Ad3

جنوری 14 تاریخ کے حوالے سے

آج سال کا 14واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 351 دن باقی ہیں ۔

 1539ء اسپین نے کیوبا پر قبضہ کیا۔

 1592ء مغل بادشاہ جہانگیر کے دوسرے بیٹے خرّم کی پیدائش جو آگے چل کر شاہ جہاں کے نام سے بادشاہ بنا۔

 1641ء متحدہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ملیشیا کی ملکا ریاست  کی راجدھانی ملکا شہر پر فتح حاصل کی۔ اس جنگ  میں 7000 افراد مارے گئے۔

 1659ء پرتگال نے ایلوس کی جنگ میں اسپین کو ہرایا۔

 1739ء انگلینڈ اور اسپین کے درمیان پاڈوں کے دوسرے  معاہدے پر دستخط کئے گئے۔

 1758ء انگلینڈ کے شنہشاہ کے حکم کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں جنگ میں جیتے گئے مالیہ اور دیگر اشیاء کو اپنے پاس رکھنے کا اختیار ملا۔

 1760ء فرانسیسی جنرل للی نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے پانڈیچیری کو برطانوی کیپٹن ایئرے ٹے کو سونپ دیا۔

 1761ء ہندوستان میں پانی پت کے مقام پر احمد شاہ ابدالی (درانی) کی زیر قیادت افغانیوں اور مرہٹوں کے درمیان جنگ لڑی گئی، جو پانی پت کی تیسری لڑائی کے نام سے مشہور ہے۔ اس لڑائی میں افغانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔

 1783ء امریکی کانگریس نے برطانیہ کے ساتھ امن معاہدے  کو منظوری دی۔

 1799ء نیپلس کے شاہ نے فرانسیسی فوج کے حملہ سے قبل ہی ملک چھوڑ دیا۔

 1873ء سلیولائڈ ایک ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹرڈ ہوا۔

1913ء پہلی بلقان جنگ میں یونانی فوجی نے ترکی کو شکست دی۔

 1929ء افغان شہنشاہ امان اللہ کو تخت سے دست بردار کر دیا گیا۔

 1938ء بھارتی رام کرشن مشن کے نئے بیلور مٹھ کا قیام عمل میں آیا۔

 1943ء اتحادی ممالک کے لیڈروں نے دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد بلا شرط خود سپردگی پر اتفاق رائے قائم کرنے کے لئے مراقش کے کاسا بلانکا میں کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں امریکہ صدر فرینکلن روزویلٹ نے حصہ لیا۔

 1949ء جنوبی افریقہ کے ڈربن میں نسلی فسادات میں 142 لوگ مارے گئے۔

 1953ء مارشل ٹیٹو یوگوسلاویہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

 1954ء مشہور اداکارہ مارلن منرو نے مشہور بیس بال کھلاڑی اور ریڈ کراس کے کارکن جوئے ڈی میگیو سے شادی کر لی۔ شادی کے نو مہینے بعد جوئے کا انتقال ہو گیا۔

 1964ء باپو ناڈکنی مسلسل 21 میڈن اوور پھینک کر  کرکٹ میں تاریخ بنائی۔

 1965ء آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے وزیر اعظم 43  برسوں میں پہلی بار ملے۔

 1967ء اٹلی کے سسلی جزیرہ میں زلزلہ سے 231 لوگوں کی موت ہوئی۔

 1969ء مدراس ریاست کا نام بدل کر تامل ناڈو رکھا گیا۔

 1974ء ورلڈ فٹبال لیگ کا قیام  عمل میں آیا۔

 1975ء روس نے امریکہ سے تجارتی معاہدے منقطع کئے۔

 1979ء اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے افغانستان پر روس کے حملہ کے بعد فوراََ افغانستان خالی کرنے کا حکم  دیا۔

 1980ء بھارتی حساب داں شکنتلا دیوی نے 13 عدد کی ضرب 28 سیکنڈ میں کر کے عالمی ریکارڈ بنایا۔

