Ad3

جنوری 15 تاریخ کے حوالے سے

سال کا 15 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 350 دن باقی ہیں ۔

 1759ء مشہور زمانہ برٹش میوزیم کا افتتاح ہوا۔

 1784ء جسٹس اور ماہر لسانیت سر ولیم جونس اور سر وارین ہینسٹنگ نے کلکتہ میں بنگال ایشیاٹک سوسائٹی قائم کی۔

 1870ء امریکی سیاسی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی نے گدھے کو بطور انتخابی نشان پہلی بار استعمال کیا۔

 1915ء جاپان نے چین پر اقتصادی کنٹرول کا دعوی کیا۔

 1919ء جرمن فوجیوں نے کمیونسٹ لیڈر رزو لکزمبرگ اور  ان کے معاون کارل لائیو کنیچ کو گرفتار کرکے  گولی مار دی۔

 1922ء آئرلینڈ آزاد ملک بنا اور مائکل کولنس پہلے وزیر  اعظم منتخب ہوئے۔

 1934ء نیپال اور بھارت کے بہار کے کچھ حصوں میں آئے آٹھ اعشاریہ چار کی شدت کے زلزلہ سے 20 ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور تاریخی شہر منگیر پوری طرح تباہ ہو گیا۔

 1936ء پہلی بار اوہائیو میں شیشے سے ڈھکی ہوئی عمارت بنائی گئی۔

 1943ء دنیا کی سب سے بڑی آفس بلڈنگ پنٹاگون کی تکمیل مکمل ہوئی۔

1944ء یورپی ایڈوائزری کمیٹی نے جرمنی کو دو حصوں  تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔

 1949ء جنرل کے ایم کریپا بھارتی فوج کے پہلے سربراہ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا۔ اس وقت سے اس دن کو ’سینا دوس‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ (1986ء میں ریٹائرڈ کے ایم کریپا کو تاحیات فیلڈ مارشل بنایا گیا۔)

 1965 میں انڈین فوڈ کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا۔

 1971ء مصر میں اسوان باندھ کھولا گیا۔

 1973ء امریکی صدر رچرڈ نکسن نے پیرس میں امن  مذاکرات شروع ہونے کے بعد شمالی ویتنام پر حملے روکنے کا حکم جاری کیا۔

 1975ء پرتگال نے انگولا کی آزادی کے سمجھوتے پر دستخط کئے۔

 1978ء بھارت میں ایک آرڈی نینس جاری کر کے ایک ہزار روپے اور اس سے زیادہ قیمت کے نوٹوں کے چلائے جانے پر پابندی لگا دی۔

 1986ء پہلی بار انڈین ایر لائنز کے ایک کمرشیل مسافر  طیارہ نے پائلٹ اور عملہ کے سبھی خواتین ارکان کے ساتھ پرواز کی۔

 1990ء بلغاریہ کی پارلیمنٹ نے اقتدار پر کمیونسٹ پارٹی کی اجارہ داری کو ختم کر کے ملک میں کثیر جماعتی جمہوریت کا راستہ صاف کیا۔

 1992ء سلوانیا اور کروشیا کی آزادی کو یورپی کونسل نے منظوری دی۔

 1992ء بلغاریہ نے سانچہ :Country data مقدونیا کو تسلیم کیا۔

 2002ء اسلام آباد میں واقع سولہ منزلہ عمارت میں سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔

 2004ء عراق کے صدر صدام حسین کی تصویر والے کرنسی  نوٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

 2006ء چلے بیچلیٹ چلی کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔

 2008ء پاکستان میں آٹے اور گندم کی زبردست کمی، گھی، اور پیاز سمیت سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔

