کریلوں کے فائدے پہلے چین اور انڈیا کے طبیبوں نے دریافت کئیے تھے۔ یہ مشاہدہ سب سے پہلے کس کا تھا وہ اس وقت طے کرنا تو مشکل ہے لیکن اس موضوع پر کافی ریسرچ ہوئی ہے جس کا لب لباب مندرجہ ذیل ہے۔
چین میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق، کریلے کا بالکل باریک پاؤڈر بنا کر اسے مریضوں کو پانچ ہفتے تک دیا گیا تو ان کی بلڈ شوگر 21 ملی گرام فی ڈیسی لٹر سے کم ہوکر 12 گرام فی ڈیسی لٹر ہوگئی۔اور خون میں انسولین کا لیول بھی 40 سے گر کر 30 ہوگیا۔ اس کے علاوہ لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔1
انڈیا میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق جب چوہوں کی جلد پر کریلے سے تیار کئیے گئے چپکنے والے پلاسٹک کے پیس لگائے گئے تو دیکھا گیا کہ ان چوہوں کے خون میں شوگر کی مقدار کم ہو گئی۔2
کریلوں کے باقاعدہ استعمال سے بلڈ شوگر قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے ذیابیطس سے ہوجانے والی پیچیدگیوں سے بچت ملتی ہے۔ کریلے نہ صرف بلڈ شوگر کم کرتے ہیں بلکہ ان میں اینٹی آکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں جو ہمیں جسم میں بننے والے نقصان دہ کیمیکلز سے بچاتے ہیں۔
کریلوں کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کے مریضوں میں شوگر خطرناک حد تک کم بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئیے ہر مریض کے لئیے ضرور ی ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی بلڈ شوگر چیک کریں اور دواؤں میں مناسب تبدیلی کرتے رہیں۔
چین میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق، کریلے کا بالکل باریک پاؤڈر بنا کر اسے مریضوں کو پانچ ہفتے تک دیا گیا تو ان کی بلڈ شوگر 21 ملی گرام فی ڈیسی لٹر سے کم ہوکر 12 گرام فی ڈیسی لٹر ہوگئی۔اور خون میں انسولین کا لیول بھی 40 سے گر کر 30 ہوگیا۔ اس کے علاوہ لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔1
انڈیا میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق جب چوہوں کی جلد پر کریلے سے تیار کئیے گئے چپکنے والے پلاسٹک کے پیس لگائے گئے تو دیکھا گیا کہ ان چوہوں کے خون میں شوگر کی مقدار کم ہو گئی۔2
کریلوں کے باقاعدہ استعمال سے بلڈ شوگر قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے ذیابیطس سے ہوجانے والی پیچیدگیوں سے بچت ملتی ہے۔ کریلے نہ صرف بلڈ شوگر کم کرتے ہیں بلکہ ان میں اینٹی آکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں جو ہمیں جسم میں بننے والے نقصان دہ کیمیکلز سے بچاتے ہیں۔
کریلوں کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کے مریضوں میں شوگر خطرناک حد تک کم بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئیے ہر مریض کے لئیے ضرور ی ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی بلڈ شوگر چیک کریں اور دواؤں میں مناسب تبدیلی کرتے رہیں۔

No comments:
Post a Comment