1493ء مہم جو کرسٹوفر کولمبس اپنے سفر سے واپس اسپین پہنچے۔
1681ء مراٹھا حکمراں شیواجی کے بیٹے سامبھا جی رائے گڑھ کے قلع میں تخت نشیں ہوئے۔
1757ء جرمنی کا روس سے اعلان جنگ ۔
1759ء لندن میں برٹش میوزیم کھلا۔
1777ء ویرمونٹ نے نیویارک سے آزادی کا اعلان کیا۔
1870ء خانہ جنگی کے بعد ورجینا امریکہ کی آٹھویں ریاست بنا۔
1913ء برطانوی پارلیمنٹ کے ہاوَس آف کامنس نے آئرلینڈ کے لئے روم رول کو منظوری دی۔
1914ء نامور روسی ادیب میکسم گوکی واپس آئے۔
1920ء لیگ آف نیشن کی پہلی میٹنگ پیرس میں ہوئی۔
1943ء روس میں لال فوج نے اسٹالن گراڈ کے پتامنک ہوائی اڈے پر دوبارہ قبضہ کیا۔
1945ء سوویت فورسز نے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا پر قبضہ کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
1946ء اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔
1948ء نیدرلینڈز اور انڈونیشیا جنگ بندی پر رضامند ہوئے۔
1950ء بیلجیم کزمبرگ اور نیدرلینڈ نے اسرائیل کو تسیلم کیا۔
1951ء چین نے کوریا سے جنگ بندی سے انکار کیا۔
1953ء مصر کے وزیر اعظم نجیب نے تمام جماعتوں پر پابندی لگائی۔
1955ء بھارتی شہر پنے کے کھڑ گواسلا میں فوجی تربیت اکیڈمی باضابطہ طور پر شروع ہوئی۔
1956ء مصر کے صدر ناصر نے فلسطین کو دوبارہ جیتنے کی اپیل کی۔
1965ء سوویت یونین (یو ایس ایس آر) نے ایٹمی تجربہ کیا۔
1967ء بہاماس میں پہلی بار سیاہ فام حکومت بنی۔
1970ء کرنل معمر قذافی لیبیان کے وزیر اعظم بنے۔
1978ء خلائی گاڑی سوئز 27 زمین پر واپس آئی۔
1979ء ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی نے مصر میں پناہ حاصل کی۔
1991ء امریکہ اور 27 حلیفی ممالک کی فوجوں نے کویت سے عراق کو نکالنے کے لئے ’آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم‘ شروع کیا۔
1994ء امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں شدید زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی ۔ زلزلے کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک ہوئے جبکہ شہر کو تیس بلین کا مالی نقصان ہوا۔
1995ء جاپان کے شہر کوبے میں ہولناک زلزلہ، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر سات اعشاریہ تین ریکارڈ کی گئی ۔ زلزلے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مالی نقصان ہوا جبکہ 6434 افراد لقمہ اجل بنے۔
2002ء اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے القاعدہ پر پابندی لگائی۔
2003ء فلوریڈا کے خلائی مرکز سے کولمبیا خلائی جہاز روانہ ہوا۔
2005ء رومانیہ کی 66 سالہ خاتون اڈریانا ایلسکیو بچی کو جنم دے کر سب سے معمر ترین ماں بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
2006ء ایلین جانسن سرلیف نے کلائبریا کے نئے صدر کے طور پر حلف لیا۔