 15 جنوری 1971ء کو قائد اعظم کے مزار کی تعمیر پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی۔ اس موقع پر صدر مملکت جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ شیریں بائی کے ہمراہ قائد اعظم کے مزار پر حاضری دی جہاں ان کا استقبال پرنسپل اسٹاف آفیسر اور قائد اعظم میموریل بورڈ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم پیرزادہ نے کیا۔اس موقع پر جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے قائد اعظم کے مزار کا تفصیلی معائنہ کیا اور قائد اعظم اور ان کے رفقا کے مزارات پر فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے اعزازی مشیر تعمیرات انجینئر مسٹر ایم رحمن اور آرکیٹکٹ ایم اے احد کا شکریہ ادا کیا جن کی لگن اور توجہ سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ قائد اعظم کے مزار کا سنگ بنیاد 31 جولائی 1960ء کو اس وقت کے صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے رکھا تھا۔ اس کی تعمیر بڑی سست روی کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تاہم اس میں اس وقت تیزی آئی جب صدر محمد یحییٰ خان نے اپریل 1969ء میں اس کا معائنہ کیا اور لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم پیرزادہ کی سربراہی میں ایک بورڈ تشکیل دیا۔ قائد اعظم کے مزار پر تینوں مسلح افواج کے دستے باری باری پہرہ دیتے ہیں۔ مزار کی تعمیر کی تکمیل کے پہلے دن 15 جنوری 1971ء کو پاک بحریہ کے دستوں نے پہرہ دیا تھا۔  

 15 جنوری1972ء کو کتاب کے عالمی سال کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 20پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 9نومبر 1970ء کو اعلان کیا تھا کہ 1972ء کا سال کتاب کے عالمی سال کے طور پر منایا جائے گا.

 15 جنوری1972ء کو کتاب کے عالمی سال کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 20پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 9نومبر 1970ء کو اعلان کیا تھا کہ 1972ء کا سال کتاب کے عالمی سال کے طور پر منایا جائے گا.

 15جنوری 1980ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے مختلف مالیتوں کے سات عمومی ڈاک ٹکٹ جاری کیے جن پر مختلف جیومیٹریکل ڈیزائن شائع کیے گئے تھے ۔ ان عمومی ڈاک ٹکٹ کی مالیت10 پیسے سے 80پیسے تک تھی ۔ یہ ڈاک ٹکٹ سنگاپور کے طباعتی ادارے میسرز سیکورا پرائیویٹ لمیٹڈ، سنگاپور میں طبع ہوئے تھے اور اسی نسبت سے انھیں سنگاپور پرنٹ ڈیفینیٹوز کا نام دیا گیا تھا.

پاکستان اسٹیل اپنی نوعیت کا واحد اور سب سے بڑا ادارہ ہے جو پاکستان میں انجینئرنگ کی صنعت کو ایک پائیدار اور مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اسٹیل کا قیام سوویت یونین کے فنی تعاون سے عمل میں آیا تھا اور اس سلسلے میں بنیادی معاہدے پر 22 جنوری 1971ء کو دستخط ہوئے تھے۔ 30 دسمبر 1973ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس ادارہ کا سنگ بنیاد رکھا اور گیارہ سال کی شب و روز محنت کے بعد اس منصوبے کی تعمیر مکمل ہونے پر 15 جنوری 1985ء کو صدر ضیاء الحق نے  اس کا باقاعدہ افتتاح کردیا ۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 60پیسے اور ایک روپے مالیت کے دو خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری  کیے جن پرپاکستان اسٹیل کی بھٹی کی تصویریں اور پاکستان اسٹیل کا لوگو چھاپا گیا تھا  اور  INAUGRATION PAKISTAN STEEL کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں میں 60 پیسے مالیت کا ڈاک ٹکٹ ایم اے منور نے جبکہ ایک روپے مالیت کا ڈاک ٹکٹ جبیں سلطانہ نے ڈیزائن کیا تھا.