 1982ء بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے 20 نکاتی اقتصادی پروگرام نافذ کیا۔

 1982ء ایس زیڈ قاسم کی قیادت میں 21 ہندوستانی سائنسدانوں کا گروپ پہلی بار کامیابی سے اٹلانٹک پہنچا۔

 1986ء گواٹے مالا میں آئین کا نفاذ عمل میں آیا۔

 1989ء مملکت متحدہ میں ایک ہزار کے قریب مسلمانوں نے سلمان رشدی کے اسلام کے خلاف لکھے نازیبا کلمات نذر آتش کئے۔

 1994ء امریکی صدر کلنٹن اور روسی صدر بورس یلسن نے میزائل عدم پھیلاؤ کے معاہدہ کریملن پر دستخط کئے۔

 1998ء افغانستان کا طیارہ پاکستان کے جنوبی مغرب میں حادثہ کا شکار ہونے کی وجہ سے 50 مسافر ہلاک ہو گئے۔

 2002ء افغانستان گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد کابل میں بند پاکستانی سفارت خانہ کھول دیا گیا۔

 2005ء ورلڈ ٹریڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے دنیا بھر میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں ایک تہائی اضافے کا انکشاف کیا۔

 2005ء محمود عباس فلسطین کے صدر منتخب ہوئے، اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔

 2006ء ہند نژاد بابی جندل امریکہ کے لوسیانہ کے گورنر منتخب ہوئے۔

 2008ء کراچی کے علاقے قائد آباد میں بم دھماکا، 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔

 14 جنوری 1975ء کومشہور موسیقار، میڈیکل مشنری اور فلسفی ڈاکٹر البرٹ شوئیٹزر (Dr. Albert Schweitzer) کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جو ان کی تصویر سے مزین تھااور اس پر Dr. Albert Schweitzer 14 Jan 1875—4 Sept 1965کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن مختار احمدنے بنایا تھا اور اس کی مالیت 20پیسے تھی۔

 14جنوری2001ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے عظیم شاعروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا ایک ڈاک ٹکٹ حفیظ جالندھری کی یاد میں جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر حفیظ جالندھری کا ایک خوب صورت پورٹریٹ شائع کیا گیا تھا۔ دو روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں POETS OF PAKISTANاور HAFEEZ JALANDHRI کے الفاظ تحریر تھے۔

 14جنوری 2004ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے عظیم اہل قلم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا ایک ڈاک ٹکٹ پروفیسر احمد علی کی یاد میں جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرپروفیسر احمد علی کا ایک خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا۔ چار روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں MEN OF LETTERS اور PROFESSOR AHMED ALI 1910 1944   کے الفاظ تحریر تھے۔

 14 جنوری2005ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اسلام آباد میں علامہ اقبال اور رومانیہ کے نامور شاعرمیہاج امینیسکو  (Mihai Eminescu)  کی فنی مماثلت پر لکھی گئی کتاب DIALOGUE BETWEEN CIVILIZATIONS کی اشاعت اور اسلام آباد میں ان کی یادگار تعمیر ہونے کے موقع پردو یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن میں سے ایک پر پاکستان اور رومانیہ کے پرچم، علامہ اقبال اور میہاج امینیسکو اور ان کی یادگارکی تصاویراور دوسرے پر پاکستان اور رومانیہ کے پرچم، علامہ اقبال اورمیہاج امینیسکو کی تصاویر اور ان کی فنی مماثلت پر لکھی گئی کتاب DIALOGUE BETWEEN CIVILIZATIONS کے سرورق کا عکس شائع کیا گیا تھا۔ ان ڈاک ٹکٹوں میں سے ایک پر انگریزی میں IQBAL - EMINESCU MONUMENT ISLAMABAD SYMBOL OF PAKISTAN - ROMANIA FRIENDSHIP اور دوسرے پرعلامہ اقبال اورمیہاج امینیسکو کی تصاویر اور EMIL GHITULESCU UNIVERSAL VALUES OF ROMANIA AND PAKISTAN ALLAMA IQBAL AND MIHAI EMINESCU DIALOGUE BETWEEN CIVILIZATIONS کے الفاظ تحریرکیے گئے تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین اورپاکستان میں رومانیہ کے سفیر  Prof. Dr. Emil Ghitulescu نے ڈیزائن کیے تھے اور ان کی مالیت پانچ پانچ روپے تھی۔ اسلام آباد میں علامہ اقبال اورمیہاج امینیسکو کی اس یادگار کا سنگ بنیاد ایک برس پہلے 14 جنوری 2004ء کو Prof. Dr. Emil Ghitulescu نے رکھا تھا اور اس کا افتتاح 29اپریل 2004ء کو ہوا تھا۔

