ہو گیا۔ وہیں مرا۔ (وفات: 1965ء)

 1893ء ہیرمان ولیم گوئرنگ ، جرمن سیاست دان، پائلٹ، آرٹ کولکٹر ، ناکام ’بیئر ہال بغاوت‘ میں شریک گوئرنگ نازیوں کے برسرِاقتدار آنے کے بعد جرمنی میں دوسرے طاقتور ترین شخص تھے۔ گوئرنگ نے خفیہ ریاستی پولیس گسٹاپو کی بنیاد رکھی اور ہٹلر کی جانب سے زیادہ سے زیادہ نا پسند کئے جانے کے باوجود جنگ کے اختتام تک ملکی فضائیہ کی کمان کی۔ نیورمبرگ مقدمات میں گوئرنگ کو سزائے موت سنائی گئی، جس پر عملدرآمد سے ایک رات پہلے گوئرنگ نے خود کُشی کر لی۔ (وفات: 1946ء)

 1899ء پاول ہرمن میولر ، (نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1948ء) یافتہ سوئس کیمیاءدان و طبیب (وفات: 1965ء)

 1916ء پیٹر ولیم بوتھا بمعروف پی ڈبلیو بوتھا ، جنوبی افریقی سیاستدان  ، (1978ء تا 1989ء) صدر جنوبی افریقہ ، بوتھا کو 1989 میں اسعفی دینا پڑا۔ ان کے بعد بننے والے سفید فام رہنما ایف ڈبلیو کلرک کے دور میں اپارتھائڈ یعنی نسلی تفریق کے اس نظام کو ختم کیا گیا اور پورے ملک میں انتخابات کرائے گئے۔ بوتھا اپنے دور اقتدار میں نیلسن مینڈیلہ اور اے این سی کے دوسرے کارکنوں کو رہا کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔ انیس سو نوے کے عشرے میں وہ جنوبی افریقہ کی ’ٹروتھ اینڈ ری کنسلیئشن‘ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیشن کے مطابق بوتھا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مجرم تھے۔ (وفات: 2006ء)

 1917ء الیا پرگوگین ، نوبل انعام برائے کیمیا (1977ء) یافتہ بیلجئیم روس کے طبیعاتی کیمیاءدان مصنف و استاد جامعہ (وفات: 2003ء)

 1919ء اخلاق احمد دہلوی ، اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیب، خاکہ نگار اور براڈکاسٹر (وفات: 1992ء)

 1928ء عنایت حسین بھٹی ، پاکستانی فلمی لوک و فلمی گلوکار، کمپئیر، اداکار اور سیاست دان (وفات: 1999ء)

 1934ء ابراہیم نافع ، مصری صحافی و مصنف ۔ وہ مصری اخبار الاہرم کے 1979ء تا 2005ء مدیر رہے اور 1996ء تا 2012ء عرب صحافیوں کی جنرل یونین کے سربراہ رہے۔ (وفات: 2018ء)

 1936ء ء مفتی محمد سعید ، کشمیری وکیل و سیاستدان ، (2 دسمبر 1989ء تا 10 نومبر 1990ء) وزیرِ داخلہ بھارت و (2 نومبر 2002ء تا 2 نومبر 2005ء) اور (1 مارچ 2015ء تا 7 جنوری 2016ء) مقبوضہ کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ (وفات: 2016ء)

 1951ء کرسٹی ایلی ، امریکی فلمی اداکارہ

 1954ء ذوالفقار مرزا ، بدین سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاستدان ، فہمیدہ مرزا کے شوہر ہیں۔

 1955ء دیودونے بوگمِس ، کیمرون کے (2004ء تا 25 اگست 2018ء) رومی کاتھولک اسقف ، 1983ء میں بطور پادری مخصوص کیے گئے۔ انہوں نے دوالا، کیمرون کی رومی کاتھولک آرچ ڈائیوسیس کے معاون اسقف اور گیدیاؤفالا کے محض خطاب کے اسقف کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ پھر وہ ایسیکا، کیمرون کی رومی کاتھولک ڈائیوسیس کے سنہ 2004ء سے اپنی وفات تک اسقف رہے۔ (وفات: 2018ء)