2018ء۔۔عراق کے دار الحکومت بغداد میں دو خود کش حملے ۔38 افراد جاں بحق 

 2001ء آن لائن انسائیکلو پیڈیا ویکی پیڈیا متعارف کرایا گیا۔

ولادت۔
1895ء۔۔ارٹوری المری ورٹنن(11 نومبر1973ء) ایک فن لینڈ کا کیمیا دان تھا۔ انہیں 1945ء میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔

1943ء۔۔۔۔۔۔۔اکبر صلاح الدین احمد جن کو عام طور پر اکبر ایس احمد بھی کہا جاتا ہے، ایک پاکستانی ماہر بشریات، فلمی قلمکار، سفیر، مسلمان عالم ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق وہ تحقیقی اعتبار سے اسلام پر عصرِ حاضر چند نمایاں لوگوں میں سے ایک ہیں۔ اُنہوں نے بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر شہرہ آفاق فلم جناح (فلم) میں قلمکاری کے جوہر دکھائے تھے

1955ء۔۔خالد احمد شوقی اسلامبولی مصر کے سابق صدر انور سادات کے قتل کے منصوبہ ساز اور قاتل تھے جنہوں نے 6 اکتوبر 1981ء کو "فتح 6 اکتوبر 1973ء کی پریڈ" میں مصری صدر کو قتل کیا۔ اپنے اس عمل کے باعث وہ دنیائے اسلام کی بنیاد پرست تنظیموں میں ہیرو اور عہد جدید کے پہلے شہید سمجھے جاتے ہیں۔منصوبے کے مطابق لیفٹیننٹ اسلامبولی اکتوبر پریڈ میں انور سادات کے قتل کے کام میں شریک نہیں ہونا تھا لیکن ایک افسر کی معذرت کے باعث متبادل کے طور پر ان کا انتخاب کیا گیا۔جب پریڈ کا آغاز ہوا تو اسلامبولی اور اس کے تین ساتھی اپنے ٹرک سے اترے اور گرینیڈ پھینکتے ہوئے سلامی کے چبوترے کی جانب دوڑنے لگے جہاں صدر انور سادات غیر ملکی شخصیات کے ساتھ موجود تھے۔ خالد اسلامبولی چبوترے میں داخل ہوئے اور اپنی رائفل کی تمام گولیاں انور سادات کے سینے میں اتار دیں اور نعرہ بلند کیا کہ "میں نے فرعون کو قتل کر دیا"۔صدر کے قتل کے فورا بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ لیفٹیننٹ خالد اور 23 دیگر منصوبہ سازوں پر مقدمہ چلایا گیا اور جرم کا مرتکب قرار دیا گیا جس کے بعد خالد اور 5 دیگر افراد کو 15 اپریل 1982ء کو سزائے موت دے دی گئی۔انور سادات کی جانب سے اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرنے اور سابق شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو سیاسی پناہ دینے پر ایرانی حکومت نے مصر سے اپنے تمام تعلقات منقطع کرلئے اور انور سادات کے قتل کے بعد 1981ء میں دار الحکومت تہران کی ایک مصروف سڑک کو خالد اسلامبولی سے موسوم کر دیا۔ ایران میں خالد کو شہید اور ہیرو کے طور پر پیش کرنا مصر۔ ایران تعلقات میں مزید خرابی کا باعث بنا۔تاہم مئی 2001ء میں عوام کے شدید احتجاج کے باوجود تہران سٹی کونسل نے مصر کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے سڑک کا نام تبدیل کرکے "انتفاضہ اسٹریٹ" رکھ دیا۔

1983ء۔۔۔۔۔يٰسین بھٹکل کا اصلی نام احمد ہے اور وہ ریاست کرناٹک کے رہنے والے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2008ء میں اپنے بھائی ریاض اور عبد السبحان قریشی کے ساتھ مل کرانڈین مجاہدین تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ انھیں اگست 2013ء میں گرفتار کیا گیا۔