2006ء ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایران میں امریکی چینل سی این این پر پابندی لگا دی، سی این این نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے احمدی نژاد کے ایک بیان کا غلط ترجمہ کیا تھا، احمدی نژاد نے اپنے بیان میں ایران کے جوہری توانائی کے حق کا دفاع کیا تھا، جبکہ مترجم نے جوہری توانائی کی جگہ جوہری ہتھیار کا لفظ استعمال کیا تھا۔
2006:۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی اسکورمیچ ڈرا ہوا
پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور میں کھیلا جانے والا میچ رنز کے دریا بہا کر ڈرا ہوگیا اس میں پاکستان نے 7 وکٹ پر 679 رنز بناکر اننگز ڈیکلیئرڈ کی اس میں یونس خان نے 199 ، محمد یوسف نے 173، شاہد آفریدی نے 103 اور کامران اکمل نے 102 رنز اسکور کئے۔ اس روز بھارت کے اوپنرز ملکی ریکارڈ توڑنے کے قریب پہنچنے والے تھے وہ ریکارڈ جوکہ پنکج راج اور وینو مینکنڈ نے 50 برس قبل 412 رنز بناکر قائم کیا تھا مگر کھیل کے اختتام پر سہواگ اور ڈریوڈ اس ریکارڈ سے صرف 9 رنز پیچھے تھے آخری روز قسمت نے اپنا فیصلہ سنایا جب دھند کی وجہ سے صرف 14 بالز کا کھیل ہی ممکن ہوسکا اور اس میں بھی 410 کے مجموعی اسکور پر وریندرسہواگ 254 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور میں کھیلا جانے والا میچ رنز کے دریا بہا کر ڈرا ہوگیا اس میں پاکستان نے 7 وکٹ پر 679 رنز بناکر اننگز ڈیکلیئرڈ کی اس میں یونس خان نے 199 ، محمد یوسف نے 173، شاہد آفریدی نے 103 اور کامران اکمل نے 102 رنز اسکور کئے۔ اس روز بھارت کے اوپنرز ملکی ریکارڈ توڑنے کے قریب پہنچنے والے تھے وہ ریکارڈ جوکہ پنکج راج اور وینو مینکنڈ نے 50 برس قبل 412 رنز بناکر قائم کیا تھا مگر کھیل کے اختتام پر سہواگ اور ڈریوڈ اس ریکارڈ سے صرف 9 رنز پیچھے تھے آخری روز قسمت نے اپنا فیصلہ سنایا جب دھند کی وجہ سے صرف 14 بالز کا کھیل ہی ممکن ہوسکا اور اس میں بھی 410 کے مجموعی اسکور پر وریندرسہواگ 254 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔
2008ء جنوبی وزیرستان میں پیراملٹری فورسز پر 400 جنگجوؤں کا حملہ قلعہ سرہ روغہ پر قبضہ، 8 اہلکار شہید، 20 لا پتہ، 50 جنگجو ہلاک ہو گئے۔
2016ء تسائی انگ ون، تائیوان کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔
16جنوری2007ء کوکراچی میونسپل کارپوریشن کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے دس روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر کراچی میونسپل کارپوریشن کی خوبصورت عمارت کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں Karachi City Council PLATINUM JUBILEE CELEBRATION KMC Bldg. (1932-2007) کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن فیضی امیر صدیقی نے تیار کیا تھا.