 1964ء جیفری پریسٹن بیزوس ، امریکی ٹیکنالوجی اور خوردہ کاروباری، سرمایہ کار، الیکٹریکل انجینئر، کمپیوٹر سائنس دان اور انسان دوست ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی آن لائن شاپنگ کمپنی امیزون کے بانی، چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر

 1967ء علی محمد مہر ، گھوٹکی سیدھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاستدان ، (17 دسمبر 2002ء تا 9 جون 2004ء) 19ویں وزیرِ اعلیٰ سندھ (بعد از قیامِ پاکستان)

 1972ء پرینکا گاندھی واڈرا ، بھارت کے پانچویں وزیر اعظم راجیو گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی کی بیٹی اور موجود صدر راہل گاندھی کی بہن ہیں۔ بھارت کے نامی گرامی تاجر رابرٹ واڈرا کی شریکِ حیات ہیں۔ ان دونوں سے ایک بیٹا ہے جس کا نام ریحان گاندھی واڈرا ہے۔

 1993ء زین جواد ملک ، پاکستانی نژاد انگریز گلوگار اور سنگیت ساز ہے۔ تعلق بریڈفورڈ، ویسٹ یارکشائر، انگلستان سے ہے۔ اس کے والد برطانوی پاکستانی یاسر ملک اور ماں انگریز ٹریسیا ملک ہیں۔ اس کی ایک بڑی بہن دنیا اور دو چھوٹی بہنیں ولیہا اور صفا ہیں۔ وہ ایسٹ بولنگ میں پلا بڑھا۔

1938ء۔۔۔قاضی حسین احمد12 جنوری 1938 ء میں ضلع نوشہرہ (صوبہ خیبر پختونخوا) کے گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے۔ والد مولانا قاضی محمد عبدالرب صاحب ایک ممتازعالم دین تھے اوراپنے علمی رسوخ اور سیا سی بصیرت کے باعث جمعیت علمائے ہند صوبہ سرحد کے صدرچُنے گئے تھے۔ قاضی صاحب اپنے دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں ۔ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عتیق الرحمٰن اور مرحوم قاضی عطاء الرحمٰن اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھے۔ قاضی حسین احمد بھی ان کے ہمراہ جمعیت کی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگے۔ لٹریچر کا مطالعہ کیا اور یوں جمعیت طلباء سے وابستہ ہوئے۔قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنےوالد سے حاصل کی۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی۔ بعد ازتعلیم جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرارتعیناتی ہوئی اور وہاں تین برس تک پڑھاتے رہے۔ جماعتی سرگرمیوں اور اپنے فطری رحجان کے باعث ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کردیا۔ جہاں سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔
دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد آپ 1970ء میں جماعت اسلامی کےرکن بنے،پھرجماعت اسلامی پشاورشہر اور ضلع پشاورکے علاوہ صوبہ سرحد کی امارت کی ذمہ داری بھی ادا کی گئی۔ 1978ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور 1987ء میں جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لیے گئے۔ تب سے وہ چارمرتبہ (1999ء،1994ء،1992ء، 2004ء) امیرمنتخب ہو ئے۔قاضی حسین احمد 1985ء میں چھ سال کے لیے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1992ء میں وہ دوبارہ سینیٹرمنتخب ہوئے،تاہم انہوں نےحکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں سینٹ سے استعفا دے دیا۔ 2002 ء کے عام انتخابات میں قاضی صاحب دو حلقوں سے قومی اسمبلی کےرکن منتخب ہوئے۔ نورانی صاحب کی وفات کے بعد تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے یعنی متحدہ مجلس عمل کے صدر منتخب ہوئے۔ ایم ایم اے میں فضل رحمان کے برعکس قاضی صاحب کا نقطۂ نظر ہمیشہ سے سخت گیر رہا ہے۔ حقوق نسواں بل کی منظوری کے بعد استعفا کی بات بھی ان کی طرف سے ہوئی تھی۔ اور قاضی صاحب نے پارٹی قیادت پر کافی دباؤ بھی ڈالا لیکن جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمان کے سامنے ان کی ایک نہ چل سکی۔ جولائی2007ء میں لال مسجد واقعے کے بعد اسمبلی سے استعفا دینے کا اعلان کر دیا۔قاضی صاحب کی زندگی کی دو بڑی غلطیاں تھیں۔پہلی اسلامی جمہوری اتحاد میں شمولیت اور دوسری مولانا فضل الرحمن پہ اعتبار۔3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے بعد آپ کو اپنے گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ 14 نومبر 2007 کو عمران خان کو پولیس کے حوالے کرنے کا واقعہ ہوا۔ دو ہی روز بعد 16 نومبر 2007 کو حکومت نے قاضی صاحب اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی نظربندی ختم کر دی۔قاضی حسین احمد کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ جو والدہ سمیت جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں۔ قاضی صاحب منصورہ میں دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔قاضی صاحب کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو،انگریزی،عربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔ وہ شاعرِ اسلام علامہ محمد اقبال کے بہت بڑے خوشہ چین تھے، انہیں فارسی و اردو میں ان کااکثر کلام زبانی یاد تھا اور وہ اپنی تقاریر و گفتگو میں اس سے استفادہ کرتے تھے۔6 جنوری 2013ء کو دل کے عارضہ سے اسلام آباد میں انتقال ہوا، اُن کو ان کے آبائی علاقے نوشہرہ میں دفن کیا گیا۔