1929ء۔۔۔۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ( Martin Luther King, Jr) (پیدائش: 15 جنوری 1929ء اٹلانٹا - وفات: 4 اپریل 1968ء میمفس) ایک امریکی پادری، حقوق انسانی کے علمبردار اور افریقی-امریکی شہری حقوق کی مہم کے اہم رہنما تھے۔ آپ نے امریکا میں یکساں شہری حقوق کے لیے زبردست مہم چلائی۔ کم از کم دو مسیحی گرجاؤں نے کنگ کو شہید کا درجہ دیا۔ انہوں نے 1955ء کے منٹگمری بس مقاطعہ کی قیادت کی اور 1957ء میں جنوبی مسیحی قیادت اجلاس کے قیام میں مدد دی اور اس کے پہلے صدر بنے۔ کنگ کی کوششوں کے نتیجے میں 1963ءمیں واشنگٹن کی جانب مارچ کیا گیا، جہاں کنگ نے اپنی شہرۂ آفاق "میرا ایک خواب ہے" (I Have a Dream) تقریر کی۔ انہوں نے شہری حقوق کی مہم کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا اور امریکا کی تاریخ کے عظیم ترین مقررین میں سے ایک کی حیثیت سے اپنی شناخت مستحکم کی۔

1958ء۔۔۔ڈاکٹر عبد المالک بلوچ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے۔15 جنوری 1958ء کو ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے بلوچستان کے علاقے تربت میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بچپن میں ابتدائی تعلیم روایتی انداز سے حاصل کی مسجد میں قرآن پاک پڑھا۔ 1975ء میں آپ نے انٹر سائنس کیا۔ اچھے نمبر آنے پر آپ کو بولان میڈیکل کالج، کوئٹہ میں داخلہ مل گیا۔1982ء میں آپ نے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا۔1987ء میں آپ نے قوم پرست رہنما، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچکے ساتھ مل کر نئی سیاسی جماعت، بلوچ نیشنل موومنٹکی بنیاد رکھی۔ اسی اتحاد سے آپ نے الیکشن لڑا اور صوبائی امیدوار بننے میں کامیاب رہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان"محمد اکبر خان بگٹی"نے آپ کو وزیر صحت بنایا اس حیثیت سے آپ نے اسپتال قائم کیے۔ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ 2008ء تا 2012ء سینٹ کے رکن بھی رہے۔

1935ء۔۔۔۔شمس الرحمٰن فاروقی اردو ادب کے مشہور نقاد اور محقق۔انہوں  نے تنقید نگاری سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ انہوں نے الہ آباد سے ’شب خون‘ کا اجرا کیا جسے جدیدیت کا پیش رو قرار دیا گیا۔ اس رسالے نے اردو مصنفین کی دو نسلوں کی رہنمائی کی۔ فاروقی صاحب نے شاعری کی، پھر لغت نگاری اور تحقیق کی طرف مائل ہو گئے۔ اس کے بعد افسانے لکھنے کا شوق چرایا تو “شب خون“ میں فرضی ناموں سے یکے بعد دیگرے کئی افسانے لکھے جنہیں، بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ تین سال قبل انہوں نے ایک ناول لکھا، ‘کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ جسے عوام و خواص نے بہت سراہا۔ اس کے علاوہ انہیں عام طور پر اردو دنیا کے اہم ترین عروضیوں میں سے ایک گردانا جاتا ہے۔ غرض یہ اردو ادب کی تاریخ میں شمس الرحمٰن فاروقی جیسی کثیر پہلو شخصیت کی نظیر ملنا مشکل ہے۔انہوں نے کوئی چالیس سال تک اردو کے مشہور و معروف ادبی ماہنامہ “شب خون“ کی ادارت کی اور اس کے ذریعہ اردو میں ادب کے متعلق نئے خیالات اور برصغیر اور دوسرے ممالک کے اعلی ادب کی ترویج کی۔ شمس الرحمن فاروقی نے اردو اور انگریزی میں کئی اہم کتابیں لکھی ہیں۔ خدائے سخن میر تقی میر کے بارے میں ان کی کتاب 'شعر شور انگیز' جوچار جلدوں میں ہے، کئی بار چھپ چکی ہے اوراس کو 1996ء میں سرسوتی سمّان ملا جو برصغیر کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ کہا جاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے تنقید، شاعری، فکشن، لغت نگاری، داستان، عروض، ترجمہ، یعنی ادب کے ہر میدان میں تاریخی اہمیت کے کارنامے انجام دیے ہیں۔ انہیں متعدد اعزاز و اکرام مل چکے ہیں جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اعزازی ڈگری ڈی لٹ بھی شامل ہے۔