16 جنوری 2017۔ﻗﻮﻣﯽ ﭨﯿﻢ ﮐﮯ ﺁﻝ ﺭﺍﺅﻧﮉﺭﻣﺤﻤﺪ ﺣﻔﯿﻆ ﻧﮯ ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﮐﯿﺨﻼﻑ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻭﻥ ﮈﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ 33 ﺳﺎﻝ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻣﻠﮑﯽ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ۔ﭘﮩﻠﮯ ﻭﻥ ﮈﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻇﮩﺮ ﻋﻠﯽ ﮐﮯ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﯽ ﺳﯽ ﺑﯽ ﻧﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻔﯿﻆ ﮐﻮ ﭨﯿﻢ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﺳﻮﻧﭙﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻭﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻭﻥ ﮈﮮ ﮐﺮﮐﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﺘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮈﯾﺒﯿﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻌﻤﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻗﺎﺋﺪ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻔﯿﻆ ﮐﻮ 36ﺳﺎﻝ ﺍﻭﺭ 90ﺩﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﺘﺎﻧﯽ ﻣﻠﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ 1984ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺑﻖ ﻓﺎﺳﭧ ﺑﺎﺋﻮﻟﺮ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﻧﻮﺍﺯ ﻧﮯ 35ﺳﺎﻝ 116ﺩﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﻨﺒﮭﺎﻻ ﺗﮭﺎ۔
ولادت
1946ء۔۔کبیر بیدی۔ ایک بھارتی ٹیلی ویژن اور فلم اداکار ہے
1927ء۔۔کامنی کوشل۔بھارتی اداکارہ
1969ء۔۔۔۔۔۔حنا دلپذیر خان ایک پاکستانی اداکارہ ہیں جو زیادہ تر ٹی وی ڈراموں میں کام کرتی ہیں۔مشہور ڈراموں میں بلبلے میں بطور مو مو اور قدوسی صاحب کی بیوا(ڈراما ) میں متعدد کردار ادا کیے مگر شکورن آپا کا کردار مرکزی تھااور شکورن آپا کا دوسرا نام "قدوسی صاحب کی بیوا" تھا۔جو کے ڈرامے کا نام بھی تھا
1930ء۔۔۔استاد بخاری (وفات: 9 اکتوبر، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے بڑے مقبول شاعر ہیں۔ ادبی خدمات پر حکومت پاکستان نے 2009ء میں اسے تمغائے حُسن کارکردگی دیا۔ اس بڑے شاعر کا اصل نام سید احمد شاہ ولد حاجن شاہ بخاری ہے
1920ء نینی پالکھی والا، بھارتی ماہر قانون
1941ء اشوک واجپئی، بھارتی نقاد اور ہندی شاعر
1979ء۔آلیہ ڈایانا ہیڈون۔انگلش فلم رومیو مسٹ ڈائی کی ہیروئین۔25 اگست 2001 کو ایک طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئی ۔
1985ء۔۔سدھارتھ ملہوترا ۔student of the year کا ہیرو۔
1952ء۔۔شاہ فواد دوم ۔مصر اور سوڈان کا آخری بادشاہ تھا۔ شاہ فاروق اول کو 1952 کے مصری انقلاب میں اقتدار سے محروم کر کے ان کے نومولود بیٹے شاہ فواد دوم کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔
1928ء۔۔قیصر بارہوی کا شمار پاکستان کے ممتاز مرثیہ نگاروں میں ہوتا ہے
1982ء۔۔قیصر جمال پاکستانی سیاست دان ہیں۔ وہ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔انہوں نے پاکستان عام انتخابات، 2013ء میں فاٹا کے حلقہ این اے۔47 (NA-47 (Frontier Regions))میں پاکستان تحریک انصاف سے انتخاب میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی
1969ء۔۔۔قاسم خان سوری ایک پاکستانی سیاست دان جو پاکستان قومی اسمبلی کے رکن اور موجودہ نائب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان ہیں۔وہ 16 جنوری 1969ء کو کوئٹہ کے خلجی پشتون خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا طب کا کاروبار تھا جو 1997ء میں والد کی وفات کے بعد قاسم نے سنبھالا۔قاسم نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ اسلامیہ اسکول سے حاصل کی اور 1988ء کو فیڈرل گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ انہوں نے سنہ 1990ء میں سیاسیات میں بیچلر کی سند اور 1992ء میں بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی سند، دونوں جامعہ بلوچستان سے حاصل کی۔قاسم 1996ء سے پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ہیں لیکن سنہ 2007ء سے فعال رکن بنے۔وہ پاکستان کے عام انتخابات، 2013ء میں حلقہ این 259 (کوئٹہ) سے قومی اسمبلی پاکستان کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے، لیکن ناکامیاب رہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں 16,006 ووٹ حاصل کیے اور نشست ہار گئے۔وہ پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء میں حلقہ این 256 (کوئٹہ-2) سے قومی اسمبلی پاکستان کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے اور رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 25,973 ووٹ پائے اور نوابزادہ لشکری رئیسانی کو شکست دی۔انتخابات میں قاسم کی کامیابی کے بعد، پی ٹی آئی نے ان کو 13 اگست 2018ء کو قومی اسمبلی پاکستان کا ڈپٹی اسپیکر نامزد کیا۔ 15 اگست 2018ء کو وہ نائب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان منتخب ہوئے۔ انہوں نے 183 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل اسد محمود کو شکست دی
1994ء۔۔فہیم اشرف ایک پاکستانی کرکٹر ہے جو فرسٹ کلاس کرکٹ میں حبیب بینک لمیٹڈ کے لیے کھیلتا ہے۔
1980ء۔۔سیدو کیٹا (seydou keita) مالی فوٹبالر ہے جو چین سپر لیگ میں دالیان اربن فٹ بال کلب کے لیے کھیلتا ہے
1821ء۔۔۔جان سی بریکنریج (انگریزی: John C. Breckinridge) ایک امریکی سیاست دان تھا
1926ء۔۔او پی نیر۔۔بالی وڈ کے مشہور موسیقار تھے۔ وہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ موسیقی کے جنون نے انہیں تعلیم مکمل کرنے نہیں دی۔ اپنا کیریر انہوں نے آل انڈیا ریڈیو جالندھر سے شروع کیا۔ فلموں میں پہلے انہوں نے پس منظر موسیقی دی اور اس کا موقع انہیں ’کنیز‘ فلم سے ملا۔ لیکن جب انہوں نے فلموں میں موسیقی دینی شروع کی تو لوگوں کو مسحور کر دیا۔گرودت کی فلم ’ آرپار‘ سے لوگوں نے انہیں پہچانا۔ اس فلم کے نغمے بہت مقبول ہوئے۔ فلم ’تم سا نہیں دیکھا‘، ’ہاوڑا برج‘، ’مسٹر اینڈ مسز 55‘، ’کشمیر کی کلی‘، ’میرے صنم‘، ’سونے کی چڑیا‘، ’پھاگن‘، ’باز‘، ’ایک مسافر ایک حسینہ‘ ان کی چند فلمیں تھیں جن کے نغمے جاوداں بن گئے۔ ’اڑیں جب جب زلفیں تیری‘، ’بابو جی دھیرے چلنا‘ اور ’لے کے پہلا پہلا پیار‘ جیسے نغموں نے عوام میں بہت مقبولیت حاصل کی۔اس کے بعد تو ان کے پاس فلموں کی لائن لگی لیکن وہ ایک سال میں ایک ہی فلم کے لیے موسیقی دیتے تھے۔ کام کے تئیں اس لگن کی وجہ تھی کہ آج بھی ان کے نغمے لوگ گنگناتے ہیں۔ مسٹر نیر نے لتا منگیشکر سے کبھی کوئی گیت نہیں گوایا تھا۔ اسی لیے آشا بھوسلے اور گیتا دت کو وہ گیت ملے جو ان کی اپنی زندگی کے یادگار نغمے بنے۔ مرحوم گلوکار محمد رفیع نیر صاحب کے چہیتے تھے۔ انہوں نے اپنے زیادہ نغمے رفیع سے ہی گوائے۔ حالانکہ انہوں نے مکیش اور مہیندر کپور کو بھی موقع دیا۔ ’نیا دور‘ ان کی وہ فلم تھی جس میں موسیقی دینے کے لیے انہیں 1957 میں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وفات