اردو آزاد نظم کے بانیوں میں شامل ممتاز شاعر اور نامور قانون دان تصدق حسین خالد 12 جنوری 1901ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہیں قانون کی پریکٹس کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی دلچسپی تھی اور وہ 1935ء سے 1937ء تک پنجاب مسلم لیگ کے پبلسٹی سیکریٹری بھی رہے تھے۔ ڈاکٹر تصدق حسین خالد کے شعری مجموعے سروونو اور لامکاں نا لامکاں کے نام سے شائع ہوئے۔ 13 مارچ 1971ء کو تصدق حسین خالد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں دارالعلوم اسلامیہ، شادمان لنک روڈ میں آسودۂ خاک ہیں۔

1931ء احمد فراز،  پاکستان کے نامور شاعر احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا اور وہ 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد سید محمد شاہ برق کوہاٹی فارسی کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ احمد فراز نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور ریڈیو پاکستان سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ پشاور یونیورسٹی سے بطور لیکچرار منسلک ہوگئے۔ وہ پاکستان نیشنل سینٹر پشاور کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر، اکادمی ادبیات پاکستان کے اولین ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان نیشنل بک فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ احمد فراز عہد حاضر کے مقبول ترین شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہیں بالعموم رومان کا شاعر کہا جاتا ہے مگر وہ معاشرے کی ناانصافیوں کے خلاف ہر دور میں احتجاج کا پرچم بلند کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں مختلف پابندیاں بھی جھیلنی پڑیں اور جلاوطنی بھی اختیار کرنی پڑی۔ احمد فراز کے مجموعہ ہائے کلام میں تنہا تنہا، درد آشوب، نایافت، شب خون، مرے خواب ریزہ ریزہ، جاناں جاناں، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، سب آوازیں میری ہیں، پس انداز موسم، بودلک، غزل بہانہ کروں اور اے عشق جنوں پیشہ کے نام شامل ہیں۔ ان کے کلام کی کلیات بھی شہر سخن آراستہ ہے کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ احمد فراز کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں آدم جی ادبی انعام، کمال فن ایوارڈ، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز کے نام سرفہرست ہیں۔ ہلال امتیاز کا اعزاز انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے واپس کردیا تھا۔ انہیں جامعہ کراچی نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی تھی۔ 25 اگست 2008ء کو احمد فراز اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ احمد فراز اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