2013ء۔۔بلوچستان میں گورنر راج نافذ ہوا۔اسلم رئیسانی کی حکومت برطرف کر دی گئی ۔
۔

ولادت :
۔""""""

 82 قبل مسیح ، مارک انتھونی (Mark Antony) یا مارکوس انتونیوس (Marcus Antonius) ایک رومی سیاست دان اور جنرل تھا، جس نے رومی اشرافیہ کی رومی جمہوریہ کو مطلق العنان رومی سلطنت میں تبدیل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ (وفات: 30قبل مسیح)

 1551ء شیخ ابو الفضل علامی ابنِ مبارک ، مغلیہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے مترجم،  شاعر،  مؤرخ،  سیاست دان،  مصنف اکبر اعظم کے نورتنوں میں سے ایک ، شیخ مبارگ ناگوری کے بیٹے اور ابو الفضل فیضی کے چھوٹے بھائی (وفات: 1602ء)

 1773ء ولیم ایمہرسٹ ، برطانوی سیاستدان و سفارت کار اور نوآبادیاتی منتظم (ایڈمنسٹریٹر) ۔ وہ (یکم اگست 1823ء تا 13 مارچ 1828ء) 12واں گورنر جنرل فورٹ ولیم پریزیڈینسی (بنگال) (وفات: 1857ء)

 1861ء محمد سادس یا محمد وحید الدین ، سلطنت عثمانیہ کے (3 جولا‎ئی 1918ء تا 19 نومبر 1922ء) 36 ویں اور آخری فرمانروا (وفات: 1926ء)

 1875ء البرٹ شویتزر ، نوبل امن انعام (1952ء) یافتہ جرمن بعد میں فرانسیسی مفکر، فلسفی،  طبی مصنف،  استاد جامعہ،  نغمہ ساز، ماہر طبیعیات اور افریقا میں بطورمعالج رہے۔ (وفات: 1965ء)

 1905ء درگا کھوٹے ، بھارتی اداکارہ (وفات: 1991ء)

 1919ء  اطہر حسین رضوی بمعروف کیفی اعظمی ، بھارتی شاعر، نغمہ نگار، غنائی شاعر (وفات: 2002ء)

 1927ء عبد العزیز خالد ، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ، نقوش ایوارڈ اور آدم جی ادبی انعام یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، نقاد، مترجم اور سول سرونٹ (وفات: 2010ء)

 1928ء علی اکبر معین فر ، ایرانی سیاستدان (وفات:2018ء)

 1943ء ہالینڈ ٹیلر ،امریکی فلمی اداکارہ 

 1943ء رالف مارون سٹین مین ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (2011ء) یافتہ کینیڈین ماہر حیاتیات، ماہر مناعیات، طبیب، محقق، پروفیس ہ یہ انعام انھیں بعد از مرگ دیا گیا۔ (وفات: 2011ء)

1945ء اقبال حیدر ، پاکستانی کارکن انسانی حقوق، وکیل، سیاست دان ، ابق وفاقی وزیر برائے قانون و انسانی حقوق، سابق سینیٹر اور انسانی حقوق کمیشن کے سابق شریک چیئرمین۔ (وفات: 2012ء)