1794ء۔۔ایڈورڈ گبن (پیدائش: 27 اپریل، 1737ء) ایک انگریز مؤرخ،مستشرق اور رکن پارلیمان تھے۔ گبن کو جدید تاریخ نگاری کا بانی کہا جاتا ہے۔
1915ء۔۔نواب سر خواجہ سلیم اللہ بہادر چوتھے نواب ڈھاکہ اور برطانوی راج کے دوران معروف مسلم سیاست دانوں میں سے ایک تھے۔ آپ 07 جون 1871 کو احسان منزل ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔30 دسمبر 1906ء کو مسلم لیگ کا باضابطہ قیام محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کے دوران ڈھاکہ میں ہوا۔ اجتماع احسان منزل میں منعقد ہوا جو نواب ڈھاکہ رسمی رہائش گاہ بھی تھی اور جائے پیدائش بھی۔آپ 16 دسمبر 1901 سے 16 جنوری 1915 تک نواب ڈھاکہ رہے۔آپ کا انتقال 16 جنوری 1915 کو کلکتہ میں ہوا۔
1595ء۔۔مراد ثالث (پیدائش: 4 جولائی 1546ء) 1574ء سے اپنی وفات تک سلطنت عثمانیہ کا حکمران رہا۔ مراد ثالث ایک کمزور، عیش پرست و جاہ پسند حکمران تھا جو حرم کے زیر اثر تھا جہاں پہلے اس کی والدہ نور بانو سلطان اور پھر اس کی پسندیدہ بیوی صفیہ سلطان کا زور چلتا تھا۔ اس کے دور میں امور سلطنت چلانے میں اہم کردار معروف عثمانی صدر اعظم محمد صوقوللی پاشا کے ہاتھوں میں تھاجو اکتوبر1579ء میں اپنے قتل تک اس عہدے پر فائز رہے اور عثمانی سلاطین کی کمزوری کا اثر سلطنت پر نہ پڑنے دیا۔ مراد ثالث کے دور میں ایران اور آسٹریا کے ساتھ کئی جنگیں لڑی گئیں۔ اس کا دور عثمانی معیشت اور اداروں کی تنزلی کا دورِ آغاز تھا
1901ء گوند راناڈے، ہندوستانی ماہر تعلیم
1924ء کمارن آسو، ہندوستانی سماجی مصلح اور ملیالی شاعر
1933ء شرد چندر چٹرجی، بنگالی ادیب اور ناول نگار
1938ء شرط چندر چٹو پادھیائے بنگالی ناول نگار
1954ء بابو راوو پینٹر، بھارتی مجسمہ ساز، اداکار اور فلم ڈائرکٹر
1988ء ایل کے جھا، بھارتی ماہر اقتصادیات اور راجیہ سبھا کے ممبر
1989ء پریم نظیر، ملیالم فلموں کے ممتاز اداکار
1990ء ڈاکٹر آر آر دیواکر، بھارتی گاندی نواز اور سابق مرکزی وزیر
1997ء ٹریڈ یونین کے لیڈر ڈاکٹر دتہ سامنت کو قتل کر دیا گیا۔
16 جنوری 1981ء کو پاکستان کے ہاکی کے نامور کھلاڑی علی اقتدار شاہ دارا کراچی میں وفات پاگئے۔ علی اقتدار شاہ دارا یکم اپریل 1915ء کو لائل پور (موجودہ نام: فیصل آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ 1936ء کے برلن اولمپکس میں انہوں نے غیر منقسم ہندوستان کی نمائندگی کی اور فائنل میں جرمنی کے خلاف ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1948ء کے لندن اولمپکس میں انہیں پاکستان کی قیادت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ اختر حسین اور لطیف الرحمن سمیت دنیائے ہاکی کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اولمپکس میں بھارت اور پاکستان، دو ممالک کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا تھا۔ علی اقتدار شاہ دارا نے پاکستانی ٹیم کے کوچ اور منیجر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے نائب صدر بھی رہے۔ وہ لاہور میں شاہ جمال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
تعطیلات و تہوار
1920ء جارجیا نے آزادی کا اعلان کیا۔

No comments:
Post a Comment