 1997ء ملالہ یوسفزئی پاکستان میں پیدا ہونے والی خواتین کی تعلیم کی سرگرم رکن ہے اور اسے کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کم سن فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی وجہ شہرت اپنے آبائی علاقے سوات اور خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں کام کرنا ہے جب مقامی طالبان نے لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا۔ اب ملالہ کی تحریک بین الاقوامی درجہ اختیار کر چکی ہے۔9 اکتوبر، 2012ء کو ملالہ اسکول جانے کے لیے بس پر سوار ہوئی۔ ایک مسلح شخص نے بس روک کر اس کا نام پوچھا اور اس پر پستول تان کر تین گولیاں چلائیں۔ ایک گولی اس کے ماتھے کے بائیں جانب لگی اورکھوپڑی کی ہڈی کے ساتھ ساتھ کھال کے نیچے سے حرکت کرتی ہوئی اس کے کندھے میں جا گھسی۔ حملے کے کئی روز تک ملالہ بے ہوش رہی اور اس کی حالت نازک تھی۔ تاہم جب اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو اسے برمنگہم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کو بھیج دیا گیا تاکہ اس کی صحت بحال ہو۔ 12 اکتوبر 2012 کو پاکستانی 50 مذہبی علماء نے ملالہ کے قتل کی کوشش کے خلاف فتویٰ دیا۔ اس قاتلانہ حملے کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی طور پر ملالہ کی حمایت میں اچانک اضافہ ہوا۔ ڈوئچے ویلے نے جنوری 2013ء میں ملالہ کے بارے لکھا کہ وہ دنیا کی مشہور ترین کم عمر بچی بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی تعلیم کے نمائندے گورڈن براؤن نے اقوامِ متحدہ کی ایک پٹیشن بنام "میں ملالہ ہوں" جاری کی اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر کے تمام بچوں کو 2015ء کے اواخر تک اسکول بھیجا جائے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی بار تعلیم کے حق کا بل منظور ہوا۔ 29 اپریل 2013ء کو ملالہ کو ٹائم میگزین کے اولین صفحے پر جگہ ملی اور اسے دنیا کے 100 با اثر ترین افراد میں سے ایک گردانا گیا۔ ملالہ پاکستان کے پہلے یوتھ پیس پرائز کی وصول کنندہ ہے۔
12 جولائی 2013ء کو ملالہ نے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں تعلیم تک رسائی دی جائے۔ ستمبر 2013ء میں ملالہ نے برمنگہم کی لائبریری کا باضابطہ افتتاح کیا۔ ملالہ کو 2013ء کا سخاروو انعام بھی ملا۔ 16 اکتوبر 2013ء کو حکومتِ کینیڈا نے اعلان کیا کہ کینیڈا کی پارلیمان ملالہ کو کینیڈاکی اعزازی شہریت دینے کے بارے بحث کر رہی ہے۔فروری2014ء کو سوئیڈن میں ملالہ کو ورلڈ چلڈرن پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ 15 مئی 2014ء کو ملالہ کو یونیورسٹی آف کنگز کالج، ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ دی گئی۔10 اکتوبر 2014ء کو ملالہ کو بچوں اور کم عمر افراد کی آزادی اور تمام بچوں کو تعلیم کے حق کے بارے جدوجہد کرنے پر 2014ء کے نوبل امن انعام دیا گیا جس میں ان کے ساتھ انڈیا کے کیلاش ستیارتھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو 1979ء میں طبعیات کے نوبل انعام کے بعد ملالہ نوبل انعام پانے والی دوسری پاکستانی بن گئی ہے

*وفات*

 1049ء ابوسعید ابو الخیر ، ایرانی صوفی شاعر ۔ آپ کی فارسی رباعیات بہت مشہور ہیں۔ ان رباعیات کے اردو تراجم بھی ہو چکے ہیں۔ (پیدائش: 967ء)

