1610ء گلیلیو گلیلی نے مشتری کے چوتھے سیارہکیلسٹو (جیوپیٹر) کی دریافت کی۔
1709ء بہادر شاہ اول (شاہ عالم عرف شہزادہ معظم) نے اپنے تیسرے بھائی کام بخت کو شکست دی۔ بعد میں زخمی کام بخت کی موت ہو گئی۔
1794ء امریکی کانگریس نے 15 پٹی اور 15 ستاروں والے قومی جھنڈے کو منظوری دی۔
1818ء اودھے پور کے رانا نے اپنی حکومت کو بچانے کے لئے انگریزوں سے ایک معاہدے پر دستخط کئے۔
1849ء انگریزوں اور سکھوں کے درمیان دوسری جنگ چلیانوالہ (اب پاکستان میں) ہوئی۔
1869ء سیاہ فام امریکی لیڈروں کی پہلی کانفرنس واشنگٹن میں ہوئی تھی۔
1883ء پولینڈ کے فیرونی سرکس میں آگ لگنے سے 430 افردا کی موت ہو گئی۔
1888ء نیشنل جیئو گرافک سوسائٹی کا واشنگٹن میں قیام عمل میں آیا۔
1889ء آسام کے نوجوانوں نے اپنے طور پر خَواندگی میگزین جوناکی کی اشاعت شروع کی۔
1893ء برٹین انڈی پینڈنٹ لیبر پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔
1906ء امریکہ میں پہلی بار ریڈیو سے اشتہار نشر ہوا۔
1915ء اٹلی کے ایویزانو شہر میں آئے بھیانک زلزلہ میں 30 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔
1932ء سکھر بیراج کی تعمیر مکمل ہوئی۔
1932ء دنیا کے سب سے بڑی آبپاشی منصوبہ، سوکور، باندھ کی تعمیر شروع ہوئی۔
1938ء چرچ آف انگلینڈ نے نظریہ ارتقا کو تسلیم کر لیا۔
1942ء امریکہ کے ہینری فورڈ نے پلاسٹک کے گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے آلات کا پیٹنٹ کرایا۔
1943ء ہٹلر نے ’ٹوٹل وار‘ کا اعلان کیا۔
1943ء طیاروں میں حادثوں سے حفاظت کے لئے ای جیکشن سیٹ متعارف کرائی گئی۔
1948ء ہندوستان کے بٹوارے کے بعد پیدا ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کیلئے گاندھی نے کلکتہ میں بھوک ہڑتال شروع کی اور 18 جنوری کو اپنی ہڑتال ختم کی۔ یہ ان کی آخری بھوک ہڑتال تھی۔
1951ء سوویت فوج نے لتھوانیہ میں باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت ولنیس میں اہم ٹیلیویژن چینل کو تباہ کر دیا۔
1953ء مارشل ٹیٹو سانچہ: Country data یوگو سلاویہ کے صدر بنے۔
1958ء تینتالیس ممالک کے سائنسدانوں نے جوہری تجربے پر پابندی لگانے کے لئے اقوام متحدہ سے درخواست کی۔
1964ء کلکتہ کے بدترین فساد میں ایک ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی۔
1966ء امریکی وزارت میں پہلا سیاہ فام رابرٹ سی بیور کا انتخاب کیا گیا۔
1967ء ہندوستانی زبانوں کی خبر رساں ایجنسی ’سماچار بھارتی‘ کا دہلی میں افتتاح ہوا۔
1978ء ناسا نے پہلی خاتون آسٹروناٹ کو خلا میں بھیجنے کے لیے نامزد کیا۔
1990ء امریکہ میں پہلا سیاہ فام گورنر ڈگلس ولڈر ورجینیا میں منتخب ہوا۔
2001ء وسطی امریکہ میں آئے شدید زلزلہ میں 725 افراد مارے گئے۔
2003ء کینیڈا اور امریکہ کے ماہرین فلکیات نے نیپچون کے گرد گردش کرنے والے تین چاند دریافت کئے۔
2004ء برطانیہ کے سب سے مشہور سیریل کیلر سابق ڈاکٹر ہیرالڈ شپمین جیل میں مردہ پایا گیا۔
2005ء برطانیہ کی سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے بیٹے مارک تھیچر کو اکٹوریئل گوئینا میں بغاوت برپا کرنے کا خاطی پایا گیا۔
2007ء صومالیہ میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کیا گیا۔