 1876ء سعودی حکمران عبدالعزیز ابن عبدالرحمن الفصیل السعود

 1918ء  جمال عبدالناصر، سابق مصری صدر

 15 جنوری 1929ء پاکستان کے مشہور صوفی دانشور، شاعر، ادیب اور کالم نگار واصف علی واصف کی تاریخ پیدائش ہے۔ واصف علی واصف خوشاب میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے مکالموں اور گفتگو کے متعدد مجموعے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں جو بے حد مقبول ہوئے ہیں۔ ان کی نثری تصانیف میں کرن کرن سورج، قطرہ قطرہ قلزم، حرف حرف حقیقت، دل دریا سمندر، بات سے بات، دریچے، ذکر حبیب، مکالمہ اور گفتگو شامل ہیں جبکہ ان کے شعری مجموعے شب چراغ، شب زاد اور بھرے بھڑولے کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے ہیں۔ واصف علی واصف 18 جنوری 1993ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔  

وفات۔

2010ء۔۔مارشل وارن نارنبرگایک امریکی حیاتیاتی کیمیاء دان اور جینیٹکس تھے جنھوں نے 1968 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔

1998ء۔۔۔گلزاری لال نندا ایک بھارتی سیاستدان اور ماہر اقتصادیات تھے۔ گلزاری لال نندا کو مزدوروں کے مسائل سے خصوصی دلچسپی تھی۔ انہیں 1997ء میں بھارت کا اعلی ترین شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا۔ 1966ء میں جواہر لعل نہرو اور 1964ء میں لال بہادر شاستری کی وفات کے بعد مختصر مدت کے لیے بھارت کے وزیر اعظم بنائے گئے تھے۔

1994ء۔۔شان میک برائیڈ آئر لینڈ کے ایک حکومتی وزیر،او راہم عالمی سیاستدان تھے جن کی امن کی خدمات کودیکھ کر1974ء میں انھیں نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا

1919ء۔۔۔روزا لکسمبرگ، جن کا مکمل نام روزالہ لکسمبرگ تھا، 5مارچ 1871ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ مارکس کے نظریہ سے متاثر تھیں اور ایک فلسفی، ماہر معاشیات اور پولینڈ کییہودی تحریکوں کی کارکن تھیں، جو بعد میں ایک جرمن شہری بھی رہیں۔ روزا لکسمبرگ پولینڈ اور لیتھویانا کی سماجی جمہوریت، جرمن سماجی و جمہوری پارٹی،جرمنی کی سماج و جمہور پارٹی اور جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی کی کارکن رہیں

 1977ء رشید احمد صدیقی، مضمون نگار اور نقاد

 2006ء شیخ جابر الاحمد الصباح، کویتی حکمراں


  ٭15 جنوری 1996ء کو اردو کے ممتاز شاعر اور ذاکر اہل بیت محسن نقوی لاہور میں نامعلوم قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ محسن نقوی کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بہائو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے اردو میں ایم اے کیااور کم و بیش اسی زمانے میں ان کی شاعری اور ذاکری کا آغاز ہوا۔ محسن نقوی کا شمار اردو کے خوش گو شعرا میں ہوتا ہے ان کے شعری مجموعوں میں بندقبا، ردائے خواب، برگ صحرا، موج ادراک، ریزہ حرف، عذاب دید، طلوع اشک، رخت شب، فرات فکر، خیمہ جاں اور میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی شامل ہے۔ 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ڈیرہ غازی خان میں آسودۂ خاک ہیں۔