 1319ء کمال الدین ابوالحسن محمد فارسی ، تبریز ایرانی ریاضی دان ، انہیں ریاضی دان کی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک طبیعیات دان کی نظر سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ انہیں کے ابن الہثم کتاب کتاب المناظر پر تبصرہ و تشریح لکھنے کی وجہ سے ابن الہثم کی یہ تحقیقی کتاب جو اہل مشرق نظرانداز کر چکے تھے اجاگر ہو کر سامنے آئی اور یورپ میں اس کے تراجم کیے گئے۔ محمد الفارسی کی اس کتاب کو عربی میں التنقیح اور انگریزی میں Tanqih لکھا جاتا ہے۔ (پیدائش: 1265ء)

 1323ء ابن الفوطی یا ابن الصابونی ، عراقی مسلمان محدث، فلسفی، ماہر فلکیات اور مؤرخ تھے۔ اُن کی وجہ شہرت اُن کی تصنیف مجمع الآداب فی معجم الاسماء و الالقاب ہے۔ (پیدائش: 1244ء)

 1665ء پیِر دُ فِرما (فرانسوی:Pierre de Fermat) فرانسیسی وکیل، منصف اور شوقیہ ریاضی دان ۔ انہوں نے تحلیلی علمٍ ہندسہ کے بنیادی اصولوں کی تشکیل دی۔انھوں نے منحنی خطوط کے بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے معین معلوم کرنے کا اصلی طریقہ دریافت کیا۔ انہوں نے تحلیلی علمٍ ہندسہ پر کئی نمایاں عطیات پیش کیے ہیں۔ فرمٹ کی تحلیلی علمٍ ہندسہ کے بارے میں تصنیف 1636ء میں تحریری شکل میں ڈسکارٹس کی تصنیف "لاجیومیٹری" سے پہلے ہی شائع ہو چکی تھی۔ (پیدائش: 1601ء)

 1821ء سر جان مکفرسن ، برطانوی سیاستدان اور برطانوی ہند کا سکاٹش منتظم، (8 فروری 1785ء تا 11 ستمبر 1786ء) دوسرے (قائم مقام) گورنر جنرل فورٹ ولیم پریزیڈینسی (پیدائش: 1745ء)

 1976ء اگاتھا میری کلیریسا ملر بمعروف ڈیم اگاتھا کرسٹی،  برطانوی ناول نگار، مختصر کہانی نویس، ڈراما نگار، شاعر ، جاسوسی کہانیاں لکھنے والی عالمی شہرت یافتہ مصنفہ، انہیں جاسوسی کہانیاں لکھنے والی تاریخ کی عظیم ترین مصنفہ سمجھا جاتا ہے، اس بات کا انداہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گنیز بک آف ریکارڈ کے مطابق دنیابھر میں شیکسپئیر کے بعد یہ واحد مصنفہ ہیں جن کی کتابیں سب سے زیادہ تعداد میں فروخت ہوئی ہیں۔ 2006ء کے اعدادوشمار کے مطابق ان کی لکھی ہوئی کہانیوں کے ایک ارب سے زائد نسخے فروخت ہوئے تھے۔ یوں تو آگاتھا کرسٹی جرائم اور سراغ رساں پر مبنی جاسوسی کہانیوں کے لیے جانی جاتی ہیں، لیکن آپ نے میری ویسٹماکوٹ کے قلمی نام سے رومانوی ناول بھی لکھے اور کئی پراسرار، سنسنی خیز اور ماورائی کہانیاں بھی تحریر کیں ۔ (پیدائش: 1890ء)

 1997ء چارلس برنٹن ہگس ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1966ء) یافتہ کینیڈی نژاد امریکی فعلیات دان و استاد جامعہ (پیدائش: 1901ء)

 1863ء ماسٹردا کے نام سے مشہور انقلابی سوریہ سین کو چٹاگانگ جیل میں پھانسی دی گئی۔

*تعطیلات و تہوار*

 1933ء امریکہ کی پارلیمنٹ نے فلپائن کی آزادی کو منظوری دی۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...