1945ء سرجیت پاتر ، بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے  پنجابی شاعر اور مصنف 

شاہجہاں کی ولادت بروز بدھ 30 ربیع الاول 1000ھ مطابق 14 جنوری 1592ء کو دارالسلطنت لاہور میں ہوئی۔شاہجہاں کی ولادت اُن کے دادا اکبر اعظم کی حکومت کے 36 ویں سال میں ہوئی۔ اُس وقت لاہور مغل سلطنت کا دارالسلطنت تھا اور مغل شہنشاہ اکبر اعظم 1586ء سے مع مغل شاہی خاندان کے یہیں مقیم تھا۔

 محمد یوسف 14 جنوری 1940ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد استاد لونگ خان بھی سندھ کے معروف لوک گلوکار تھے۔ ان کے خاندان میں کئی اور معروف موسیقار بھی پیدا ہوئے جن میں استاد زوار بسنت کا نام سرفہرست تھا۔ محمد یوسف نے موسیقی کی تربیت گوالیار گھرانے کے مشہور موسیقار استاد امید علی خان اوراستاد منظور علی خان سے حاصل کی۔ وہ سندھی غزل اور کافی گانے پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام گانے کے حوالے سے بھی بے حد معروف تھے۔ محمد یوسف نے اپنی گائیکی پر متعدد اعزازات حاصل کئے تھے جن میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھا۔ 14 فروری 1997ء کو سندھ کے معروف لوک گلوکار محمد یوسف کوٹری ضلع دادومیں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

 1860ء عبدالحلیم شرر، اردو ناول نگار اور صحافی

 1900ء حفیظ جالندھری، پاکستان کے قومی ترانے کے خالق۔ حفیظ جالندھری پنجاب کے مشہور شہر جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔ حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری نے یہ خوب صورت قومی ترانہ احمد جی چاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا اور حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔ حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں اورسوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر، گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا، پھول مالی اور بچوں کی نظمیں اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب چیونٹی نامہ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ حفیظ جالندھری نے 21 دسمبر1982ء کو لاہور میں وفات پائی۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔

*وفات*

 1898ء چارلز لٹویج ڈوجسن بمعروف لوئس کیرل ، ڈوجسن ایک انگریزی مصنف، ریاضی دان، منطق دان، انگریزی کلیسیا کے پادری اور عکاس (پیدائش: 1832ء)

 1977ء انتھونی ایڈین، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم

 1978ء گرٹ گوڈل ، آسٹروی امریکی منطق دان، ریاضی دان ، فلسفی و استاد جامعہ (پیدائش: 1906ء)

 2006ء شیلے ونٹرس، آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی اداکارہ (پیدائش: 1920ء)