2007ء بحرالکاہل کے شمال مغربی حصے میں آٹھ اعشارہ دو کی شدت کازلزلہ، جس کے بعد روس، جاپان، جزیرہ مارکس، جزیرہ ویک، جزیرہ مڈوے، جزائر جنوبی ماریانا، گوام، مارشل آئرلینڈ اور تائیوان میں سونامی کی وارننگ جاری کی گئی۔
2016ء ڈبلیو ایچ او نے مغربی آفریقہ سے ایبولا نامی وبا کے خاتمے کا اعلان کیا اس وبا نے 11 ہزار لوگوں کی جان لے لی۔
2016ء۔جلال آباد افغانستان میں پاکستان کے سفارت خانے کے قریب دھماکہ۔6 افراد شہید ۔
2016ء۔۔کوئٹہ میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں انسداد پولیو کے ہیڈ یونٹ کے قریب دھماکہ۔14 افراد شہید اور 20 زخمی۔
2018 ِپاکستان مسلم لیگ ق کے عبدالقدوس بزنجو نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھایا ۔
ولادت :
930ء محمد بن ابی عامر المنصور ، اندلس سے تعلق رکھنے والے عربی یاست دان و فوجی افسر (وفات: 1002ء)
1538ء ادھے سنگھ مارواڑ عرف موٹا راجہ ، جودھ پور (موجودہ دور میں راجستھان ریاست انڈیا میں) کے فرماں روا تھے۔ انہوں نے 1583ء تا 1595ء) حکمرانی کی۔ ادھے سنگھراؤ مالدیو راٹھور فرمان روائے جودھ پور کا بیٹا تھا۔ اس خاندان عظیم الشان میں صدہا سال سے حکومت اور امارت کا نقشہ جما ہوا تھا۔ (وفات: 1595ء)
1766ء بیخان سلطان ، سلطنت عثمانیہ کی شہزادی تھیں۔ وہ سلطنت عثمانیہ کے 26ویں سلطان (30 اکتوبر 1757ء تا 21 جنوری 1774ء) مصطفی ثالث اور ملکہ عائشہ عادل شاہ کی بیٹی تھیں۔ بیخان سلطان سلیم ثالث کی چہیتی بہن تھیں۔ (وفات: 1824ء)
1808ء سالمن پی چیز ، امریکی سیاست دان، منصف (14 جنوری 1856ء تا 9 جنوری 1860ء) 23واں گورنر اوہائیو (وفات: 1873ء)
1864ء ویلیم وین ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1911ء) یافتہ جرمن طبیعیات دان، استاد جامعہ، نظری طبیعیات ، اس انعام کی وجہ حرارت کی تابکاری کے متعلق انکا کیا گیا مطالعہ تھا۔ (وفات: 1928ء)
1892ء سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ، ایرانی ادیب، ماہرِ لسانیات، مصنف، مؤرخ، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم (وفات: 1997ء)
1927ء سڈنی برینر ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (2002ء) یافتہ جنوبی افریقی حیاتی ٹیکنالوجسٹ، ماہر جینیات، استاد جامعہ
1933ء ریاض احمد بمعروف رام ریاض پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے شاعر (وفات: 1990ء)
1949ء راکیش شرما، روسی خلائی گاڑی سویوز ٹی11 سے خلاء میں قدم رکھنے والے پہلے ہندوستانی
1960ء ایریک بیٹزگ ، نوبل انعام برائے کیمیا (2014ء) یافتہ امریکی ایک کیمیادان و استاد جامعہ ، اسٹیفن ہیل، ایرک بیٹزگ اور ولیم موئرنر نے مائیکرو اسکوپ کے ذریعے اشیاء کو دیکھنے کے مروجہ طریقے کو اس حد تک بہتر بنایا ہے کہ اب اس کے ذریعے خَلیات کی اندرونی ساخت کو کہیں بڑے سائز میں اور کہیں زیادہ صاف اور واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
1967ء سوزین کرائر ، امریکی فلمی اداکارہ
1972ء نکول ایگرٹ ، امریکی فلمی اداکارہ
1977ء خوان پابلو رابا ، کولمبیائی فلم اور ٹیلی ویژن اداکار