2017ء۔۔شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کا آبائی تعلق پاکستان کے آزاد قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی سے ہے ان کے آبا و اجداد پاکستان کی آزادی سے قبل انڈیا منتقل ہو گئے حضرت شیخ نے دینی علوم حاصل کرنے کے لئے دارالعلوم دیوبند ہندوستان میں داخلہ لیا پاکستان کے جس علاقے سے ہندوستان منتقل ہوئے آج وہ علاقہ خیبر ایجنسی میں تیراہ کے قریب چورا کہلاتا ہے۔ آپ 25 دسمبر 1926ء کو ہندوستان کے ضلع مظفر نگر کے مشہور قصبہ حسن پورلوہاری کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے، آپ کا تعلق (آفریدی پٹھانوں) کے ایک خاندان ملک دین خیل سے ہے۔آپ نے ابتدائی تعلیم حضرت حکیم الامت کے مشہور خلیفہ مولانا مسیح الله خان صاحب کے مدرسہ مفتاح العلوم میں حاصل کی۔ 1942ءء میں آپ اپنے تعلیمی سلسلے کی تکمیل کے لیے ازہر ہند، دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے، جہاں آپ نے فقہ، حدیث و تفسیر و دیگر علوم وفنون کی تکمیل کی اور1947ء میں آپ نے امتیازی نمبرات کے ساتھ سند فراغت حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے علاقے میں موجود اپنے استاذ مربی حضرت مولانا مسیح الله خان صاحب رحمہ الله علیہ، خلیفہ خاص حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی زیر نگرانی مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد میں تدریسی وتنظیمی امور انجام دینے شروع کیۓ۔ ۔ مدرسہ مفتاح العلوم میں آٹھ سال کی شبانہ روز محنتوں کے بعد حضرت شیخ الحدیث مدظلہ، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمة الله علیہ کی قائم کردہ پاکستان کی مرکزی دینی درس گاہ دارالعلوم ٹنڈوالہ یار سندھ میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے پاکستان تشریف لے آئے۔ تین سال یہاں پر کام کرنے کے بعد آپ ملک کے معروف دینی ادارے دارالعلوم کراچی میں تشریف لائے اور پھر مسلسل دس سال دارالعلوم کراچی میں حدیث ، تفسیر، فقہ، تاریخ ، ریاضی ، فلسفہ اور ادب عربی کی تدریس میں مشغول رہے ، قدرت نے آپ کی فطرت میں عجیب دینی جذبہ ودیعت فرمائی تھی جس کے باعث آپ شب وروز کی مسلسل اور کامیاب خدمات کے باوجود مطمئن نہیں تھے اور علمی میدان میں ایک نئی دینی درس گاہ ( جو موجودہ عصری تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہو) کی تاسیس کو ضروری خیال فرماتے تھے۔ چناں چہ23 جنوری1967ء مطابق شوال1387ھ میں آپ نے جامعہ فاروقیہ کراچی کی بنیاد رکھی۔  حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے 1980ء میں آپ کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا آپ نے وفاق کی افادیت اور مدارس عربیہ کی تنظیم وترقی اور معیار تعلیم کے بلندی کے لیے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ وفاق کی تاریخ میں ایک قابل ذکر روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔آپ نے وفاق کے طریقہ امتحانات کو بہتر شکل دی ، بہت سی بے قاعدگیاں پہلے ان امتحانات میں ہوا کرتی تھیں انہیں ختم کیا۔ ۔آپ کی تدریسی تاریخ تقریباً نصف صدی پر محیط ہے، بے شمار لوگ آپ کے چشمہٴ فیض سے سیراب ہوئے ہیں،آپ کے صحیح البخاری کے دروس کشف الباری اور مشکوٰة المصابیح کے لیے آپ کی تقاریر نفحات التنقیح کے نام سے شائع ہو کر علماء وطلبا میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں، اب تک (سن2007) کشف الباری کی 12 جلدیں اور نفحات التنقیح کی تین جلدیں منصہ شہود پر آچکی ہیں جب کہ بقیہ جلدوں پر کام جاری ہے۔ آپ کا انتقال  15 جنوری 2017 کو ہوا۔

تعطیلات و تہوار

 بھارت میں ’سینا دوس‘ یعنی یوم افواج منایا جاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...