 1851ء باجی راوَ رگھو ناتھ، مراٹھوں کے آخری پیشوا۔

 2012ء ارفع کریم، پاکستان کی بیٹی، کم عمر ترین آئی ٹی ماہر 16 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں۔ارفع کریم فیصل آباد کے ایک نزدیکی گاؤں رام دیوالی میں 2 فروری 1995ء کو پیدا ہوئیں ۔آپ کے والدامجد عبدالکریم رند ھاوا ایک آرمی آفیسر ہیں۔ارفع کریم رندھاوا مائیکروسافٹ کارپوریشن کی دعوت پر جولائی 2005 میں اپنے والد کے ہمراہ امریکہ گئیں ۔جہاں اسے دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کی سند دی گئی۔ارفع کریم جب بل گیٹس سے ملی تو اس کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان کا دوسرا رخ ۔ ارفع کریم کو پاکستان کے دوسرے چہرے کا نام دیا ۔ ایک روشن چہرے کا نام۔بل گیٹس نے ارفع کریم سے دس منٹ ملاقات کی۔اسکے علاوہ دبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین کی جانب سے دو ہفتوں کے لیے انہیں مد عو کیا گیا جہاں انہیں مختلف تمغا جات اور اعزازات د ئیے گئے ۔ارفع کریم نے دبئی کے فلائینگ کلب میں صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ اڑایا اور طیارہ اڑانے کا سرٹیفیکٹ بھی حاصل کیا ۔ارفع کریم کو 2005 میں اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ِ ” صدارتی ایوارڈ “” پرائڈ آف پرفارمنس” دیا گیا”مادرملت جناح طلائی تمغے” بھی عطا کیا گیا” سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ” سے بھی نوازا گیا ۔مائیکرو سافٹ نے بار سلونا میں منعقدہ سن 2006 کی تکنیکی ڈیولپرز کانفرنس میں پوری دنیا سے پانچ ہزار سے زیادہ مندوبین میں سے پاکستان سے صرف ارفع کریم کو مد عو کیا گیا تھا ۔حکومت نے بعد از مرگ لاہور کے ایک پارک اور کراچی کا آئی ٹی سینٹر ارفع کریم نام سے منسوب کر دیا علاوہ ازیں ان کے گاؤ ں کو بھی ارفع کریم کا نام دے دیا گیا ۔ارفع کریم کو 22 دسمبر، 2011ء کو مرگی کا دورہ پڑا، بعد میں طبیعت بگڑنے پر انہیں لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ کومے کی حالت میں رہیں اور 14 جنوری، 2012ء کی شب کو 16 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں

2018ء۔۔کراچی یونی ورسٹی کے پروفیسر اور متحدہ قومی موومنٹ لندن کے رہنما حسن ظفر کی تشدد زدہ لاش برامد

 14 جنوری 1994ء کو انگریزی اور اردو کے ممتاز ادیب، نقاد اور دانشور پروفیسر احمد علی کراچی میں وفات پاگئے۔ پروفیسر احمد علی یکم جولائی 1910ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا تھا۔ ان کا ایک افسانہ افسانوں کے مشہور اور متنازع مجموعے انگارے میں بھی شامل تھا۔ یہ وہی افسانوی مجموعہ ہے جس پر بعدازاں پابندی لگادی گئی تھی اور جسے اردو کی ترقی پسند تحریک کے آغاز کے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔ پروفیسر احمد علی انگریزی کی تصانیف میں ہماری گلی، شعلے اور قید خانہ کے علاوہ انگریزی زبان میں لکھی گئیں  Muslim China، Ocean of Night، The Golden Tradition، Twilight in Delhi اور Of Rats and Diplomats کے نام شامل ہیں۔ پروفیسر احمد علی نے قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ بھی کیا تھا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ قائداعظم کا اعزاز عطا کیا تھا۔ وہ کراچی میں گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

14 جنوری 1979ء کو پاکستان کے ممتاز کلاسیکی موسیقار اور گائیک استاد امید علی خان وفات پاگئے۔ وہ 1914ء میں امرتسر میں جنڈیالہ گرونامی گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔ استاد امید علی خان کا تعلق موسیقی کے مشہور گوالیار گھرانے سے تھا۔ اس گھرانے کا میاں تان سین سے براہ راست نسبی تعلق ہے۔ امید علی خان کے والد استاد پیارے خان اور دادا استاد میران بخش اپنے زمانے کے مشہور گائیک تھے۔ استاد امید علی خان نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی پھر پٹیالہ گھرانے کے استاد عاشق علی خان کے شاگرد ہوگئے۔ یہی سبب تھا کہ استاد امید علی خان کی گائیکی میں گوالیار اور پٹیالہ دونوں گھرانوں کی امتیازی خصوصیات جمع ہوگئی تھیں۔ استاد امید علی خان کے والد استاد پیارے خان ریاست خیرپور سے وابستہ ہوگئے تھے۔ استاد امید علی خان نے بھی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سندھ میں بسر کیا۔ ان کے شاگردوں میں استاد منظور حسین، فتح علی خاں اور حمید علی خان کے نام بہت نمایاں ہیں۔ استاد امید علی خان کا انتقال لاہور میں ہوا اور وہ وہیں آسودۂ خاک ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...