1926ء شکتی سامنت، مغربی بنگال میں 13 جنوری 1926ء کو پیدا ہوئے۔سامنت بالی وڈ کے جانے مانے فلمساز تھے۔ فلموں میں وہ اداکاری کرنے آئے تھے لیکن پھر پردے کے پیچھے رہ کر انہوں نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد میں انہوں نے اپنی ہدایت میں فلم ’بہو‘ بنائی۔ اس وقت کی مشہور ہیروئین اوشا کرن اور کرن دیوان کے ساتھ ششی کلا اور پران اس فلم کے اہم اداکار تھے۔سامنت نے چند ہی برسوں میں اپنی پروڈکشن کمپنی بنا لی اور پھر انہوں نے اس کے بینر تلے بے حد کامیاب فلمیں بنائیں۔ جس میں کشمیر کی کلی، این ایوننگ ان پیرس، ہاوڑا برج، چائنا ٹاؤن وغیرہ شامل ہیں۔ ہاؤڑا برج نے مدھو بالا کو نئی اونچائیوں تک پہنچایا ۔ہمہ جہت شخصیت کےمالک شکتی سامنت صرف پروڈیوسر یا ہدایت کار ہی نہیں تھے انہوں نے ایک دور میں فلمیں اور ان کے مکالمے بھی لکھے ۔ فلم برسات کی ایک رات، گریٹ گیمبلر اور امانش کے کی کہانی اور مکالمے ان کے لکھے۔سامنت نے پچاس کی دہائی کے اواخر اور ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں شمی کپور کے ساتھ اگر ہٹ فلمیں دیں تو بعد میں راجیش کھنہ کے ساتھ انہوں نے تین ایسی فلمیں بنائیں جنہیں بعد میں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ آرادھنا، کٹی پتنگ، امر پریم اگر سلور جوبلی ہٹ فلمیں تھیں تو آرادھنا، امر پریم اور امانش کو فلم فیئر ایوارڈ ملے۔ہندستانی فلمی صنعت میں ان کے کارہائے نمایاں کے لیے کئی مرتبہ لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ 9 اپریل 2009ء کو ان کا انتقال ہوا۔
1982ء کامران اکمل، پاکستانی کرکٹر
1992.شاہ زیب خان شہید جسے اپنی بہن کو چھیڑنے سے منع کرنے پہ سراج تالپر۔شاہ رخ جتوئی نے 25 دسمبر 2012 کو گولی مار کے قتل کر دیا ۔
*وفات*
2018ء۔۔نقیب اللہ محسود جسے راو انوار نے جعلی پولیس مقابلے میں شہید کیا۔
858ء ایتھلوولف (Æthelwulf) ، ویسکس کا 839ء تا 858ء بادشاہ تھا۔
1847ء خواجہ حیدر علی آتش ، اردو شاعر اور مصنف (پیدائش: 1764ء)
1963ء سیلوا نوس اولیومپئو، ٹیگو جمہوریہ کے صدر جسے فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا۔
1978ء ہیوبرٹ ہمفری ، امریکی سیاست دان، ماہرِ دوا سازی، ٹریڈ یونین حامی (20 جنوری 1965ء تا 20 جنوری 1969ء) 38واں امریکی نائب صدر (پیدائش: 1911ء)
2012ء رؤف دینک تاش ، ترک قبرصی لیڈر ، سیاست دان، وکیل (پیدائش: 1924ء)
1955ء استاد بُندو خاں، 13 جنوری 1955ء کو کراچی میں مشہور موسیقار اور سارنگی نواز استاد بندو خان نے وفات پائی۔ استاد بندو خان 1880ء میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علی جان خان بھی سارنگی بجاتے تھے اور استاد ممّن خان، جنہوں نے سر ساگر ایجاد کیا ان کے ماموں تھے۔ استاد بندو خان نے سالہا سال اپنے ماموں سے سارنگی کے اسرار و رموز سیکھے پھر وہ ایک ملنگ میاں احمد شاہ کے شاگرد ہوئے جنہوں نے انتہائی شفقت اور محبت سے بندو خان کو اپنے علم کا سمندر منتقل کردیا۔قیام پاکستان کے بعد بندو خان پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔استاد بندو خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ریڈیو پاکستان کی سگنیچر ٹیون ایجاد کی، جو آج بھی ٹرانسمیشن کے آغاز میں بجائی جاتی ہے۔ ایک مختصر سی علالت کے بعد 13 جنوری 1955ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ کراچی میں آسودہ خاک ہوئے۔ استاد بندو خان کو ان کی وفات کے بعد 1959ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

No comments:
Post a Comment